|

وقتِ اشاعت :   April 12 – 2018

کوئٹہ : وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت سی پیک منصوبے میں بلوچستان کو یکسر نظرانداز کررہی ہے 5 سو ارب روپے میں سے ایک ارب روپے بھی سی پیک منصوبے میں بلوچستان کے لئے خرچ نہیں کئے گئے ۔

نواز شریف کے دائیں اور بائیں کھڑے ہونے والے بلوچستان کے سیاستدانوں نے بلوچستان کی ترقی اورخوشحالی میں کوئی کردار ادا نہیں کیا خود کو جمہوریت کے چیمپئن بنے ہوئے ہیں لیکن 4 گزر گئے پارٹی کے اندر انتخابات نئی کرائے گئے اگر انٹرا پارٹی انتخابات کیا گیا تو دونوں پارٹیوں میں شدید اختلافات پیدا ہو جائیں گے ۔

اگر نواز شریف سینٹ میں جیت جاتے تو حاصل بزنجو کو شرم نہیں آتی ہمارے جتنے بھی ادارے ہیں یہ پورے ملک کے ادارے ہیں میں بہت خوش قسمت ہوں کہ لوگوں نے اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر مجھے ووٹ دیا اچھی بات ہے کہ جتنے ووٹ ملے تھے اتنے ہی گنے گئے تھے ملک کی تاریخ میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کئے لوگوں نے خوف کی فضاء میں ووٹ دیئے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایک نجی ٹی وی چینل سے بات چیت کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ ہمارے مقابلے میں (ن) لیگ کے امیدوار کو صرف ایک ووٹ ملا تھا لوگوں نے خوف کی فضاء میں بھی ووٹ ڈالا پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کئے تھے حلقہ کے آدھے لوگ خوف کی وجہ سے بیمار بھی ہو گئے تھے نوازشریف اور مریم نواز کو بلوچستان کی صورتحال کا علم نہیں ہے ہم سمجھتے ہیں کہ وہ جس طرح تنقید کررہے ہیں ۔

ان کی تنقید جمہوری روایات کے منافی ہے ہمیں 5 سو ووٹوں کو 50 ہزار بنانا نہیں آتا الیکشن کے دن کئی فوجی جوان زخمی اور شہید بھی ہوئے میں نے 544 ووٹ حاصل کئے تھے مجھے اس پر فخر ہے اور میں بہت خوش قسمت ہوں کہ لوگوں نے اپنی جان کی پروا کئے بغیر مجھے ووٹ دیا اچھی بات ہے کہ جتنے ووٹ ملے تھے اتنے ہی گنے گئے الیکشن کروانے کا مطلب یہ ہے ہم نے ہر جگہ پاکستان کا جھنڈا لہرانا ہے جن فرشتوں کی یہ بات کرتے ہیں ۔

وہ ہمیں نظر نہیں آتے ہمارے جتنے بھی ادارے ہیں یہ پورے ملک کے ادارے ہیں انہوں نے کہا کہ اگر نوازشریف سینٹ میں جیت جاتے تو حاصل بزنجو کو شرم نہیں آتی انہوں نے کہا کہ محمود خان اچکزئی جس جمہوریت کی بات کررہے ہیں اس جمہوریت پر خود نہیں اترتے 4 سال سے پارٹی الیکشن کمیشن میں معطل تھی اور آج تک پارٹی کے اندر انٹرا انتخابات نہیں کرائے گئے اگر انتخابات کرائے جائیں تو پارٹی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجائے گی ۔

انہوں نے کہا کہ محمود خان اچکزئی ہمارے لئے قابل احترام ہیں مگر جس طرح وہ دوسروں پر تنقید کرتے ہیں پہلے وہ خود جمہوریت کے علمبردار بنیں انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے سی پیک منصوبے میں بلوچستان کو مکمل نظرانداز کیا گیا اب تک 5 سو ارب روپے میں سے ایک ارب روپے بھی نہیں دیئے جس کی وجہ سے ہمیں خدشہ پیدا ہو رہا ہے ایسا نہ ہو بلوچستان کو مکمل طورپر نظرانداز کریں ۔

انہوں نے کہا کہ ہم بلوچستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا چاہتے ہیں انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے جس طرح چیئرمین سینٹ پر تنقید کی بلوچستان کے عوام سڑکوں پر نکل آئے اور بلوچستان میں مسلم لیگ (ن) ختم ہو چکی ہے ملک میں تب ترقی ہو گی جب تمام صوبوں کو اہمیت ملے گی ۔

انہوں نے کہا کہ سابقہ حکومتوں نے بلوچستان کی ترقی میں کوئی دلچسپی نہیں لی اگر ترقی ملی ہے تو صرف قلعہ عبداللہ اور تربت میں ترقی ہوئی ہے بلوچستان کے قوم پرستوں نے بلوچوں اور پشتونوں کو علیحدہ کرنے کی کوشش کی اور بلوچستان عوامی پارٹی دونوں قوموں کو ایک بار پھر ایک ساتھ بٹھا کر متحد کیا ہم سمجھتے ہیں کہ بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی بھی اسی میں ہے کہ ہم سب متحد ہو کر بلوچستان کو ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کریں ۔