کوئٹہ: وزیر اعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو نے کہا ہے براہمداغ بگٹی،حیربیامری سمیت باہر بیٹھے دوسروں کیلئے کام کرنے والے جان لیں کہ ان کے ملک دشمن عزائم م کامیاب نہیں ہوسکتے ،منظور پشتین اس وقت کہاں تھے جب ملک میں دہشتگردی کا راج تھا، دہشتگردی کے پیچھے وردی نہیں بلکہ منفی سوچ اور دماغ ہے ۔وہ ایف سی ہیڈکوارٹرز کوئٹہ میں ایف سی کے زیر اہتمام آپریشنل ایکسی لینس ایورڈ کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔
تقریب میں گزشتہ دو سالوں کے دوران ملکی سرحدوں پر اور اندرون ملک دہشگردی کے خلاف جنگ میں شریک پاک فوج، ایف سی اور پولیس کے 52افسران اور جوانوں کو ان کی بہادری کے اعتراف میں ایوارڈز تقسیم کئے گئے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو،اسپیکر بلوچستان اسمبلی راحیلہ درانی ،کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ ،آئی جی ایف سی بلوچستان میجر جنرل ندیم احمد انجم، وفاقی و صوبائی وزراء،ارکان قومی و صوبائی اسمبلی ، سیاسی و قبائلی عمائدین تقریب میں شریک تھے اور ان افسران اور اہلکاروں میں ایوارڈ تقسیم کئے۔ مختلف کارروائیوں کے دوران شہید ہونیوالے سیکورٹی اہلکاروں کے والدین بھی تقریب میں شریک تھے۔ ان کے ہاتھوں سے بھی کئی غازیوں کو ایوارڈذ دیئے گئے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو نے اس موقع ہر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان ،فاٹا اور ملک کے دیگر حصوں میں امن باتوں اور دعوؤں سے نہیں بلکہ فورسز کی قربانیوں کی بدولت قائم ہوا ہے ۔پاک فوج، ایف سی ، پولیس اور لیویز کے ایسے بہادر جوانوں اور غازیوں کے باعث ملک دشمنوں کے عزائم ناکام ہوئے ہیں جو اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر جرأت اور بہادری کے ساتھ فرائض انجام دیتے ہیں ۔
انہی کی وجہ سے ہمارے جان و مال محفوظ ہیں اور انہیں کوئی میلی نظر سے نہیں دیکھ سکتا۔ ایسے شہداء اور غازیوں کو سلام پیش کرتا ہوں انہوں نے کم مراعات اور تنخواہوں کے باوجود ملک اور عوام کے دفاع میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔فورسز کے اہلکار آٹھ آٹھ دن ایک ہی وردی پہن کر مسلسل آپریشنز کا حصہ ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ باہر بیٹھے ملک دشمن عناصر کے عزائم کی تکمیل کیلئے کام کرنے والے برہمداغ بگٹی اورحیر بیار مری جیسے لوگ جان لیں کہ اب بلوچستان اور ملک کے باشعور عوام کو اکسایا نہیں جاسکتا ۔لوگ دشمن اور دوست میں فرق جان چکے ہیں ۔ا ب کوئی قوم اور مذہب کے نام پر لوگوں کو ورغلا کر دہشتگردی نہیں کراسکتا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ بعض لوگ اسٹیج پر کھڑے ہوکر فوج کے خلاف باتیں کرتے ہیں جو ناقابل برداشت ہے ۔منظور پشتین اس وقت کہاں تھے جب پورا ملک دہشگردی کی لپیٹ میں تھا ۔فورسز نے جانیں قربان کرکے امن بحال کیا ،باتیں کرنا آسان ہے لیکن عملی میدان میں دہشتگردوں کے خلاف لڑنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دینے والے شہداء کے والدین سے پوچھیں کہ ان پر کیا گزر رہی ہیں۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ دہشتگردی کے پیچھے وردی کے نعرے لگانے والے دوسروں کا آلہ کار بننے کی بجائے اپنی فورسز کا بازو بنیں۔ دہشتگردی کے پیچھے وردی نہیں بلکہ منفی سوچ اور تخریبی دماغ ہے ۔عوام فوج پر بلا جواز تنقید اور منفی سوچ کو قبول نہیں کرینگے ۔اب لوگوں کو ملک کے خلاف ورغلایا اور اکسایا نہیں جاسکتا۔ہم نے منفی سوچ کو ختم کرنا ہے اور فورسز کے خلاف پنپنے والی سوچ کو کسی صورت بھی برداشت نہیں کر سکتے ۔
انہوں نے کہا کہ ملک کی ترقی اور استحکام کیلئے بلوچ پشتون سندھی اور پنجابی سب ایک اور صرف پاکستانی اور مسلمان ہیں اور یہی سب کی پہچان ہے۔ قومیت کی بنیاد پر سیاست ختم کرکے علاقے اور ملک ترقی پر توجہ دینا ہوگی۔
ماضی میں جس طرح عوام کو قومیتوں کے نام پر تقسیم کر کے ناقابل تلافی نقصان پہنچایا گیا ہے اس کا خمیازہ آج تک ہم بھگت رہے ہیں ۔منظور پشتین جیسے لوگوں میں ہمت ہے تو دہشتگردی اور ملک دشمن ایجنسی را کے خلاف بات کریں جن کے ہاتھ نہتے لوگوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔
ہم نے تو کبھی ان سے را اور ملک دشمنوں سے متعلق ایک لفظ نہیں سنا۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح پاک فوج، فرنٹیئر کور ، پولیس اور لیویز کے جوانوں کی بہتر حکمت عملی اور کاوشوں سمیت دہشت گردی اور ملک دشمن عناصر کی بیخ کنی میں موثر کردار ادا کرنے والے افسران اور اہلکاروں کی صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے انہیں ایوارڈ دے کر ان کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں ۔
یہ اچھا اور احسن اقدام ہے اس سے فورسز کا مورال بلند ہو گا اور وہ بہتر طور پر ملک دشمن عناصر اور دہشت گردوں کا مردانہ وار سے مقابلہ کر کے انہیں منطقی انجام تک پہنچائیں گے ۔ تقریب کو بتایا گیا کہ ایف سی کے763جوان اب تک فرائض کی انجام دہی کے دوران جام شہادت نوش کرچکے ہیں جبکہ2ہزار سے زائد اہلکار زخمی ہوئے۔
اس جرأت و بہادری کے اعتراف میں ایف سی بلوچستان 14ستارہ بسالت اور62تمغہ بسالت حاصل کرچکی ہے۔تقریب میں کوئٹہ، آواران، خضدار، قلات، مستونگ، پنجگور، تربت ، پشین، قلعہ عبداللہ، ژوب سمیت صوبے کے مختلف علاقوں میں ملکی سرحد کے دفاع اور دہشتگردوں کے خلاف کارروائیوں کے دوران جرأت و بہادری کے ساتھ فرائض انجام کے اعتراف میں 52افسران وا ہلکاروں کو ڈیگر آف آنر آپریشنل ایکسی لینس ایوارڈ سے نوازا گیا۔
ایوارڈ حاصل کرنے والوں میں ایف سی کے سیکٹر کمانڈر کوئٹہ بریگیڈیئر تصور ستار، سیکٹر کمانڈر نارتھ بریگیڈیئر ندیم سہیل،لیفٹیننٹ کرنل آغا سید علی حسنین،لیفٹیننٹ کرنل محمود ظفر عباسی، لیفٹیننٹ کرنل محمد زریر،لیفٹیننٹ کرنل مسود خان، لیفٹیننٹ کرنل کاشف بشیر، لیفٹیننٹ کرنل محمد اویس شمیم، میجر قاسم علی شیرازی، میجر محمد اویس شمیم، میجر عامر شاہ، میجر شجاعت ، میجر محمد عمر، میجر ولی خان مری، کیپٹن شاہد افضل ، کیپٹن عماد الدین،میجر زیست ولی ،صوبیدار جمیل، صوبیدار غلام خلیل، نائب صوبیدار رمضان،نائب صوبیدار عبدالوحید،حوالدار غلام شبیر، حوالدار افسر خان، حوالدار عابد،نائیک قسمت اللہ، نائیک فرمان اللہ،نائیک نذیر احمد، نائیک محمد سرفراز،نائیک گل جمیل، نائیک میر عباس، لانس نائیک محمد رمضان خان، لانس نائیک محمد قاسم، لانس نائیک عصمت اللہ،لانس نائیک عرفان علی ،لانس نائیک شاہ جہان خان، سپاہی فرمان اللہ، ایف سی سپاہی ساجد، سپاہی امتیاز، سپاہی شبیر، سپاہی شفاء اللہ، سپاہی سلیم خان، سپاہی وسیم اللہ، سپاہی خلیل اللہ،سپاہی مکمل شاہ ، سی ٹی ڈی پولیس انسپکٹر سلیم شاہوانی، سی ٹی ڈی انسپکٹر شاکر اللہ، پولیس سپاہی عبدالعزیز، پولیس سپاہی محمد عمران ،پولیس سپاہی قربان علی ،ا ے ٹی ایف پولیس کانسٹیبل منظور احمد ،پولیس کانسٹیبل شاہ جہان ،پولیس کانسٹیبل عزیز الرحمان شامل ہیں۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کی زیر صدارت منعقد ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس میں کوئٹہ ترقیاتی پیکج میں شامل سریاب روڈ اور جوائنٹ روڈ کی توسیع اور نواں کلی بائی پاس کی تعمیر کے منصوبوں پر آئندہ چند روز کے اندر عملدرآمد کے آغاز کا فیصلہ کرتے ہوئے پروجیکٹ ڈائریکٹر کو تمام تر انتظامات فوری طور پر مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ پیکچ میں شامل دیگر ترقیاتی منصوبوں پر فوری آغاز کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔
اجلاس میں کوئٹہ ترقیاتی پیکج،کیڈٹ کالج آواران، تربت بلیدہ روڈ، ایم ایٹ اور وزیراعلیٰ پیکج میں شامل ترقیاتی منصوبوں کی پیشرفت کا بھی جائزہ لیا گیااور متعلقہ حکام کی جانب سے اجلاس کو منصوبوں کے حوالے سے بریفنگ دی گئی کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے خصوصی طور پر اجلاس میں شرکت کی اور منصوبوں کی سیکیورٹی سمیت بلوچستان میں ایف ڈبلیو اور اور این ایل سی کے تحت سڑکوں کی تعمیر وتوسیع کے منصوبوں کی بروقت تکمیل کی یقین دہانی کرائی۔
اجلاس میں اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا گیا کہ صوبے میں امن کی بحالی سے ترقیاتی عمل اور سرگرمیوں پر عملدرآمد کی رفتار میں تیزی آئی ہے اور توقع ہے کہ یہ منصوبے مقررہ مدت میں پایہ تکمیل تک پہنچیں گے اور صوبے کے عوام ان سے فائدہ اٹھاسکیں گے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ کوئٹہ ترقیاتی پیکج پر عملدرآمد سے شہریوں کو صحت وصفائی، ماحولیات اور آمدورفت کی بہتر سہولتیں میسر آئیں گی اور شہر کی خوبصورتی میں بھی اضافہ ہوگا۔ لہٰذا ان منصوبوں پر فوراً عملدرآمد اور ان کی فوری تکمیل میں مزید تاخیر نہیں ہونے دی جائے گی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ این ایچ اے اور واپڈ ا کے صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں فنڈز کی کمی سمیت دیگر رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے وفاقی حکومت کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ ان منصوبوں میں تاخیر سے صوبے کے عوام میں احساس محرومی پیدا ہوا ہے۔
وزیراعلیٰ نے آواران میں کیڈٹ کالج کو اہم پیشرفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ کیڈٹ کالج کے قیام سے نہ صرف آواران کے بچوں کو تعلیم کے بہتر مواقع میسر ہوں گے بلکہ علاقے میں ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز بھی ہوگا۔
وزیراعلیٰ نے این ایچ حکام کو ہدایت کی کہ ایم ایٹ خضدار شہداد کوٹ سیکشن پر زیر تعمیر پلوں کی تعمیر جلد مکمل کی جائے جبکہ کمانڈر سدرن کمانڈ نے یقین دلایا کہ منصوبے پر کام کرنے والی کمپنی کو مکمل سیکیورٹی دی جائے گی۔
اجلاس میں صوبائی وزیر میر سرفراز بگٹی، چیف سیکریٹری بلوچستان اورنگزیب حق، ایڈیشنل چیف سیکریٹری (منصوبہ بندی وترقیات) نصیب اللہ بازئی، متعلقہ محکموں کے سیکریٹریز، کمشنر کوئٹہ ڈویژن جاوید شاہوانی، ڈی جی کیوڈی اے عمران زرکون، این ایچ اے، واپڈا اور ریلوے کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔
فورسز کی قربانیوں کے باعث بلوچستان میں امن قائم ہوچکا ہے، قدوس بزنجو
![]()
وقتِ اشاعت : April 20 – 2018