کوئٹہ : بلوچستان اسمبلی میں ضلع موسیٰ خیل کو حیوانات کا مرکز قرار دینے سے متعلق جبکہ ضلع موسیٰ خیل کو کنگری تا سنگر جو دو اہم شاہراؤں کو ملانے کا ذریعہ بنے گی سے متعلق دونوں قرار داد متفقہ طورپر منظور کر لی گئیں جبکہ مسیحی برادری کی ٹارگٹ کلنگ سے متعلق تحریک التواء کو بحث کے لئے منظور کیا گیا ۔
بلوچستان اسمبلی کا اجلاس آدھے گھنٹے کی تاخیر سے سپیکر راحیلہ حمیدخان درانی کی زیر صدارت شروع ہوا پشتونخوا میپ کے ڈاکٹر حامد اچکزئی نے کہا کہ بلوچستان پہلے ہی صحت کے شعبے کے حوالے سے بہت پسماندہ ہے اور جو توجہ دلاؤ نوٹس ایوان میں آیا ہے وقت مقر ر کریں اور بھی بہت سارے محرکات ہیں ان کو بھی سامنے لایا جائے اراکین اسمبلی نے توجہ دلاؤ نوٹس کو اہمیت کا حامل قرار دیا ۔
عطائی ڈاکٹروں سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس وزیر صحت کی یقین دہانی کے بعد نمٹادیاگیا قائد حزب اختلاف عبدالرحیم زیارتوال نے اپنی توجہ دلاؤ نوٹس میں کہاکہ 13مارچ2018ء کو ینگ ڈاکٹرز اور پیرا میڈکس کی ہڑتال سے متعلق میں نے تحریک التواء پیش کی تھی جس پر حکومت کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی کہ ہم یہ مسئلہ حل کریں گے اور اسمبلی کمیٹی نے سول ہسپتال میں ان کے مسائل حل کرنے کا اعلان بھی کیا تھا ۔
مورخہ10اپریل2018ء کو ایک مرتبہ پھر اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے پوائنٹ آف آرڈر پر یہ مسئلہ اٹھایا اور حکومت نے مسئلے کو حل کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی اور ساتھ ہی ایک کمیٹی تشکیل دی کمیٹی نے سول ہسپتال میں مذاکرات کئے اور مسئلے کے حل کا اعلان کیا لیکن مسئلہ اب تک جوں کا توں ہے حکومت نے ینگ ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکس کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے اب تک کیا اقدامات اٹھائے ہیں ۔
عبدالرحیم زیارتوال نے کہا کہ ینگ ڈاکٹرز کا مسئلہ دو مہینے گزرنے کے بعد بھی جوں کا توں ہے اس ہڑتال سے عوام کو شدید مشکلات درپیش ہیں انہوں نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملازمین سے ڈسپلن کے مطابق نوکری لے سرکاری مشینری سے کام لینا حکومت کی ذمہ داری ہے ۔
سرکاری ملازمین پبلک سرونٹ کی حیثیت سے عوام کے خادم ہیں اگر وہ تنخواہ بھی لیتے ہیں اور حکمرانی کا شوق بھی رکھتے ہیں تو یہ دونوں شوق بیک وقت پورے نہیں ہوسکتے ۔وزیر صحت میر عبدالماجد ابڑو نے کہا کہ ینگ ڈاکٹرز کے ساتھ گزشتہ دنوں صوبائی وزراء و اپوزیشن اراکین پر مشتمل کمیٹی نے ملاقات کی اور پھر اس کے بعد چیف جسٹس آف پاکستان نے سول ہسپتال کوئٹہ کا دورہ کیا ۔
دورے کے موقع پر چیف جسٹس نے ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن سے ملاقات کی اور ہڑتال ختم کرنے کے احکامات دیئے جس کے بعد سیکرٹری صحت ان کے جائز مطالبات پر سمری بنائی اور سمری کو چیف سیکرٹری کے پاس بھیجی سپیکر راحیلہ حمیدخان درانی نے کہا کہ گزشتہ روز ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے ملاقات کی چیف جسٹس کے احکامات اور وزیراعلیٰ بلوچستان کی ینگ ڈاکٹرز سے بات چیت کے بعد کیا ۔
صورتحال بنی جس پر وزیر صحت نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ اپنے محدود وسائل میں رہتے ہوئے ان کے جائز مطالبات حل کریں ۔اپوزیشن لیڈر عبدالرحیم زیارتوال نے کہا کہ ایک زمانے میں ہم ایک کشتی کے سواری تھے ہڑتال پہلے بھی ہوئی تھی ہم سمجھتے ہیں کہ ان تمام حالات کے باوجود ڈاکٹرز ڈیوٹی دیں ہم نے پچھلے اجلاس میں جو مطالبہ کیا تھا کہ ڈاکٹروں نے اوپی ڈیز بند کی ہیں ۔
او پی ڈیز کو بحال کرنے کے لئے حکومت ایسی حکمت عملی بنائے کہ عوام کو اس حوالے سے مشکلات کا سامنا نہ ہو وزیر زراعت شیخ جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ کوئی بھی لیڈی ڈاکٹر اندرون بلوچستان تعینات نہیں ڈاکٹروں کے لئے صوبائی حکومت نے ڈیڑھ ارب روپے کا اضافی بجٹ دے رہی ہے یہ اب برداشت نہیں کریں گے کہ جو بھی ہڑتال کرے اس کے مطالبات تسلیم کریں ۔
پہلے بھی میں نے حکومت کو خبردار کیا تھا کہ ڈاکٹروں کو مراعات نہ دی جائیں ہر کسی کے ہر مطالبے کی حمایت تو نہیں کرسکتے جو ہڑتال کرے گا اس کے خلاف اب سخت ایکشن لیا جائے اور اس سلسلے میں قانون سازی کی جائے اگر ڈاکٹرصحیح کام کریں تو ٹھیک ورنہ یہ ٹھیک نہیں کہ جو بھی مطالبہ کریں حکومت اسے تسلیم کرے اب جو بھی مطالبہ کرے اسے جیل میں ڈالا جائے مراعات کے باوجود ہڑتال سمجھ سے بالا تر ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ اب سرکاری ملازمین جو ہڑتال کرے گا ۔
اس کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے ۔نیشنل پارٹی کی ڈاکٹر شمع اسحاق نے کہا کہ احتجاج کرنا عوام کا حق ہے اور اس سے کوئی بھی اختلاف نہیں رکھ سکتا۔ سابق وزیر صحت رحمت صالح بلوچ نے کہا کہ صحت کا شعبہ انتہائی اہمیت کا حامل شعبہ ہے2013ء کے بعد ڈاکٹروں کے ساتھ بہت کچھ کیا مگر اس کے باوجود دوسرے اضلاع میں ڈاکٹرز ڈیوٹی کے لئے تیار نہیں ضلع موسیٰ خیل جانے والے ڈاکٹرز کو ڈیڑھ لاکھ روپے اضافی دے رہا تھا مگر پھر بھی وہ ڈیوٹی نہیں دے رہے تھے ۔
جب ڈپٹی کمشنر ز نے مانیٹرنگ شروع کی تو ہسپتالوں کی حالت بہتر ہوئی انہوں نے کہا کہ دس ارب روپے محکمہ صحت کے شعبے پر خرچ ہوئے جن میں7ارب روپے غیر ترقیاتی بجٹ ہے اورصرف تین ارب روپے ادویات اورمشینری کی مد میں ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ سفارشی کلچر کا خاتمہ کرنا چاہئے ۔بعد میں تحریک التواء کو مثبت حکومتی یقین دہانی پر نمٹادیا گیا ،اجلاس میں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے آغا سید لیاقت نے مشترکہ قرار داد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایک اندازے کے مطابق بلوچستان میں ایک لاکھ چالیس ہزار کے قریب مال مویشی پائے جاتے ہیں ۔
اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ برطانوی دور حکومت میں1901ء میں کی جانے والی مردم شماری کے مطابق ضلع موسیٰ خیل کی لائیوسٹاک کی تعداد تقریباً ایک لاکھ چالیس ہزار تھے جن میں نایاب قسم کے سفید اونٹ بھی شامل تھے جو نہ صرف اچھی قسم کا گوشت بلکہ اعلیٰ قسم کا دودھ بھی دیتے تھے ۔
اب ان مال مویشیوں کی تعداد لاکھوں میں پہنچ چکی ہے جس کی وجہ سے ضلع موسیٰ خیل کو مال مویشیوں کے حوالے سے صوبہ بھر میں ایک منفرد مقام حاصل ہے اس لئے صوبائی حکومت ضلع موسیٰ خیل کو حیوانات کا مرکز قرار دینے کے سلسلے میں عملی اقدامات اٹھائے ۔
قرار داد کی موزونیت پر بات کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر عبدالرحیم زیارتوال نے کہا کہ ہمارے صوبے کی معیشت میں لائیو سٹاک کا اہم کردار ہے اور مون سون کے علاقوں میں گلہ بانی زیادہ اہم ہے دوسری جانب موسیٰ خیل میں سالانہ 21انچ اوسطاً بارش ہوتی ہے ماضی میں موسیٰ خیل کو بھی وفاقی دارالحکومت بنانے کی تجویز تھی تاہم اسلام آباد میں دارالحکومت بنانے کافیصلہ ہوا موسیٰ خیل کے آس پاس شیرانی ، موسیٰ خیل ، بارکھان کوہ سلیمان کے علاقے میں واقع ہیں ۔
ان اضلاع میں مویشیوں کی تعداد بہت زیادہ ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ گلہ بانی کے حوالے سے سہولیات فراہم کی جائیں موسیٰ خیل میں جانوروں کا گوشت دنیا کا بہترین گوشت سمجھا جاتا ہے موسیٰ خیل کو گلہ بانی کے مرکز کے حوالے سے ترقی دی جائے کیونکہ یہاں دنیا کے نایاب اونٹ موجود ہیں۔
نیشنل پارٹی کے رحمت بلوچ نے قرار داد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اس میں ترامیم کرتے ہوئے موسیٰ خیل سمیت صوبے کے تمام اضلاع کو شامل کرتے ہوئے صوبہ بھر میں سروے کرایا جائے کہ جہاں جہاں نایاب جانور پائے جاتے ہیں وہاں ان کے تحفظ کے لئے اقدامات کئے جائیں جانوروں کے علاج معالجے کے لئے مراکز قائم کئے جائیں اور مالداروں کی حوصلہ افزائی کی جائے ۔
صوبائی وزیر لائیو سٹاک سید آغا رضا نے حکومت کی جانب سے قرار داد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر کے لائیو سٹاک کا 48فیصد صرف بلوچستان میں ہے یہاں سے ہمسایہ ممالک بھی جانور لیجائے جاتے ہیں اس کے باوجود گزشتہ دس سال کے دوران بلوچستان میں مختلف جانوروں کی تعداد میں پانچ لاکھ کا اضافہ ہوا ہے میں ژوب اور موسیٰ خیل کے سواء اب تک پورے صوبے کا دورہ کرچکا ہوں اور اس حوالے سے ایک جامع پالیسی بنارہے ہیں ۔
ارکان اپنی تجاویز دیں ہم انہیں بھی شامل کریں گے۔ جدید ریسرچ سینٹر قائم کئے جائیں گے ۔ اس موقع پر عبدالرحیم زیارتوال نے ایوان کو بتایا کہ 2017ء کی مردم شماری کے بعد موسیٰ خیل میں22لاکھ 54ہزار 193جانور موجود ہیں ۔
اس موقع پر سپیکر نے عبدالرحیم زیارتوال کی وضاحت اور رحمت بلوچ کی ترامیم کے ساتھ قرار دادکو منظوری کے لئے ایوان کے سامنے رکھا جس کی ایوان نے متفقہ طو رپر منظوری دے دی ۔
صوبائی حکومت کی جانب سے وزیر داخلہ و قبائلی امور میر سرفراز بگٹی نے قرار داد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ 24اپریل کو وفاقی پی ایس ڈی پی کے حوالے سے اسلام آباد میں اجلاس ہورہا ہے جس میں میں رکن کی حیثیت سے شرکت کروں گا لہٰذا اس قرار داد کو منظور کرنے کے بعد مجھے 24تاریخ سے قبل یہ قرار داد دی جائے اسے فیڈرل پی ایس ڈی پی میں شامل کرانے کی ہر ممکن کوشش کریں گے ۔
بعدازاں ایوان نے قرار داد متفقہ طو رپر منظور کرلی۔پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے نصراللہ زیرئے نے تحریک التواء پیش کرتے ہوئے کہا کہ بروز اتوارعیسیٰ نگری سبزل روڈ کوئٹہ میں دہشت گردوں کی جانب سے فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے دو افراد ہلاک تین زخمی ہوئے ۔
جو کہ ایک انسانیت سو واقعہ ہے دنیا کا کوئی بھی مذہب نہتے لوگوں خو مارنے اور ہلاک کرنے کی اجازت نہیں دیتا اس افسوسناک واقعے سے چند روز قبل بھی مسیحی برادری کو نشانہ بنایا گیا تھا صرف ایک مہینے کے دوران اب تک چھ بے گناہ افراد مارے جاچکے ہیں ۔
مسیحی برادری پر مسلسل کئے جانے والے دہشت گردانہ حملوں کا مقصد ایک منظم سازش کے تحت صوبے کے پرامن ماحول کو خراب کرنا ہے دہشت گردوں کی جانب سے ملکی سالمیت کے خلاف ایک خوف کا ماحول پیدا کیا گیا ہے اس لئے ایوان کی کارروائی روک کر اس اہم نوعیت کے مسئلے کو زیر غور لایا جائے ۔
تحریک التواء کی موزونیت پر بات کرتے ہوئے پشتونخوا میپ کے ولیم جان برکت نے کہا کہ پچھلے پانچ ماہ کے دوران مسیحی برادری 13افراد ہلاک67زخمی ہوئے یہ لمحہ فکریہ ہے ۔
انہوں نے کہاکہ دسمبر2017ء میں عبادت گاہ پر حملہ ہوا اور اب یہ جو حالیہ واقعات ہیں یہ عام آبادیوں میں ہوئے یہ تشویشناک بات ہے اقلیتیں خصوصاً مسیحی برادری شہر میں مکس آبادیوں میں رہ رہی ہے اگراس حوالے سے ابھی سے کوئی لائحہ عمل نہیں بنایا گیا تو ہمیں خدشہ ہے کہ یہ سلسلہ بڑھ جائے گا۔
اس لئے اس حوالے سے اداروں کے ساتھ مل کر پالیسی وضع کی جائے اور یہ ایوان اس حوالے سے اپنا موثر کردار ادا کرے جو کوئٹہ کے ہرشہری کے لئے فائدہ مند ہو گا۔پشتونخوا میپ کے آغا سید لیاقت نے کہا کہ تحریک التواء اہمیت کی حامل ہے مسیحی برادری کی ٹارگٹ کلنگ ایک انتہائی حساس مسئلہ ہے کوئٹہ کے بعد پشین میں بھی مسیحی برادری کے افراد میں خوف کا ماحول ہے ۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب اور نسل نہیں ہے وہ صرف حالات خراب کرنے کے لئے کبھی کسی کمیونٹی کو نشانہ بناتی ہے توکبھی کسی اور کمیونٹی کو ٹارگٹ کرتی ہے ۔ نیشنل پارٹی کے رحمت صالح بلوچ نے کہا کہ ہم بلوچستان عوامی کی جانب سے انسانیت دشمن واقعات کی مذمت کرتے ہیں ہم یکجہتی اور برادرانہ ماحول چاہتے ہیں ہم ایک ہیں انسانیت پر یقین رکھتے ہیں ایک مہینے کے دوران مسیحی برادری کے چھ لوگ مارے گئے یہ ایک کمیونٹی پر نہیں بلکہ ریاست پر حملہ ہے ۔
انہوں نے کہا کہ امن کے لئے فورسز کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں فورسز کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی حکومت ان لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کرے جو بدامنی پیدا کرنا چاہتے ہیں حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ کرکے اراکین کو ان کیمرہ بریفنگ دے ۔
صوبائی وزیر داخلہ و قبائلی امورمیر سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت کی جانب سے تحریک التواء کی حمایت کرتے ہیں تمام اراکین واقعات کا ذکر تو کرتے ہیں لیکن مثبت تجاویز بھی دیں کہ حالات کو کس طرح کنٹرول کرنا ہے 60ہزار لوگوں نے قربانیاں دی ہیں ہر قوم قبیلے اور مذہب کے لوگوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دی ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ فورسز کو مضبوط کیا جائے علمائے اور پارلیمنٹرین اس معاملے میں کیا کردار ادا کرسکتے ہیں اس پر بات کی جائے مذہبی اور دہشت گرد تنظیمیں کارروائیاں کرتی ہیں اپوزیشن ہمیں سپورٹ کرے ایک دن مقرر کیا جائے ہم ان کیمرہ بریفنگ دیں گے ۔
بعض اراکین70ء اور80ء کے واقعات کا ذکر کرتے ہیں ماضی میں جو ہوا غلط ہوا ہے اب یہ لڑائی پارلیمنٹ سے لڑی جائے گی اور دہشت گردی کو ختم کرنے کے لئے جرگے تشکیل دیئے جائیں ہزارہ کمیونٹی کے بعد مسیحی برادری کو تھریٹ ہے ۔
اپوزیشن لیڈر عبدالرحیم زیارتوال نے کہا کہ دہشت گردی کے معاملے پر اپوزیشن حکومت کے ساتھ ہے دہشت گردی ایک ناسور ہے جس کے خلاف اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے اور اس کے لئے حکومت کے ساتھ اپوزیشن ہر تعاون کے لئے تیار ہے ۔
بعدازا ں سپیکر نے ایوان کی مشاورت سے تحریک التواء کو بحث کے لئے منظ46ر کرتے ہوئے آئندہ اجلاس میں مذکورہ تحریک التواء پر بحث کی رولنگ دی ۔اجلاس میں جے یوآئی کے رکن سردار عبدالرحمان کھیتران نے کہا کہ گزشتہ دنوں نصیرآباد میں ایک پولیس اہلکار نے ایک لڑکی کو چار دن تک حبس بے جا میں رکھا اور ان کے ساتھ جو کیا وہ سب جانتے ہیں ۔
اب کیس کو مختلف طریقوں سے دبانے کی کوشش کی جارہی ہے بلوچستان کی رویات ان چیزوں کی اجازت نہیں دیتیں دوسرا واقعہ گزشتہ دنوں سول ہسپتال کوئٹہ میں پیش آیا جہاں بارکھان سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو بچے کے ہراساں کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا ۔
اس پر پولیس کی جانب سے تشدد کی گئی مگر جو رپورٹ آئی اس کے مطابق اس کے ساتھ کچھ نہیں کیا گیا تھا ۔اجلاس میں وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ نصیرآباد واقعے پر پولیس تفتیش کررہی ہے اس گھناؤنی حرکت میں جو بھی ملوث ہوگا اس کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا۔
پینل آف چیئر مین کی رکن یاسمین لہڑی نے کہا کہ پولیس ایک مقدس فورس ہے مگر جو لوگ اس طرح کے واقعات میں ملوث ہوں گے ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے اپوزیشن رکن سردار عبدالرحمان کھیتران نے کہا کہ نصیرآباد کیس کو کرائم برانچ کے حوالے کیا جائے ۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ جب دوسرا فریق تفتیش سے مطمئن نہ ہو تو پھر فریق کی درخواست پر کرائم برانچ کے حوالے کیا جائے ۔ چیئر پرسن یاسمین لہڑی نے کہا کہ متاثرہ خاندان نے درخواست دی ہے کہ کیس کو کرائم برانچ کے حوالے کیا جائے ۔
بلوچستان اسمبلی اجلاس، ضلع موسیٰ خیل کو حیوانات کا مرکزقرار دینے کی قرار داد منظور
![]()
وقتِ اشاعت : April 20 – 2018