|

وقتِ اشاعت :   April 21 – 2018

کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کی زیرصدارت منعقد ہونے والے صوبائی کابینہ کے اجلاس میں مالی سال 2018-19ء کا صوبائی بجٹ 8مئی کو پیش کرنے کی منظوری دی گئی ہے جبکہ اس بات کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے کہ جاری مالی سال کے ترقیاتی فنڈز کا اجراء 27اپریل کو روک دیا جائے گا جبکہ تمام محکموں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ آئندہ مالی سال کے لئے اپنے ترقیاتی منصوبے یکم مئی تک محکمہ منصوبہ بندی وترقیات کو بھجوادیں۔ 

ایڈیشنل چیف سیکرٹری محکمہ منصوبہ بندی وترقیات نصیب اللہ بازئی اور سیکریٹری خزانہ قمر مسعود نے کابینہ کو رواں مالی سال کی پی ایس ڈی پی میں شامل منصوبوں کی پیشرفت ، مالی صورتحال اور آئندہ مالی سال کے مجوزہ بجٹ کے خدوخال سے آگاہ کیا۔ 

کابینہ نے صوبے کے ترقیاتی اورمالی امور اور آئندہ مالی سال کے مجوزہ بجٹ کے حوالے سے تجاویز پر تفصیلی غوروخوض کرتے ہوئے محکمہ منصوبہ بندی وترقیات اور محکمہ خزانہ کو کابینہ کی تجاویز کی روشنی میں آئندہ مالی سال کے بجٹ کی تیاری کی ہدایت کی۔ 

کابینہ میں اس بات سے مکمل اتفاق پایا گیا کہ آئندہ مالی سال کا بجٹ متوازن اور عوام دوست بنایا جائے گا جس میں عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے اور تمام شعبوں میں عوامی مفادات کے اجتماعی منصوبوں کو ترجیح دینے کی پالیسی کو اپنایا جائے گا۔ صوبائی کابینہ نے صوبے کے گوداموں میں موجود گندم کو مقرر کردہ نرخوں پر اوپن مارکیٹ پالیسی کے تحت فروخت کرنے کی منظوری بھی دی۔

اس اقدام کا مقصد گوداموں میں موجود گندم کو خراب اور ضائع ہونے سے بچانے کے ساتھ ساتھ عوام کو رمضان المبارک کے دوران سستے داموں گندم اور آٹے کی فراہمی کو یقینی بنانا بھی ہے۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ موجودہ حکومت نے قلیل مدت میں عوام کو مختلف شعبوں میں ریلیف دینے کی بھرپور کوشش کی ہے جس کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں اور ہماری کوشش ہوگی کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں بھی عوامی فلا ح وبہبود کے ایسے منصوبے شامل ہوں جن سے عوام کو تعلیم، صحت، آبنوشی، مواصلات اور زندگی کی دیگر بنیادی سہولتیں ان کی دہلیز پر دستیاب ہوسکیں۔ 

ہم ایک فلاحی بجٹ دے کر جائیں گے جس میں انفرادی کے بجائے اجتماعی نوعیت کے منصوبوں کو ترجیح حاصل ہوگی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ مختلف اہم امور پر صوبائی کابینہ میں مکمل اتفاق رائے سے فیصلے کئے جارہے ہیں جو نہایت خوش آئند ہے اور حکومتی فیصلوں سے عوام کا حکومت اور اداروں پر اعتماد مضبوط ہوا ہے۔ اس اعتماد کو ٹھیس نہیں لگنے دی جائے گی اور ہم خلوص نیت کے ساتھ اپنی تمامتر صلاحیتیں مسائل کے حل کے لئے بروئے کار لاتے رہیں گے۔

دریں اثناء وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا ہے کہ بلوچستان حالت جنگ میں رہا ہے، دہشت گردی نے تعلیم کے شعبہ کو بہت نقصان پہنچایاجبکہ ماضی میں تعلیم کا شعبہ سیاست کی نظر اور حکومتوں کی عدم توجہی کا شکار بھی رہا جس سے بلوچستان تعلیم کے شعبہ میں دیگر صوبوں سے بہت پیچھے رہ گیا تاہم اب صورتحال بہتر ہے حکومت اپنی بساط کے مطابق اس شعبہ کی ترقی کے لئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ 

ان خیالات کا اظہار انہوں نےAmerican Lycetuff Pre-School کی منیجنگ ڈائریکٹر میڈم ذیشان ضیاء راجہ سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ صوبائی وزیر سردار سرفراز ڈومکی اورچیف سیکریٹری بلوچستان اورنگزیب حق بھی اس موقع پر موجود تھے۔ 

میڈیم ذیشان ضیا راجہ نے وزیر اعلیٰ کو اپنے ادارے کے حوالے سے بریفینگ دی اور بلوچستان میں تعلیم کی صورتحال پرتبادلہ خیال کیا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ ماضی میں تعلیم کے شعبہ کو مکمل نظراندازکیا گیا، تعلیمی اداروں میں بھرتیاں میرٹ کی بجائے سیاسی بنیادوں پرہونے کی وجہ سے میرٹ کا استحصال ہوا اور قابل اور ذہین لوگ سامنے نہیں آ سکے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کو وسیع رقبہ ، منتشر آبادی اور وسائل کی کمی کی وجہ سے مختلف چیلنجز کا سامنا رہا ہے، ستر کی دہائی میں باہر سے آئے ہوئے اساتذہ کو بے دخل کیا گیا اور گذشتہ ایک دہائی سے جاری انسرجنسی نے تعلیم کے شعبے کو بہت نقصان پہنچایا۔ 

وزیراعلیٰ نے کہا کہ محدود وسائل کے باوجود حکومت کی کوشش ہے کہ تعلیم کے شعبہ کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کیا جائے، مختلف اضلاع میں کیڈٹ کالج اور ریزڈینشل کالج بنائے گئے ہیں، تعلیم اور صحت کے بجٹ میں اضافہ کیا گیا جبکہ اساتذہ کو بہتر مراعات کے ساتھ ساتھ ان کی استعداد کار کو بڑھانے اور تربیت فراہم کرنے کے لئے بھی اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔ 

وزیراعلیٰ نے کہا کہ تعلیم کے شعبہ سے وابستہ اساتذہ کو بھی صوبے میں تعلیم کے فروغ میں کردار ادا کرنا ہوگا، تعلیم میں سفارش کی حوصلہ شکنی اور یونین بازی سے باہر آناہوگا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ درس وتدریس ایک مقدس پیشہ ہے لیکن اداروں کی ناقص صورتحال کی وجہ سے قابل اور ذہین لوگ اس شعبہ میں نہیںآ رہے۔ 

وزیراعلیٰ نے کہا کہ تعلیم اور صحت سے وابستہ افراد کی کوشش ہے کہ وہ شہروں میں ڈیوٹیاں دیں، تاہم اب ہم یہ رجحان ختم کررہے ہیں۔ اساتذہ اور ڈاکٹروں کو اپنے علاقوں میں تعلیم اور صحت کے شعبے میں خدمات انجام دینے کا پابند کیا جارہا ہے تاکہ ہمارے بچے پڑھ لکھ کر صوبے اور ملک کا نام روشن کرسکیں۔ 

وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ کم وقت میں جتنا ہوسکے تعلیم اور دیگر اہم شعبوں میں بہتری لاسکیں۔ میڈیم ذیشان ضیا راجہ نے وزیراعلیٰ بلوچستان کے تعلیم کے شعبہ میں اٹھائے گئے اقدامات کو سراہتے ہوئے بلوچستان میں اساتذہ کی تربیت اور استعداکار بڑھانے میں رضاکارانہ طور پر کام کرنے کی خواہش ظاہر کی اور یقین دلایا کہ ان کا ادارہ بلوچستان میں تعلیم کے فروغ کے لئے ہر ممکن معاونت فراہم کرے گا۔