|

وقتِ اشاعت :   April 30 – 2018

کوئٹہ:  صوبائی وزیرداخلہ میر سرفراز بگٹی اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کے خلاف احتجاج کرنے والے ہزارہ قوم کے افراد کے درمیان مذاکرات ناکام ہوگئے۔

تفصیلات کے مطابق ہزارہ قوم سے تعلق رکھنے والی خواتین اور نوجوانوں نے ہزارہ قوم کے افرادکی ٹارگٹ کلنگ کے خلاف پریس کلب کے سامنے احتجاجی کیمپ لگارکھا ہے صوبائی وزیرداخلہ نے اتوار کی رات کیمپ میں بیٹھے مظاہرین سے مذاکرات کئے جو ناکام ہوگئے ۔

مظٖاہرین نے آرمی چیف کی کیمپ آمد تک اپنا احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیاجس کے بعد وزیرداخلہ میر سرفراز بگٹی و اپس چلے گئے۔اس موقع پر ڈی آئی جی کوئٹہ عبدالرزاق چیمہ ،ڈپٹی کمشنر کوئٹہ فرخ عتیق ، اسسٹنٹ کمشنر کوئٹہ سٹی بتول اسدی بھی انکے ہمراہ موجود تھیں۔

دریں اثناء وزیرداخلہ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان کنفلکیٹ زون ہے یہاں دہشت گردی کے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں سیکورٹی فورسز نے جانفشانی سے کام کرتے ہوئے بلوچستان میں امن قائم کیا ہے کچھ لوگ ہزارہ برادری کے افراد کو ورغلا کر انہیں استعمال کرنا چاہتے ہیں ۔

ہزارہ برادری کی ٹارگٹ کلنگ کا مسئلہ صوبائی ہے اسے پی ٹی ایم سے جوڑ کر غلط رنگ دیا جارہا ہے ۔یہ بات انہوں نے اتوار کی رات کوئٹہ پریس کلب کے سامنے ہزارہ برادری کی جانب سے لگائے گئے احتجاجی کیمپ میں مذاکرات کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہی ۔

اس موقع پر ڈی آئی جی کوئٹہ عبدالرزاق چیمہ ،ڈپٹی کمشنر کوئٹہ فرخ عتیق ، اسسٹنٹ کمشنر کوئٹہ سٹی بتول اسدی بھی انکے ہمراہ موجود تھیں۔وزیرداخلہ سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلو چستان سے 100کلو میٹر دور ایک ایسا بارڈر واقع ہے جہاں سے دہشت گرد پاکستان میں کارروائیا ں کر رہے ہیں اورانہیں مختلف ریاستوں کی سرپرستی حاصل ہے دہشت گرد ہمارے معصوم لوگوں کو قتل کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج ہزارہ برادری کے افراد کی ٹارگٹ کلنگ کے لئے ہورہا ہے انکی خواتین اور مردوں سے زیادہ یہاں وہ لوگ موجود ہیں جو آج سوات میں جلسے کر رہے ہیں اورانکابیانیہ کیا ہے وہ آئین کی بات کرتے ہیں آئین میں واضح لکھا ہے کہ ریاست مخالف سرگرمیاں نہیں کرسکتے لیکن میرے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے دوست جو اپنے آپ کو سیاسی ورکر کہتے ہیں وہ خود انکے ساتھ ہیں جوکہ غلط بات ہے ہم اسکی مذمت کرتے ہیں ۔

ہم ہزارہ برادری کی بہنوں کے ساتھ مذاکرات کرنے آئے تھے اور آئندہ بھی کرینگے ہماری کوشش ہے کہ بلوچستان میں جو امن و امان بحال ہوا ہے ہم اسے برقرار رکھیں ٹارگٹ کلنگ ہمارا مقامی مسئلہ ہے ہم اسے اپنے طور پر حل کریں گے اسے پی ٹی ایم کے ساتھ کیوں جوڑا جارہا ہے ۔

سرفراز بگٹی نے کہا کہ وہ پی ٹی ایم کے ایجنڈے پر تبصرہ نہیں کریں گے کہ انکا کیاایجنڈا ہے وزیرستان کی ایجنسی کا مسئلہ ہزارہ برادری سے کیوں جوڑا جارہا ہے اس سے کون منسلک کر رہا ہے اور پاکستان مخالف بیانیے کا پرچار کیوں کیا جارہا ہے اس پر مجھے تشویش ہے ۔

انہوں نے کہا کہ جب بھی ہزارہ برادری پر دکھ سکھ آیا ہم انکے ساتھ کھڑے تھے اب وہ دور نہیں ہے کہ جب وہ لاشیں رکھ کر احتجاج کر رہے ہوتے تھے اورانکے ساتھ کوئی نہیں ہوتا تھا ۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے دہشت گردوں اور ٹارگٹ کلرز کا تعاقب کرکے انہیں گرفتار کیا ہے گزشتہ روز بھی ایک ٹارگٹ کلر پکڑا ہے جتنے بھی بڑے واقعات ہوئے ان میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا گیا ہے اور اس میں ملوث دہشت گردوں کو سامنے لائیں گے۔ 

انہوں نے بتایا کہ احتجاج کرنے والوں کا مطالبہ ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ آئیں اوران سے مذاکرات کریں میں اس معاملے میں کچھ نہیں کہہ سکتا ۔