|

وقتِ اشاعت :   May 2 – 2018

کوئٹہ: آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے مختلف وفد سے ملاقات اور یقین دہانی کے بعد ہزارہ برادری کے عمائدین نے دھرنا اور بھوک ہڑتال ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

اس سے قبل جلیلہ حیدر نے کہا تھا کہ جب تک پاکستان فوج کے سربراہ ان کے کیمپ میں نہیں آئیں گے تب تک ان کی تادمِ مرگ بھوک ہڑتال جاری رہے گی۔ تاہم دو مئی کو رات تین بجے کے قریب پاکستان کے وزیرِ داخلہ احسن اقبال ایڈووکیٹ جلیلہ حیدر کے کیمپ میں پہنچ گئے۔

احسن اقبال نے جلیلہ حیدر اور ان کے ساتھ تادمِ مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھی ٹارگٹ کلنگ سے متاثرہ دوسری خواتین سے مذاکرات کیے جس کے بعد انھیں نے ان خواتین کو جوس پلا کر ان کی بھوک ہڑتال ختم کی اور انھیں اپنے ساتھ لے کر کوئٹہ چھاؤنی کی طرف روانہ ہو گئے۔

ادھر بی این پی کے رہنماؤں نے بھی تادم مرگ بھوک ہڑتال ختم کر دی ہے اور احتجاجی ارکان اپنا سامان لپیٹ کر چلے گئے ہیں۔

جنرل قمر باجوہ کوئٹہ میں امن و امان کی صورت حال کا جائزہ لینے اور ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے عمائدین اور سیاسی رہنماؤں سے ملاقات کے لیے منگل کی شب کوئٹہ پہنچے تھے۔

کوئٹہ پہنچنے کے بعد جنرل باجوہ نے کوئٹہ کینٹ میں ہزارہ برادری کے عمائدین اور مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں سے ملاقات کی جو رات گئے تک جاری رہی۔

اس موقعے پر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبد القدوس بزنجو، وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال، صوبائی وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی اور کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ کے علاوہ دیگر اعلیٰ سویلین اور فوجی حکام بھی موجود تھے۔

کوئٹہ کینٹ میں ہونے والی ملاقات کے بعد پاکستانی ذرائع ابلاغ نے سرکاری ذرائع کے حوالے سے خبر دی کہ اس ملاقات کے بعد ہزارہ عمائدین احتجاج ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے، تاہم جلیلہ حیدر کا دھرنا جاری رہا جو احسن اقبال سے مذاکرات کے بعد ختم کر دیا گیا۔

جلیلہ حیدر کے کیمپ میں رات گئے تک لوگوں کی ایک بڑی تعداد بھی موجود تھی۔

ان کے بقول ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں تین ہزار خواتین بیوہ ہوئی ہیں اس لیے فوج کے سربراہ کو ان کی بات سننی چاہیے۔

واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے کوئٹہ میں ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد کی ٹارگٹ کلنگ کے خلاف قبیلے کے افراد نے احتجاج کا سلسلہ شروع کیا تھا۔

اس سلسلے میں نہ صرف شہر صرف مختلف علاقوں میں احتجاجی دھرنا دیا گیا تھا بلکہ پریس کلب کے باہر دو علیحدہ علیحدہ کیمپوں میں تادم مرگ بھوک ہڑتال بھی شروع کی گئی تھی۔