|

وقتِ اشاعت :   May 3 – 2018

انڈیا کی شمالی ریاستوں راجستھان اور اترپردیش میں آنے والے طوفان گردوباد میں کم از کم 95 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو گئے ہیں۔

بدھ کی شب آنے والی گرد آلود آندھی سے بڑے پیمانے پر علاقے میں بجلی منقطع ہو گئی، بڑے بڑے درخت اکھڑ گئے، مکانوں کی چھتیں اڑ گئیں اور اس کی زد میں آ کر بہت سے مویشی بھی ہلاک ہو گئے۔

بہت سے لوگ اپنے گھروں میں سو رہے تھے جب آسمانی بجلی ان کے گھر پر آن گری اور وہ ہلاک اور زخمی ہوئے۔

اس علاقے میں موسم گرما میں ایسی آندھیاں عام طور پر آتی ہیں لیکن اتنی ہلاکتیں غیر معمولی ہیں۔

یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے انڈیا کی جنوبی ریاست آندھرا پردیش میں محض 13 گھنٹوں کے دوران 36 ہزار 749 بار آسمانی بجلی گرنے کے واقعات ریکارڈ کیے گئے تھے۔

ریاستی حکام کا کہنا تھا کہ آسمانی بجلی گرنے کے واقعات غیر معمولی ہیں اور اس کی وجہ شدید موسمی پیٹرن ہے۔

آسمانی بجلی گرنے کے واقعات میں ایک نو سالہ بچی سمیت نو افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اتر پردیش میں 64 افراد ہلاک ہوئے جن میں سے 43 ڈسٹرکٹ آندھرا پردیش میں ہوئی جہاں تاج محل بھی وااع ہے۔

اس آندھی سے راجستھان کے تین اضلاع الور، بھرت پور اور دھول پور زیادہ متاثر ہوئے ۔ حکام کا کہنا ہے کہ الور سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے اور اس ضلعے میں سکول بند کر دیے گئے ہیں۔لائن

’مزید طوفان آ سکتے ہیں‘

انڈیا میں محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ سنیچر کو بھی علاقے میں طوفان کا امکان ہے۔

خیال رہے کہ راجھتسان کے تین اضلاع متاثر ہوئے ہیں اور یہ ملک میں سیاحت اور ثقافت کے حوالے سے سب سے زیادہ معروف ریاست ہے۔

محکمہ موسمیات کا کہنا ہے یہ صورتحال شمالی میدانوں میں مشرقی اور مغربی موسمیاتی سسٹم کے ٹکراؤ کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔

چرن سنگھ جو کہ محکمہ موسمیات میں سائیسندان ہیں کا کہنا ہے اگرہ میں ہوائیں 132 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی تھیں جبکہ دہلی میں یہ رفتار 59 کلومیٹر فی گھنٹہ تھی۔

راجستھان کی وزیرِاعلیٰ وسندھرا راجے نے کہا کہ امدادی کاموں کے لیے حکام متاثرہ علاقے کی جانب روانہ ہو گئے ہیں۔

ریاستی وزیر یوگی ادتیانات نے متعلقہ حکام سے کہا ہے کہ وہ امدادی کارروائیوں کی نگرانی کریں۔

ریلیف کمشنر سنجے کمار نے خبر رساں ادارے پی ٹی آئی سے کہا ہے کہ ریاستی حکومت نے متاثرہ اضلاع کی تفصیلات طلب کر لی ہیں۔انڈیا

ریاستی حکومت نے ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ کے لیے چار لاکھ معاوضے کا اعلان کیا ہے۔

درخت اور دیواریں گرنے سے بہت سے لوگوں کی موت ہوئی ہے۔

ہلی میں بھی آندھی کے اثرات نظر آئے وہاں شام کو 100 کلو میٹر کی رفتار سے ہوائیں چلیں اور بارش کے سبب راجستھان رائلز اور دلی ڈیئر ڈیولز کا آئي پی ایل کا ميچ بھی متاثر ہوا۔

راجھستان قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے میں سیکریٹری ہمنت گیرا نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کو یہاں کام کرتے ہوئے 20 سال بیت چکے ہیں اور یہ سب سے بدترین صورتحال ہے۔‘انڈیا

ان کا کہنا تھا کہ 11 اپریل کو بھی اسی طرح کا طوفان آیا تھا جس کے نتجے میں 19 افراد ہلاک ہوئے تھے لیکن اس مرتبہ طوفان رات کو آیا ہے جب بہت سے لوگ سو رہے تھے اور جب ان کے گھروں کی کچی دیواریں گریں تو وہ گھر سے نہیں نکل سکے۔

ان کا کہنا ہے کہ بجلی کی بحالی کی کوششیں کی جارہی ہےں ار علاقے میں اب تک 200 سے 300 بجلی کے کھمبے گر چکے ہیں۔

اس طوفان میں 100 کلومییر کی رفتار سے ہوائئں چل رہی تھیں جس کے بعد شدید بارش ہوئی۔