کوئٹہ: بلوچستان کے نئے مالی سال 2018-19کیلئے352 ارب روپے سے زائد کا بجٹ پیش کردیا گیا۔ تنخواہوں اورغیرترقیاتی اخراجات کی مد میں264ارب، ترقیاتی منصوبوں کیلئے 88ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔بجٹ میں تقریباً 62ارب روپے کا ریکارڈ خسارہ ظاہر کیا گیا۔
تنخواہوں اور پنشن میں 10فیصد اضافے،8ہزار نئی آسامیوں ،کوئٹہ میں کینسر ہسپتال، ڈینٹل کالج،نصیرآباد میں زرعی یونیورسٹی اورمیڈیکل کالج کی تعمیراور1200کلومیٹر نئی سڑکیں بنانے کا اعلان کیا گیا ہے۔
سول ہسپتال کوئٹہ کو نئے سرے سے تعمیر کرنے کیلئے تین ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ ایک ارب روپے کی لاگت سے وزیراعلیٰ ہیلتھ انشورنس پروگرام شروع کیا جائیگا۔چھت سے محروم سکولوں کو عمارات کی فراہمی کیلئے ڈیڑھ ارب ،معذوروں کو وظیفہ دینے کیلئے پچاس کروڑ اورلیپ ٹاپ اسکیم کیلئے پچاس کروڑ روپے مختص کئے جائیں گے۔
غیر ترقیاتی بجٹ میں اعلیٰ و ثانوی تعلیم کیلئے52ارب،امن وامان کیلئے34، محکمہ زراعت کیلئے 8ارب 70کروڑ روپے ،معدنیات کیلئے 2ارب ،لائیواسٹاک کیلئے تقریباََ 4ارب روپے ،محکمہ اب پاشی کیلئے 2ارب 80کروڑروپے ، محکمہ ایری گیشن کیلئے 3ارب اسی کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں ۔
تفصیلات کے مطابق پیر کو اسپیکر راحیلہ حمید درانی کی زیر صدارت بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں خاتون مشیر خزانہ ڈاکٹر رقیہ ہاشمی نے موجودہ صوبائی حکومت کا آخری بجٹ پیش کیا۔ بلوچستان میں پہلی مرتبہ کسی خاتون مشیر خزانہ نے بجٹ پیش کیا۔
ڈاکٹر رقیہ سعید ہاشمی نے بجٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ موجودہ حکومت پہلے دن سے ہی جن رہنماء اصولوں کو مد نظر رکھے ہوئے ہیں ان میں صوبے میں ترقی کے عمل کو تیز کرنے کیلئے سازگار ماحول کی فراہمی ،تعلیمِ ،صحت اور فراہمی آب جیسے سماجی منصوبوں میں بنیادی ڈھانچہ قائم کرنے کیلئے ٹھوس اور مربوط کوششیں ،غیر ضروری اخراجات کا خاتمہ کرکے وسائل کو ترقیاتی سرگرمیوں کیلئے استعمال میں لانا ،بہتر اور موثر انداز میں وصولیوں کے ذریعے وسائل پیدا کرنے کی مشینری کو ازسر نو منظم کرنا ،ہر سطح پر مالیاتی نظم وضبوط قائم کرنا اور بلوچستان کے بے روزگار نوجوانوں کو ملازمت کے مواقع فراہم کرنے کی کوششوں کو تقویت دیناہے ۔
انہوں نے کہاکہ صوبہ امن اور ترقی کے راستے پر گامزن ہے بلکہ وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو کی قیادت میں موجود ہ صوبائی حکومت نے طویل عرصے میں صوبے کو درست سمت پر گامزن کردیاہے اب دہشت گرد نہیں بلکہ سرمایہ کار بلوچستان آرہے ہیں نوجوان پہاڑوں پر نہیں بلکہ یونیورسٹی کا رخ کئے ہوئے ہیں ان کے ہاتھوں میں بندوق کی بجائے قلم ہے ۔
ہمیں عہد کرناہوگا کہ اب شکوے اور شکایات کی بجائے محنت کرتے ہوئے سب کے ساتھ مل کر صوبے کی ترقی میں کرداراداکرینگے ۔انہوں نے نئے مالی سال کے بجٹ کا تخمینہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ کے حجم کا تخمینہ352 ارب 30کروڑ لگایا گیا ہے۔ غیرترقیاتی بجٹ کا حجم 264 ارب روپے اور ترقیاتی بجٹ کا حجم 88ارب 30کروڑ روپے ہوگا۔صوبے کی کل آمدن کا تخمینہ 2کھرب90 ارب 30کروڑ روپے ہے اس طرح بجٹ خسارہ 61 ارب 90کروڑ روپے ہوگا۔
وفاق سے حاصل ہونیوالی آمدن243 ارب اورصوبے کے اپنے وسائل سے آمدن کا تخمینہ 15 ارب روپے ہے۔ قابل تقسیم پول سے 224ارب روپے ملیں گے ۔براہ راست منتقلی 9ارب روپے جبکہ گیس سرچارج کی مد میں دس ارب روپے ملیں گے۔ریونیو اخراجات کا تخمینہ 223ارب روپے ،سرمایہ جاتی اخراجات کیلئے 40ارب 99کروڑ ہوں گے۔
ترقیاتی بجٹ میں وزیراعلیٰ بلوچستان کا ترقیاتی پیکیج بھی شامل کیا گیا ہے جس کے تحت زرعی یونیورسٹی بمقام نصیر آباد کیلئے ڈھائی ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔3 ارب روپے کی لاگت سے میڈیکل کالج نصیر آباد کی تعمیر کی جائے گی ۔
جان لیوا بیماریوں جس میں کینسر ہیپاٹائٹس وغیرہ کیلئے1 ارب روپے دیئے جائینگے 1.5 ارب روپے کی لاگت سے چھت اور عمارت کے بغیر سکولوں کو عمارت فراہم کی جائے گی ۔صوبے کے معذور افراد کو وطیفہ دیا جائیگا جس پر50 کروڑ روپے لاگت کا تخمینہ ہے ۔
ایک ہزار سے زائد ضرورت مند نوجوان جوڑوں کی اجتماعی شادی پروگرام کیلئے20 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں50 کروڑ روپے کی لاگت سے بلوچستان کے اہل طلباء وطالبات کو میرٹ کی بنیاد پر لیپ ٹاپ دیئے جائینگے۔
13 کروڑ رپوے کی لاگت سے کوئٹہ شہر کی سڑکوں، اسٹریٹ لائٹس وغیرہ کی مرمت کی جائے گی وزیراعلیٰ بلوچستان یوتھ انفارمیشن پروگرام کے تحت نوجوان طلباء وطالبات کیلئے انٹر شپ پروگرام کا آغاز کیا جا رہا ہے جس کے تحت پہلے مرحلے میں500 سے زائد طلباء وطالبات کو میرٹ کی بنیاد پر ایک سال کیلئے ماہانہ وظیفہ دیا جا ئے گا اس کیلئے10 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔
5 کروڑ روپے کی لاگت سے ایکسپو سینٹر بمقام سردار بہادر خان وومن یونیورسٹی کوئٹہ تعمیر کی جائے گی ۔امن وامان کیلئے غیر ترقیاتی بجٹ میں 34ارب روپے مختص کئے جائیں گے۔ سیکورٹی فورسز کیلئے اسلحہ کی خریداری کیلئے 2ارب روپے اورسیکورٹی اہلکاروں کی تربیت کیلئے چار کروڑ مختص کئے جائیں گے ۔
دہشتگردی کے متاثرین میں ایک ارب روپے تقسیم کئے گئے ۔ محکمہ تعلیم کیلئے غیر ترقیاتی اخراجات کی مد میں43 ارب 90کروڑ اورمحکمہ ہائیر ایجوکیشن کیلئے 8ارب50کروڑ مختص کئے جائیں گے۔
کوئٹہ میں نسٹ یونیورسٹی کیمپس کیلئے 1ارب20کروڑ خرچ ہوں گے۔100نئے پرائمری اسکول بنائے جائیں گے ۔200پرائمری اور مڈل اسکولوں کو اپگریڈ کیا جائیگا۔خصوصی افراد کیلئے انٹر کالج قائم کیا جائیگا۔
محکمہ زراعت کیلئے 8ارب 70کروڑ روپے ،معدنیات کیلئے غیر ترقیاتی مد میں 2ارب ،لائیواسٹاک کیلئے تقریباََ 4ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔محکمہ اب پاشی کیلئے دو ارب اسی کروڑروپے ، محکمہ ایری گیشن کیلئے تین ارب اسی کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں ۔
گوادر میں سمندر کا پانی صاف کرنے کے پلانٹ پر 8ارب روپے خرچ ہوں گے۔500طلباء کیلئے انٹرن شپ پروگرام پر 10کروڑ خرچ ہوں گے۔ رواں مالی سال 1200کلومیٹر سڑکیں بنائی گئیں ۔
نئے مالی سال میں 1200کلومیٹر نئی سڑکیں بنائی جائیں گی۔بلدیاتی اداروں کو ترقیاتی منصوبوں کیلئے 5ارب روپے دیئے جائیں گے ۔صوبے بھر میں اہم شاہراہوں پر ایمرجنسی ہیلتھ سینٹرز تعمیر کئے جائیں گے۔
نئے بجٹ میں دو ارب روپے کی لاگت سے بلوچستان میں پہلے کینسر ہسپتال کی تعمیر کی تجویز دی گئی ہے۔ امراض قلب کے ہسپتال کیلئے ڈھائی ارب روپے مختص کئے جائیں گے۔ نئے بجٹ میں سول ہسپتال کوئٹہ کو نئے سرے سے تعمیر کرنے کا منصوبے کی تجویز بھی دی گئی ہے جس پر تین ارب روپے خرچ ہوں گے۔
اس کے علاوہ ایک ارب روپے کی لاگت سے وزیراعلیٰ ہیلتھ انشورنس پروگرام شروع کیا جائیگا۔ویکٹر بورن ڈیزیز کیلئے ڈھائی ارب روپے اورمفت ادویات کی فراہمی کیلئے دو ارب روپے ،کینسراورہیپٹائٹس کے علاج کیلئے ایک ارب روپے مختص کئے جائیں گے۔کوئٹہ میں ایک ارب روپے صوبے کا پہلا ڈینٹل کالج بھی قائم کیا جائیگا۔نصیرآباد میں تین ارب روپے کی لاگت سے میڈیکل کالج بنایا جائیگا۔
نئے مالی سال کے بجٹ میں پبلک پرائیوٹ پارٹنٹر شپ کے تحت سرکاری ملازمین کو سولر سسٹم فراہم کرنے کا منصوبہ شامل کیا جائیگا جس سے دو لاکھ 88ہزار ملازمین اور پنشنرز استفادہ حاصل کرسکیں گے۔اس کے علاوہ گوادر میں 50میگا واٹ سولر پاور پلانٹ تعمیر کیا جائیگاجبکہ گوادر میں سمندر کا پانی صاف کرنے کے پلانٹ پر 8ارب روپے خرچ ہوں گے۔
انہوں نے کہاکہ امن وامان کا قیام ریاست کی بنیادی وآئینی ذمہ داری ہے موجودہ حکومت قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھرپورحوصلہ افزائی اور معاونت کررہی ہے اس حوالے سے یو این ڈی پی کے تعاون سے 5سالہ منصوبے پر کام جاری ہے جن میں عدلیہ ،انتظامیہ ،پولیس ،لیویز ،پراسیکیوشن اور محکمہ جیل خانہ جات کے تمام شعبوں میں بہتری لانے کیلئے ایک مربوط 5سالہ نظام پر کام جاری ہے ۔
انہوں نے کہاکہ 2018-19ء میں امن وامان کیلئے غیر ترقیاتی بجٹ میں 34ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جو موجودہ مالی سال کے مقابلے میں 10فیصد زیادہ ہے ۔انہوں نے کہاکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو موجودہ حالات اور چیلنجز سے نمٹنے کیلئے جدید خطوط پر منظم کیاجارہاہے اس سلسلے میں 2ارب روپے کی خطیر رقم سے جدید اور معیاری اسلحہ ودیگر ضروری آلات فراہم کرنے کا بندوبست کیاجارہاہے ۔
اس کے علاوہ پولیس اور لیویز کو خصوصی انسداد دہشت گردی کی تربیت دی جارہی ہے تاکہ وہ مختلف اضلاع میں دہشت گردی کے خلاف موثر کرداراداکرسکیں ۔انہوں نے کہاکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی تربیت کیلئے 4کروڑ روپے فراہم کئے جائیں گے ۔
کوئٹہ سیف سٹی اور گوادر سیف سٹی پروجیکٹس صوبائی حکومت کی کاوشوں کا نتیجہ ہے جس پر تیزی سے کام جاری ہے انہوں نے کہاکہ سی پیک روٹ اور منصوبوں کی حفاظت کیلئے اسپیشل پروٹیکشن یونٹ کا قیام عمل میں لایاجارہاہے جس کے تحت ہزاروں بے روزگار نوجوانوں کو لیویز اور پولیس فورس میں بھرتی کیاجائے گا۔
انہوں نے کہاکہ آنے والے مالی سال میں محکمہ سکولز کیلئے غیر ترقیاتی مد میں 43.9ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جو موجودہ مالی سال کے مقابلے میں 25فیصد زیادہ ہے آنے والے مالی سال کے دوران 100سے زائد نئے پرائمری سکولز کا قیام عمل میں لایاجائے گا تاکہ تعلیم تک رسائی کو ممکن بنایاجاسکے انہوں نے کہاکہ آئندہ مالی سال 2018-19ء میں 100پرائمری سکولوں کو مڈل کا درجہ جبکہ 100مڈل سکولوں کو ہائی کا درجہ دینے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے ۔
اساتذہ کی میرٹ پر بھرتی کیلئے انڈیپنڈنٹ ٹیسٹ سروس کو متعارف کروالیاگیاہے صوبے کے سکولوں میں درسی اور غیر درسی مواد کی فراہمی کیلئے 83.3کروڑروپے رکھے گئے ہیں اس کے علاوہ عالمی بینک کے تعاون سے گلوبل پارٹنر شپ فار ایجوکیشن کے تحت نئے پرائمری سکولوں کا قیام موجودہ سکولوں کو بلڈنگز کی فراہمی ،اور خواتین اساتذہ کی تقرری عمل میں لائی جارہی ہے ۔
اساتذہ اور افسران کی کارکردگی جانچنے کیلئے ڈیڑھ ارب روپے کی خطیر رقم سے پرفارمنس مینجمنٹ سسٹم متعارف کرایاجارہاہے اس کے علاوہ کتابوں کی بلوچستان ٹیکس بک بورڈ کے ذریعے چھپائی اور سپلائی کیلئے 52کروڑ روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے تاکہ ہر بچے کو مفت کتابوں کی فراہمی یقینی بنائی جاسکے ۔
انہوں نے کہاکہ انہوں نے کہاکہ آنے والے مالی سال 2018-19ء میں محکمہ کالجز کیلئے غیر ترقیاتی مد میں تقریباََ8.5ارب روپے رکھے گئے ہیں جو موجودہ مالی سال کے مقابلے میں 10فیصد زیادہ ہے ۔کالجز سیکشن کی کل 40نئی اور 55جاری اسکیمات پر ترقیاتی کام جاری ہے یہ ترقیاتی اسکیمات صوبے میں کالجوں ،تیکنیکی اداروں اور ریزیڈیشنل کالجوں ،کیڈٹ کالجوں اوریونیورسٹیوں کے جال بچھانے میں معاون ومددگار ثابت ہوگی ۔
کوئٹہ میں کالج ڈائریکٹریٹ کے قیام کیلئے 40کروڑ روپے رکھے گئے ہیں جبکہ ضلع کوئٹہ میں ہی نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے کیمپس کے قیام کیلئے زمین خریدنے کی غرض سے 1.2ارب روپے مختص کئے گئے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ 2018-19ء کے مالی سال میں شعبہ صحت کیلئے غیر ترقیاتی بجٹ کی مد میں 19.4ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 6فیصد زیادہ ہے انہوں نے کہاکہ آنے والے مالی سال کے دوران صوبے میں کینسر ہسپتال بنانے کیلئے 2ارب روپے مختص کئے گئے ہیں بلکہ بلوچستان ادارہ برائے قلب کی تعمیر کیلئے بھی ڈھائی ارب روپے خرچ کئے جائیں گے ۔
سول ہسپتال کوئٹہ کی جدید طرز پر تعمیر زیر غور ہے جس کاتخمینہ تقریباََ3ارب روپے ہے وزیراعلیٰ صحت انشورنس پروگرام کو تمام اضلاع میں شروع کیاجارہاہے اس پروگرام کے تحت غریب اور حق دار شہریوں کو مفت علاج کی سہولیات فراہم کی جائیگی اس پروگرام پر ایک ارب روپے خرچ ہونگے ۔
انہوں نے کہاکہ حکومت بلوچستان آنے والے مالی سال 2018-19ء کے دوران ہیپاٹائٹس ،ٹی بی ملیریا اور ایچ آئی وی مریضون کو مفت ادویات فراہم کریگی جبکہ صحت کے شعبے کیلئے جدید مشینری کیلئے بھی 70کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں ۔
انہوں نے کہاکہ آئندہ مالی سال کے دوران 2ارب روپے کی مفت ادویات غریب مریضوں کو دی جائیں گی جبکہ صوبے بھر کے 90دیہی صحت کے مراکز کی بحالی اور مرمت بھی کی جائیگی صوبے میں غربت کے خاتمے کیلئے ایک ارب روپے کی لاگت سے کوئٹہ ،لورالائی ،گوادر ،کیچ اور لسبیلہ میں میڈیکل سپورٹ پروگرام جاری ہے ۔
ویکٹر برن ڈیزیز کے خاتمے کیلئے ڈھائی ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے جبکہ امراج چشم پروگرام کے تحت30کروڑ روپے خرچ کئے جائینگے بولان میڈیکل کالج کو یونیورسٹی کا درجہ دینے اور ڈینٹل کالج کوئٹہ کے قیام کیلئے ایک ،ایک ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔
سول ہسپتال کوئٹہ میں نئے زیر تعمیر او پی ڈی بلاک کیلئے 19.8کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں ضلعی معلومات برائے صحت سسٹم کے تحت صوبے بھر میں 18.5کروڑروپے خرچ کئے جائینگے،صوبے بھرمیں تمام اہم شاہراہوں پر ایمرجنسی سینٹر کا قیام عمل میں لایاجارہاہے ۔
انہوں نے کہاکہ زراعت کسی بھی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتاہے جی ڈی پی میں زراعت کا حصہ 33فیصد سے زیادہ ہے جبکہ بلوچستان میں 70فیصد آبادی بلواستہ یا بلاواستہ زراعت کے شعبے سے منسلک ہے آئندہ مالی سال 2018-19ء میں محکمہ زراعت کیلئے تقریبا8.7ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جو موجودہ مالی سالے کے مقابلے میں 5فیصد زیادہ ہے ۔
قلعہ سیف اللہ اور اوتھل میں مارکیٹ سکوائرز کو 5کروڑروپے کی لاگت سے جلد ہی مکمل کرلیاجائے گا 18مختلف اضلاع میں 28.8کروڑروپے کی لاگت سے سرکاری زرعی فارمز کو مکمل فعال کیاجارہاہے زرعی ٹرینگ ادارے کی تعمیر پر 50کروڑ روپے کی لاگت سے کام شروع کردیاگیاہے بلکہ معیاری پودوں کی فراہمی کی غرض سے ٹیشو کلچر کی ٹیکنالوجی کو متعارف کرانے کیلئے زرعی شعبہ کے تحت 5.6کروڑ روپے کی لاگت سے ایک اہم منصوبے پھر کام جاری ہے ۔
اگلے مالی سال کے دوران بلڈوزروں کے 50ہزار گھنٹے ضرورت مند زمینداروں میں تقسیم کئے جائینگے تاکہ مزید غیر کاشت رقبہ زیر کاشت لایاجاسکے ۔انہوں نے کہا کہ صوبائی معیشت میں امور حیوانات کا حصہ تقریباََ48فیصد ہے مال مویشیوں کا دیہی ترقی میں اضافے اور غریب عوام کی خوشحالی سے گہرا تعلق ہے ۔آنے والے مالی سال 2018-19ء میں لائیواسٹاک کیلئے تقریباََ 4ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے جو موجودہ مالی سال کے مقابلے میں 2فیصد زیادہ ہے ۔
نئے مالی سال کے دوران جانوروں کے مختلف بیماریوں کیلئے 30کروڑ روپے رکھے گئے ہیں جبکہ امور حیوانات کے ہسپتال کی تعمیر پر تیزی سے کام جاری ہے جس پر 50کروڑروپے لاگت آئے گی۔
انہوں نے کہاکہ صوبے کے 20اضلاع میں 11کروڑ روپے کی لاگت سے ویٹرنری سروسز فراہم کی جائیں گی جبکہ 2کروڑروپے کی لاگت سے ویٹرنری تعلیم اور آگاہی مہم چلائی جائے گی کانگو وائرس کے خاتمے کیلئے 22کروڑ روپے کی لاگت سے کام جاری ہے ۔
صوبے کے 6مختلف اضلاع میں لائیواسٹاک مارکیٹس کے قیام کی تجویز زیر غور ہے جس پرتقریباََ20کروڑروپے خرچ ہونگے ۔آنے والے مالی سال2018-19ء میں ماہی گیری کیلئے 92کروڑروپے مختص کئے گئے ہیں جو موجودہ مالی سال کے مقابلے میں 4فیصد زیادہ ہے فیش ہیچری ضلع صحبت پور اور جعفرآباد کا قیام زیر غور ہے جس پر لاگت کا تخمینہ تقریباََ23کروڑروپے ہے ۔
بلوچستان کی ساحلی پٹی پر ویسلز مانیٹرنگ سسٹم متعارف کرایاجارہاہے جس پر10کروڑ روپے خرچ ہونگے بلوچستان کے مختلف اضلاع میں ماڈل فش فارمز کے قیام کا منصوبہ زیر غور ہے جس کا تخمینہ لاگت 5کروڑروپے ہے ۔
رواں مالی سال کے دوران لوکل گورنمنٹ کو لوکل باڈیز کیلئے غیر ترقیاتی مد میں 6.4ارب روپے اور ترقیاتی مد میں 5ارب روپے فراہم کردئیے گئے ہیں ۔اس سلسلے کو اگلے مالی سال 2018-19ء میں بھی جاری رکھاجائے گا تمام اضلاع میں صوبائی سنیٹیشن پالیسی کے تحت صحت وصفائی کے جامع پروگرام شروع کئے جائینگے ۔
مرحلہ وار تمام اضلاع میں لوکل گورنمنٹ اور چیئرمین کونسل کے دفاتر تعمیر کئے جارہے ہیں جبکہ مرحلہ وار سب اضلاع میونسپل کمیٹیوں اور میونسپل کارپوریشنز کے چیئرمینوں کو گاڑیاں دی جائیں گی ۔
انہوں نے کہاکہ سڑکیں کسی بھی ملک اور صوبے میں معاشی ترقی کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اس لئے رواں مالی سال 2017-18ء کے دوران 12سو کلومیٹر معیاری بلیک ٹاپ سڑکیں بنائی گئی جبکہ آنے والے مالی سال 2018-19ء کے دوران مزید اتنی ہی بلیک ٹاپ بنانا ہدف رکھاگیاہے ۔
عوام کی سہولت کی غرض سے سیکرٹریٹ ماسٹر پلان کیلئے62.6کروڑروپے مختص کئے گئے ہیں جسے سول سیکرٹریٹ کوئٹہ میں باقی ماندہ کام کیفے ٹیریا اور دیگر پر تیزی سے کام جاری ہے ۔انہوں نے کہاکہ معدنیات ومعدنی وسائل سے بلوچستان کا مستقبل وابستہ ہے ملک میں 50اقسام کے معدنیات میں سے 40صوبے سے حاصل کی جارہی ہے بلوچستان کے کوئلے کے ذخائر کا تخمینہ 217ملین ٹن ہے ۔
آنے والے مالی سال 2018-19ء میں معدنیات کیلئے غیر ترقیاتی مد میں 2ارب مختص کئے گئے ہیں جو موجودہ مالی سال 2017-18ء کے مقابلے میں تقریباََ17فیصد زیادہ ہے بلوچستان کی معدنی دولت پر قبضے کے غیر قانونی لیز منسوخ کرنے پر تیزی سے کام جاری ہے ۔
مائننگ انڈسٹریز کی ترقی پر خصوصی توجہ دی جائے گی اس کی ترقی وتوسیع میں جدید آلات ومشینری کے استعمال کی حوصلہ افزائی کی جائے گی حکومت بلوچستان ریکوڈک کیس کو انٹرنیشنل اربیٹریشن ٹریبونل میں بھرپورانداز سے لڑ رہی ہے ۔
ہماری کوشش ہے کہ بلوچستان کے خلاف فیصلہ نہ آئے اور اگر آ بھی جائے تونقصان کم سے کم ہو ،سیندک منصوبے کے15سو ملازمین اور اس منصوبے سے آنے والی آمد کو مد نظررکھتے ہوئے پروجیکٹ کو حکومت بلوچستان کے این او سی کے بعد وفاقی حکومت نے اس کی لیز کو چینی کمپنی کیلئے 5سال مزید توسیع دیدی ہے ۔
انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں پانی کا مسئلہ انتہائی اہم ہے ایک طرف نہ صرف پانی کے وسائل ضائع ہورہے ہیں تو دوسری جانب ٹیوب ویلوں کی بھر مار سے پانی کی سطح خطرناک حد تک گر چکاہے ہم جانتے ہیں کہ ناموافق حالات سے نمٹنے کیلئے جدید آب پاشی کے نظام کی اشد ضرورت ہے اس سلسلے میں ہم اقدامات اٹھانے کیلئے پرعزم ہے آئندہ مالی سال 2018-19ء میں محکمہ اب پاشی کیلئے 2.8ارب روپے مختص کئے گئے ہیں ۔
وفاقی حکومت کے تعاون سے اب پاشی کے 9بڑے اور 19چھوٹے منصوبے زیر تکمیل ہے جن پر تقریباََ5.5ارب روپے خرچ ہونگے انہوں نے کہاکہ آنے والے مالی سال 2018-19ء میں آبنوشی کے شعبے کیلئے 3.8ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 3فیصد زیادہ ہے پینے کے صاف پانی کے ذخیرے کیلئے مختلف اضلاع نوحصار ،کچلاک ،قلعہ سیف اللہ ،قلعہ عبداللہ ،موسیٰ خیل اور قلات میں 6ڈیموں کی تعمیر پر تیزی سے کام جاری ہے ۔
اس کے علاوہ 9ارب روپے کی لاگت سے کوئٹہ شہر کو صاف پینے کے پانی کی فراہمی کیلئے مانگی ڈیم کی تعمیر جاری ہے اسی طرح 40.3ارب روپے کی لاگت سے کوئٹہ شہر کو پٹ فیڈر کینال سے صاف پینے کی پانی کی فراہمی کیلئے کام ہورہاہے ۔
انہوں نے کہاکہ 5سو واٹر سپلائی ٹیوب ویلوں کو سولر سسٹم پر منتقل کیاجائے گاجس پر 1.5ارب روپے کا خرچہ ہوگا گوادر میں صاف پینے کے پانی کی مستقبل بنیادوں پر فراہمی کیلئے سمندر کے کھارے پانی کو میٹھا بنانے کیلئے کارواٹ پلانٹ کی بحالی جاری ہے جس پر 8.3ارب روپے خرچ ہونگے ۔
انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت اور چائنا کی ایک معروف کمپنی کے مابین گوادر شہر کو پینے کا صاف پانی فراہم کرنے کے معاہدے پر دستخط کئے گئے ہیں جس کے تحت گوادر شہر کو یومیہ تین لاکھ گیلن پانی فراہم کیاجائے گاجسے گوادر شہر کو درپیش پانی کے بحران پر قابو پایاجاسکے گا ۔
انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں آبادی میں تیزی سے اضافہ ہورہاہے اس وقت 15سے24سال کے عمر کے نوجوانوں کی تعداد15لاکھ سے زائد ہے جنہیں روزگار کی فراہمی بہت بڑا چیلنج ہے اس لئے نوجوان نسل کو مختلف شعبوں میں ہنر سیکھانے کیلئے تربیت فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داریوں میں شامل ہیں۔
تاکہ وہ سماج میں بہتر مقام حاصل کرسکیں اور منفی رحجانات کی طرف مائل نہ ہوں اس حوالے سے فنی مہارت اور تیکنیکی تعلیم فراہم کرنے کے غیر فعال اداروں کو نجی شعبے کے تعاون سے فعال کیاجارہاہے جو ہمارے بے روزگار نوجوانوں کو ہنر مند بنا کر روزگار کے قابل بنانے میں اہم کرداراداکرسکتے ہیں ۔
15ٹیکنیکل سینٹرز برائے مرد اور 7ٹیکنیکل سینٹرز برائے خواتین صوبے کے 18اضلاع میں نوجوان نسل کو تربیت فراہم کررہی ہے جبکہ ٹیکنیکل سینٹر مستونگ اور قلعہ سیف اللہ پر تیزی سے کام جاری ہے۔
انہوں نے کہاکہ گندم ہماری بنیادی ضروریات میں سرفہرست ہے اس کے مہنگا ہونے سے عام آدمی براہ راست متاثر ہوتاہے۔گندم کی قیمت کی اعتدال پر رکھنے اور عام لو گوں کو سستے داموں گندم کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے بلوچستان کا بینہ نے اس سال گندم پر 87 کروڑ روپے کی سبسڈی کی منظور دی ہے اور مزید برآن کھلی منڈی میں قیمتوں کو برقراررکھنے اور وفاقی حکومت کے فیصلے کی تقلید کر تے ہوئے اشیاء صرف کی دوسری چیزوں کے علاوہ رمضان پیکج کی مد میں مزید60 کروڑ روپے سستے آٹے کی فراہمی کیلئے مختص کرنے کا ارادہ رکھتی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ محکمہ جنگلات کے غیر ترقیاتی بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ کیا گیا ہے جس کا حجم1 ارب روپے کر دیا گیا مزید برآں مالی سال2018-19 میں13 جاری اور6 نئے منصوبوں کیلئے12.3 کروڑ روپے کے ضروری فنڈز مہیا کئے جائیں گے تاکہ صنوبر، تمر ، شینہ، زیتوں اور چلغوزہ کے قدرتی جنگلات کی بہتری، چر ا گاہوں کے بہتر بندوبست ، واٹر شیڈ کے تحفظ ، جنگی حیات کی حفاظت اور شاہراہوں کے کناروں پر شجر کاری جیسے اقدامات کئے جاسکیں ۔
صوبہ بھر میں ماحول کو صاف ستھرا بنانے کیلئے وزیراعظم گرین پاکستان پروگرام کے تحت بھی شجر کاری مہم میں درخت لگانے کیلئے کثیر فنڈز مہیا کئے جا رہے ہیں اس سال پہلی مرتبہ اربن فارسٹری یعنی شہروں میں مین شا ہراہوں اور اوپن جگہوں پر پودے لگا نے کا ہدف رکھا گیا ہے تاکہ عام لو گ درختوں سے فائدہ اٹھا سکے اور ماحول میں بہتری آسکیں ۔
انہوں نے کہا کہ سرکاری عمارتوں کو بھی بتدریج شمسی توانائی کے نظام پر لایا جا ئیگا جس کیلئے Private investor کو دعوت دی گئی ہے کہ وہ ان عمارتوں پر سولر پلانٹ لگائیں اور اضافی بجلی یوٹیلٹی کمپنی کو فروغ کریں سولر انرجی کے آلات کو چانچنے کیلئے ایک ٹیکنیکل لیبارٹری کی تجویز ہے جس پر لاگت کا تخمینہ 38 کروڑ روپے ہے نجی شعبے نے توانائی کے نئے منصوبوں میں سرمایہ کاری کی خواہش ظاہر کی ہے ۔
اینگرو کارپوریشن ، زور لوانر جی اور متعدد قومی او بین الاقوامی کمپنیوں نے متبادل توانائی کے منصوبوں میں لیٹر آف انٹرسٹ حاصل کئے ہیں اور مجموعی طور پر5500 میگاواٹ کے ونڈ اور سولر انجی کے منصوبوں پر کام شروع کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے ۔
اس طرح بلوچستان مستقبل میں پاکستان انرجی باسکٹ کی حیثیت اختیار کر سکتا ہے ان منصوبوں سے نہ صرف پائیدار بلکہ سستی بجلی میسر ہو گی محکمہ توانائی نے پرائیویٹ بینک کے تعاون سے سرکاری ملازمین کیلئے ہوم سولر ایڈوانس کیلئے اسکیم تیار کی ہے جس سے ملازمین کو ہوم سولر سسٹم کیلئے آسان شرائط پر قرضہ دستیاب ہو گا اس اسکیم سے دو لاکھ آٹھ ہزار سرکاری ملازمین اور80 ہزار پیشنرز استفادہ حاصل کر سکیں گے ۔
حکومت بلوچستان نے گوادر میں50 میگاواٹ سولر اور ونڈ پاؤر پلانٹ کی تعمیر کے لئے زمین الاٹ کی ہے جیسے اگلے مالی سال میں نیشنل اور انٹر نیشنل انویسٹر Cmpetative Bidding کے ذریعے الاٹ کیا جائیگا ۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت صوبے کے مختلف اضلاع میں انڈسٹریل اسٹیٹس موجود ہیں جن میں کوئٹہ، ڈیرہ مراد جمالی، گوادر، لسبیلہ اور بوستان شامل ہیں جبکہ چمن، خضدار، تربت اور مسلم باغ میں منی انڈسٹریل اسٹیٹس کے قیام کیلئے ترقیاتی کام تیز ی سے جاری ہے ۔
نئے مالی سال2018-19 میں محکمہ صنعت وتجارت کے لئے تقریبا1.2 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جو موجودہ مالی سال2017-18 کے مقابلے میں تقریبا10 فیصد زیادہ ہے خضدار اور بوستان میں اسپیشل اکنامک زونز کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے جس سے صوبے میں مزید صنعتوں کا قیام عمل میں آسکے گا اور بے روزگاری میں خاطر خواہ کمی آئے گی چالیس سے زائد ووکیشنل ٹریننگ سینٹرز کی تعمیر کا کام مکمل کر کے فعال بنا دیا گیا ہے ۔
جہاں پر نوجوانوں کو ٹریننگ دی جائے گی جس کی بدولت بے روزگاری پر قابو پایا جا سکے گا انڈسٹریل اسٹیٹ کوئٹہ ڈیرہ مراد جمالی اور حب کو فعال بنا دیا گیا ہے جہاں مختلف صنعتی ریونیو بھی فراہم کیا جاتا ہے بوستان میں وفاقی حکومت کے تعاون سے کام ہو رہا ہے جو عنقریب صنعتی اور اقتصادی سر گر میوں کا مرکز بنے گا ۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان نے جرنلسٹ ویلفیئر فنڈز جو کہ30 ملین روپے تھا اسے بڑھا کر200 ملین روپے کر دیا ہے اس رقم سے حاصل شدہ منا فع صحافیوں کی فلاح وبہبود پر خرچ کیا جا رہا ہے ۔ پریس کلب کی سالانہ گرانٹ10 ملین روپے سے بڑھا کر20 ملین روپے کر دی گئی ہے ۔ہا کرز کی فلاح وبہبود کیلئے11 ملین روپے فنڈ قائم کیا گیا ہے ۔
اگلے مال سال2018-19 میں محکمہ ترقی نسواں کے لئے تقریبا11.2 کروڑ روپے کا ترقیاتی بجٹ بھی رکھا گیا ہے ڈائریکٹریٹ آف وومن ڈویلپمنٹ کی عمارت کی تعمیر کیلئے5 کروڑ روپے کی ترقیاتی رقم مختص کی گئی ہے اسی طرح وومن ڈائریکٹریٹ کے ذیلی دفتر شہید بے نظیر بھٹو وومن سینٹر کوئٹہ کی عمارت کی تعمیر کیلئے5 کروڑ روپے کی ترقیاتی رقم مختص کی گئی ہے ۔
اسی طرح وومن ڈائریکٹریٹ کے ذیلی شہید بے نظیر بھٹو وومن سینٹر کو ئٹہ کی عمارت کی تعمیر کیلئے2.5 کروڑ روپے کی ترقیاتی رقم مختص کی گئی ہے اس کے علاوہ عورتوں کی فلاح وبہبود کیلئے ایک اسکیم متعارف کروائی جا رہی ہے جسے Women Enclave کا نام دیا گیا ہے جس میں خواتین سے متعلق تمام سہولیات شامل ہو نگی فی الحال خواتین کے ایک ہاسٹل کا قیام عمل میں لایا جائے گا جس کیلئے حکومت بلوچستان نے2.5 کروڑ روپے کی ترقیاتی رقم مختص کی ہے ۔
آنیوالے مالی سال2018-19 کیلئے محکمہ ثقافت وسیاحت کیلئے غیر ترقیاتی مد میں تقریبا19.8 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں بلوچستان آر ٹ کونسل ایکٹ2017 کو نافذ کرنے کیلئے صوبائی اسمبلی سے منظور کرایا جا رہا ہے صوبے میں سیاحت کو فروغ کیلئے60 سے زائد تفریحی مقامات کی نشا ند ہی کر دی گئی ہے ادارہ برائے سیاحت کوئٹہ کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے بلوچستان آرٹسٹ ویلفیئر فنڈ کی تجویز بھی زیر غور ہے ۔
بلوچستان پبلک سروس کمیشن جو اقرباء پروری، ذاتی پسند نا پسند اور کرپشن کی نظر ہو چکا تھا کو کا فی کو ششوں کے بعد انصاف ومیرٹ کی راہ پر گامزن کر دیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہر حکومت کی یہ ذمہ داری ہو تی ہے کہ اپنے محدود وسائل کو مد نظر رکھتے ہوئے عوام کو با عزت روزگار کے مواقع فراہم کرے اس حقیقت کو مد نظر رکھتے ہوئے اگلے مالی سال کیلئے8035 نئی اسامیاں پیدا کی جائیں گی جس سے براہ راست روزگار کے مواقع میسر ہونگے ۔
مشیر خزانہ ڈاکٹر رقیہ نے اعلان کی اکہ آئندہ مالی سال2018-19 میں تنکواہوں اور پینشن کے حوالے سے ہماری صوبائی حکومت اپنے ملازمین اور پینشرز کیلئے وفاقی حکومت کے اعلان کر دہ طرز پر اجافے کا اعلان کر تی ہے موجودہ حکومت نے ایم فل الاؤنس کی طرح ایم سی ڈگری پاس کرنے والوں کو بھی پانچ ہزار روپے ماہانہ الاؤنس دینے کی منظوری دے دی ہے ۔
سرکاری ملازمین ، پینشرز اور ورکرز کیلئے ریلیف اقدامات صوبے کی انتظامی مشینری کو چلانے، منصوبہ سازی اور منصوبوں کو عملی جامعہ پہنانے میں سرکاری ملازمین ہمارے دست وبازو ہیں ان کی مالی مشکلات کو مد نظر رکھتے ہوئے مسائل حل کرنا ہماری حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے ۔
ہمیں اس بات کا شدت سے احساس ہے کہ سرکاری ملازمین کی تنکواہیں موجودہ مہنگائی کے تناسب سے ناکافی ہیں لہٰذا اس ضمن میں حکومت بلوچستان نے اپنے سرکاری ملازمین، پنشنرز اور ورکرز کیلئے مندرجہ ذیل ریلیف اقدامات کئے ہیں، محکمہ صحت کے صوبائی سنڈیمن ہسپتال میں ٹرانا سینٹر کے ڈاکٹرز اور سٹاف کے پروفیشنل الاؤنس میں خاطرہ خواہ اضافہ کر دیا گیا ہے ۔
باقی صوبوں کی طرز پر ہمارے صوبے کے ضلعی سپورٹس افیسران کی اسامیوں کو گریڈ16 سے گریڈ17 میں اپ گریڈ کر دیا گیا ہے جس سے سپورٹس سرگرمیوں پر مثبت اثرات مرتب ہو نگے ۔اسسٹنٹ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن افیسر کو گریڈ 16 سے17 میں اپ گریڈیشن دے دی گئی ہے محکمہ Reclamation And probation کے ملازمین کا ماہانہ الاؤنس اور تنخواہ نیشنل پالیسی2009 کے مطابق کر دی گئی ہے ۔
اقلیتی امور ، اقلیتوں کے بنیادی وآئینی حقوق کو تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے اقلیوں کے پانچ فیصد کوئٹہ پر سختی سے عملدرآمد کیلئے احکامات جاری کر د یئے گئے ہیں خلاف ورزی پر سخت تا دیبی کا رروائی کی جائے گی بلوچستان کے اسکولوں کی سطح پر غیر مسلم بچوں کو اسلامیات کے بجائے اخلاقیات کا مضمون پڑھانے کے اقدامات کر دیئے گئے ہیں ۔
ہندو برادری کیلئے قانون برائے شادی رجستریشن بن چکا ہے جو کہ تمام اضلاع میں عملدرآمد کیلئے بجھوا دیا گیا ہے جبکہ عیسائی برادری کے لئے قانون برائے شادی رجسٹریشن پر کام ہور ہا ہے سماجی بہبود اور معذوروں کیلئے مراعات، معذوروں کے بنیادی وآئینی حقوق کو بھی تحفظ ف فراہم کیا جا رہا ہے ۔
معذوروں کیلئے مختص کر دہ کوٹہ پر سختی سے عملدرآم دکیلئے کام جاری ہے تمام پبلک مقامات، شاپنگ سینٹرز وگیرہ مین اسپیشل انتظامات کیلئے احکامات جاری کر دیئے گئے ہیں آنیوالے مال سال2018-19 خصوصی افراد کیلئے ایک انٹر کالج کا قیام عمل میں لایا جائے گا ۔
رواں مالی سال کے دوران100 سے زیادہ موٹرسائیکلیں معذور افراد میں تقسیم کر دی گئی ہیں آنیوالے سال2018-19 میں بھی اس کام کو جاری رکھا جائیگاآنیوالے مالی سال کے دوران بے گھر اور بے سہارا بچوں کیلئے سینٹر کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ دہشتگردی سے متاثرین کیلئے معاوضہ،رواں مالی سال کے دوران تقریبا1 ارب روپے بطور معاوضہ دہشت گردی کے متاثرین میں تقسیم کر دیا گیا ہے اس کے علاوہ دہشت گردی سے شہید ہونیوالے سرکاری ملازمین کے لواحقین، صحت، گھر، تنخواہ اور پنشن کے اخراجات بھی حکومت بلوچستان ادا کر رہی ہے عام شہری جو دہشت گردی میں زخمی یا شہید ہوئے ان کیلئے بھی خاطر خواہ رقم فراہم کی گئی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان مالی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے اور بجٹ خسارہ کم کرنے کیلئے سختی سے سادگی وبچت کیلئے اٹھائے گئے اقدامات پر عمل پیرا ہے حکومت بلوچستان نے مالی سال2017-18 کے دوران نہ صرف ٹیکس اصلاحات کیں بلکہ مالی معاملات میں بہتری کی بھر پور کوششیں بھی کیں تمام محکموں کو ہدایت جاری کی گئی ہیں کہ وہ سختی کے ساتھ اپنے محکموں میں مالیاتی نظم وجبط کو یقینی بنائیں ۔
اس امر کو یقینی بنانے کیلئے محکمہ خزانہ بلوچستان مسلسل محکموں کے اخراجات پر ایک جامع کمپیوٹرائزڈ سسٹم کے تحت نظر رکھے ہوئے ہیں بلوچستان میں پہلی بار یورپی یونین کے تعاون سے مالی نظم وضبط میں بہتری اور غیر ضروری اخراجات میں کمی کی خاطر پبلک فنائشل مینجمنٹ ریفارمرز متعارف کرائی جا رہی ہے اس سے صوبے کے ریونیو میں نہ صرف خاطر خواہ اضافہ ہو گا بلکہ ہمارے صوبے کے افیسران کے پیشہ وارانہ صلاحیتوں میں نمایاں بہتری آئے گی۔
بلوچستان ریونیو اتھارٹی نے قلیل عرصہ کے دوران جی ایس ٹی آن سروسز کی مد میں تقریبا5.5 ارب روپے سے زائد ٹیکس وصول کی ہے جو کہ پچھلے سالوں کے دوران کی گئی وصولیوں کی نسبت نمایاں بہتری ہے اس کے علاوہ صوبے کے مالی سال کے دوران تقریبا9.6 ارب روپے کا اضافہ ہو رہا ہے جو کہ انتہائی خوش آئند ہے ۔
لگژری گاڑیوں کی خریداری پر مکمل پابندی رہے گی پی ایس ڈی پی کے تحت مختلف منصوبوں پر مروجہ قوانین کے تحت عملدرآمد کو یقینی بنایا جائیگا اور ان کی باقاعدہ نگرانی کی جائے گی حکومتی خرچے پر ہوٹلوں میں مینٹنگ وتقریبات کے انعقا د پر مکمل پابندی ہو گی اس کے علاوہ حکومتی خرچے پر ظہرانے ودیگر طعام پر بھی پابندی ہو گی ۔
سوائے استثنائی صورت کی حالت میں صوبائی حکومت چین پاکستان اقتصادی راہداری سے پیدا ہونیوالے ترقی کے مواقعوں سے بھر پور استفادہ کیلئے بھی پوری طرح تیار ہے اور آئندہ مالی سال کے بجٹ بلوچستان سے متعلق سی پیک منصوبوں کیلئے بھی خا طر خواہ فنڈ مختص کئے گئے ہیں ۔
حال ہی میں بلوچستان صوبائی اسمبلی نے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ بل2018 کی منظوری دے دی ہے جس سے صوبے میں سرکاری اور نجی شراکت داری کو فروغ ملیگا اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو سرمایہ کاری کیلئے سازگار ماحول فراہم کیا جا سکے گا ۔
اس سے قبل مشیر خزانہ نے رواں مالی سال 2017-18ء کا نظر ثانی شدہ بجٹ معزز ایوان کے سامنے پیش کیااور بتایا کہ جاری مالی سال 2017-18ء کے کل بجٹ کا ابتدائی تخمینہ 328.5ارب روپے تھا نظرثانی شدہ بجٹ برائے سال2017-18ء کا تخمینہ 326.4ارب روپے ہوگیاہے ۔
2017-18ء کے اخراجات جاریہ 242-5ارب روپے تھا جو نظر ثانی شدہ تخمینہ میں کم ہوکر249-5ارب روپے رہ گیاہے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے لئے مالی سال2017-18ء میں پی ایس ڈی پی کا حجم 86ارب روپے تھا اس میں 1211جاری اسکمیں جبکہ 1549نئی اسکمیں شامل تھی مالی سال 2017-18ء میں پی ایس ڈی پی پر نظر ثانی کے بعد اس کا حجم 76.8ارب روپے ہوگیاہے ۔
نظر ثانی کے بعد1231جاری اسکمیوں کیلئے 27.9ارب روپے اور 1432نئی اسکمیوں کیلئے 67.6ارب روپے مختص کئے گئے ہیں وفاقی حکومت کے پی ایس ڈی پی سے صوبائی محکموں کے توسط سے عملدرآمد ہونے والی اسکیموں اور صوبائی ترقیاتی پروگرام کے ذریعے چلنے والے منصوبوں کے فنڈز کی مد میں 6ارب روپے اس کے علاوہ ہیں ۔
رقیہ ہاشمی نے کہاکہ بلوچستان کو ضمانت قدیم سے ہی منفرد حیثیت حاصل ہے یہ ملک کے 44فیصد رقبے پرمشتمل ہے بلکہ اس کی آبادی ایک کروڑ23لاکھ افراد سے زائد ہے بلوچستان کو محل وقوع کی وجہ سے اہمیت حاصل ہے بلکہ یہ جنگلی حیات کیلئے بھی انتہائی اہم علاقہ ہے یہاں صنوبر کے بہت بڑے جنگلات موجود ہیں بلکہ بلوچستان 775کلومیٹر طویل ساحلی پٹی بھی رکھتاہے ہمارے ساحلی علاقے معاشی لحاظ سے بہت زیادہ اہمیت رکھتے ہیں ۔
انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں زیر زمین معدنی ذخائر کو دریافت کرنے اور انہیں استعمال میں لانے کی ضرورت ہے ہمارے پاس سونا ،چاندی ،تانبے کے علاوہ قدرتی گیس تیل اور کوئلے کے بہت وسیع ذخائر موجود ہیں ۔
1952ء میں بلوچستان سے دریافت ہونے والے گیس میں ملک کی معاشی ترقی میں انتہائی اہم کردار اداکیاہے آج ایک مرتبہ پھر طویل ساحلی پٹی ،قیمتی قدرتی وسائل ،پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کے باعث بلوچستان نہ صرف ملک کی ترقی کا زینہ بن رہاہے بلکہ خطے میں تجارتی سرگرمیوں کے اہم مرکز کے طورپر بھی ابھر رہاہے انہوں نے کہاکہ موجودہ بجٹ ان مقاصد کو پیش نظر رکھ کر بنایاگیاہے جس سے عام آدمی کے مسائل حل کئے جاسکیں ۔
آئندہ بجٹ کی خاص بات صوبے کے ترقیاتی مقاصد کو حاصل کرناہے اور یہی وہ بنیاد ہے جس کو پیش نظر رکھ کر یہ بجٹ پیش کیاجارہاہے ان مقاصد کے حصول سے ہم بلوچستان کو ترقی اور خوشحالی کی جانب گامزن کرسکتے ہیں ۔
انہوں نے کہاکہ سی پیک گیم چینجر کی حیثیت رکھتاہے چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کے تحت چین اورپاکستان کے درمیان تاریخی رابطوں کو بحال ،مزید مستحکم اور پائیدار بنانا ہے اس منصوبے کے تحت پاکستان میں انفراسٹرکچر کو مزید بہتر طورپر تعمیرکرنا اور اس سے وسطی ایشیائی ریاستوں تک توسیع دینا شامل ہیں ۔
ہم اس اہم وکلیدی نوعیت کے منصوبے پر فخر کرتے ہیں جس سے نا صرف ملکی معیشت پر انتہائی مثبت اثرات مرتب ہونگے بلکہ اس کے ذریعے صوبائی حکومت کی معاشی تقدیر بھی بدلے گی اور روزگار کے وسیع مواقعوں کے ساتھ ساتھ ترقی کے نئے دور کاآغاز ہوگا۔
مشیر خزانہ ڈاکٹر رقیہ ہاشمی کاکہناتھاکہ گوادر ملکی معاشی ترقی میں اہم کرداراداکریگا اس کی ترقی کو پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے میں مرکزی حیثیت حاصل ہے جس کیلئے بجٹ میں وفاقی حکومت کے تعاون سے خطیر رقم خرچ کی جائے گی ۔
اس ضمن میں سال 2018-19ء میں بہت سے منصوبوں پر کام کیاجائے گاجس میں گوادر میں نئے بین الاقوامی ائیرپورٹ کا قیام ،جدید ہسپتال ،بجلی پیدا کرنے کا منصوبہ اور صاف پینے کے پانی کے منصوبے شامل ہیں ۔
انہوں نے کہاکہ ہمیں یقین ہے کہ بلوچستان میں کی جانے والی سرمایہ کاری سے بے پنا ہ فوائد حاصل ہونگے مستقبل میں پاکستان کی زرعی اور تجارتی ترقی میں بلوچستان کا بہت بڑا حصہ ہوگا ۔
انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں بیرونی سرمایہ کاری بڑھانے کیلئے بلوچستان انویسٹمنٹ بورڈ کو مزید فعال کیاجارہاہے ۔حال ہی میں بلوچستان اسمبلی نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ 2018ء کی منظوری دی ہے جس سے صوبے میں سرکاری اور نجی شراکت داری سمیت غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا بلکہ معدنی پیداوار اور تجارتی سرگرمیوں کا بڑا مرکز بھی آئندہ بلوچستان بنے گا۔