|

وقتِ اشاعت :   May 26 – 2018

اسلام آباد: پاکستان کی خفیہ ایجنسی انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے سابق ڈائریکٹر جنرل اسد درانی کی کتاب پر فوج کے تحفظات سامنے آ گئے ہیں۔

سیکیورٹی ذرائع نے کہا ہے کہ اس کتاب میں بہت سے موضوعات حقائق کے برعکس بیان کی گئے ہیں۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اسد درانی کو ان بیانات پر پوزیشن واضح کرنے کے لیے (جنرل ہیڈکوارٹرز) جی ایچ کیو طلب کرلیا ہے۔

ذرائع کے مطابق ملٹری ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر اسد درانی کو اپنی پوزیشن واضح کرنی ہوگی اور یوں عسکری قیادت نے یہ واضح پیغام دیا ہے کہ اگر پاک فوج کا کوئی سابق افسر بھی ملکی مفاد کے خلاف کوئی بات کرے گا تو اس کے خلاف بھی ایکشن لیا جائے گا۔

واضح رہے کہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) اسد درانی نے سابق ‘را’ چیف اے ایس دلت کے ساتھ مل کر لکھی گئی کتاب ‘دی سپائے کرونیکلز: را، آئی ایس آئی اینڈ دی الوڑن آف پیس’ میں پاکستان اور بھارت کے درمیان اہم معاملات پر بات کی ہے۔

کتاب میں جن معاملات پر روشنی ڈالی گئی، اْن میں کارگل آپریشن، ایبٹ آباد میں امریکی نیوی سیلرکا اسامہ بن لادن کو ہلاک کرنے کا آپریشن، کلبھوشن یادیو کی گرفتاری، حافظ سعید، کشمیر، برہان وانی اور دیگر معاملات شامل ہیں۔اس کتاب پر پاکستان کی سیاسی قیادت نے سنگین خدشات ظاہر کیے ہیں۔