|

وقتِ اشاعت :   August 10 – 2018

کوئٹہ: بلوچستان عوامی پارٹی نے درکار اکثریت ملنے کے بعد بلوچستان میں مخلوط حکومت بنانے کا باقاعدہ اعلان کردیا۔تحریک انصاف سمیت چھ جماعتیں حکومت کا حصہ ہوں گی۔

تمام اتحادی جماعتوں نے جام کمال خان کو متفقہ طور پر وزرت اعلیٰ کیلئے نامزد کردیا۔ جام کمال خان کا کہنا ہے کہ بلوچستان اسمبلی کا اجلاس بلانے کیلئے آج گورنر کو تحریری درخواست دی جائے گی۔ 

وزارتوں کی تقسیم کا فیصلہ بھی چند دنوں میں کرلیا جائیگا۔ گڈ گورننس، کرپشن کا خاتمہ اور عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی مخلوط حکومت کی ترجیحات ہوں گی۔کوئٹہ کے سرینا ہوٹل میں جمعرات کی رات کو بلوچستان عوامی پارٹی کے سربراہ جام کمال خان کی صدارت میں اتحادی جماعتوں کا مشترکہ اجلاس ہوا۔ 

اجلاس میں تحریک انصاف کے صوبائی صدر سردار یار محمد رند، اے این پی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی، بی این پی عوامی کے نائب صدر سید احسان شاہ، ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین عبدالخالق ہزارہ اورجمہوری وطن پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی نوابزادہ گہرام بگٹی شریک ہوئے۔ اجلاس میں بلوچستان عوامی پارٹی اور اتحادی جماعتوں کے ارکان صوبائی اسمبلی بھی موجود تھے۔


اجلاس میں تحریک انصاف اور جمہوری وطن پارٹی نے حکومت سازی کیلئے بلوچستان عوامی پارٹی کی باقاعدہ حمایت کا اعلان کیا۔ اجلاس میں حکومت سازی سے متعلق اہم فیصلے کئے گئے۔ جام کمال عالیانی کو وزیراعلیٰ بلوچستان اورمیر عبدالقدوس بزنجو کو اسپیکر بلوچستان کے عہدے کیلئے متفقہ طور پر نامزد کیا گیا۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ صوبائی اسمبلی اجلاس بلانے کیلئے گورنر بلوچستان سے رابطہ بھی کیا جائے گا اور اسمبلی رولز کے مطابق تحریری درخواست بھی جمعہ کو بھیجی جائے گی۔ 

اجلاس کے بعد مشترکہ نیوز بریفنگ دیتے ہوئے جام کمال خان نے کہا کہ اتحاد میں شامل بلوچستان عوامی پارٹی ،تحریک انصاف ، عوامی نیشنل پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی(عوامی)، ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی اور جمہوری وطن پارٹی کے پارلیمانی ارکان کا پہلا مشترکہ اجلاس منعقد ہوا ۔

جس میں نومنتخب ارکان اسمبلی نے حکومت سازی پر باقاعدہ طور پر اتفاق رائے قائم کیااور اپنی عددی طاقت کا جائزہ لیا جس کے مطابق ہمیں 50میں سے 33ارکان کی اکثریت حاصل ہوچکی ہے جو سادہ اکثریت زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے بی این پی اور ایم ایم اے سے بھی مذاکرات جاری ہیں ہم چاہتے ہیں کہ تمام جماعتیں ملکر بلوچستان کی پسماندگی کے خاتمے اور مسائل حل کریں۔

آج ہم نے اپنی اکثریت واضح کردی ہے اور یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہم اچھی حکمرانی کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مذاکراتی عمل کو آگے لیکر جائیں گے اور بلوچستان کی نمائندگی کا حق ادا کرینگے۔انہوں نے کہا کہ اتحادی جماعتوں نے مشترکہ پارلیمانی لیڈر کے طور پر میرا جبکہ اسپیکر بلوچستان اسمبلی کیلئے میر عبدالقدوس بزنجو کا نام تجویز کیا ہے جس پر ہم ان کے مشکور ہیں۔ آنے والے دنوں میں ہم اس مرحلے کو آگے لیکر جائیں گے۔

ہمارا مقصد ایسا نظام بنانا ہے جو سنجیدگی سے بلوچستان میں کرپشن کے خاتمے ،مسائل کے حل ،گڈگورننس کو قائم ،شفافیت کو فروغ اورعوام کو بنیادی سہولیات کی فراہم کریں۔ہم چاہتے ہیں کہ بیورو کریٹس اور سیاستدان لوگوں کو سروس ڈلیوری کریں اور بلوچستان میں تبدیلی لائیں۔ 

نامزد وزیراعلیٰ نے کہا کہ آنے والے دنوں میں مزید اجلاس ہوں گی جن میں حکومت میں شامل جماعتوں کے درمیان وزارتوں کی تقسیم کا فارمولا طے کیا جائے گا۔ہم آج قانونی مشاورت کے بعد گورنر بلوچستان سے رابطہ کریں گے اور بلوچستان اسمبلی کا بلانے کی ریکوزیشن جمع کرائیں گے۔ 

انہوں نے کہا کہ نئے گورنر کا فیصلہ کرنا وفاق کا کام ہے بلوچستان عوامی پارٹی بطور اتحادی اپنی رائے ضرور دے گی لیکن حتمی فیصلہ وفاق نے کرنا ہے۔جام کمال نے کہا کہ ہماری پارٹی کے تمام ارکان متحد ہیں پارٹی کے درمیان اختلافات کی باتیں شکوک وشبہات پر مبنی ہوسکتی ہیں لیکن اس میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔پاکستان تحریک انصاف کے صوبائی صدر سردار یار محمد رند نے کہا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی سے گفتگو جاری ہے۔ 

وفاق میں اگرچہ بی این پی ہماری اتحادی ہیں مگر بلوچستان میں ان کا ایم ایم اے کے ساتھ اتحاد ہے۔ ہمیں خوشی ہوگی کہ وہ حکومت میں آئے لیکن فی الحال بلوچستان میں حکومت بنانے کیلئے ہمارا نمبر گیم پورا ہوچکا ہے۔حکومت بلوچستان عوامی پارٹی بنارہی ہے لہٰذا بی این پی حکومت میں شمولیت سے متعلق بات چیت بی اے پی کی قیادت سے کریگی اگر وہ حکومت میں آئے تو ہم انہیں خوش آمدید کہیں گے۔ 

اس موقع پر نومنتخب ارکان اسمبلی سردار صالح بھوتانی ،سردار عبدالرحمان کھیتران ، نوابزادہ طارق مگسی، ظہور احمد بلیدی، اکبر آسکانی ،سلیم کھوسہ ،میر عارف جان محمد حسنی ،محمد خان لہڑی، حاجی محمد خان طور اتمانخیل، سکندر عمرانی ، میر نعمت اللہ زہری ،مبین خلجی ،نصیب اللہ مری،سردار بابر موسیٰ خیل ،عمر خان جمالی، زمرک خان اچکزئی، سردار مسعود لونی، مٹھا خان کاکڑ ،رکن قومی اسمبلی زبیدہ جلال ،مہ جبین ، ثناء درانی ، بی اے پی کے رہنماء سعید احمد ہاشمی سمیت دیگر بھی موجود تھے۔تاہم بی اے پی کے سینئر رہنماء جان محمد جمالی اجلاس میں شریک نہیں تھے۔