|

وقتِ اشاعت :   August 16 – 2018

کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی کا اجلاس آج دوبارہ جس میں سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کا انتخاب آج ہو گا صوبے میں حکومت سازی کے حوالے سے صورتحال ابھی تک واضح نہیں ،بی اے پی اوراس کے اتحادی جماعتوں میں ابھی تک اختلافات برقرار ہیں جبکہ بی این پی اور جمعیت بھی خاموشی کے ساتھ مختلف جماعتوں سے رابطے کر رہی ہے ۔

گزشتہ روز قدوس بزنجو کے علاوہ جان محمد جمالی اور زمرک اچکزئی نے بھی سپیکر کے عہدے کیلئے کاغذات نامزدگی حاصل کئے اسی طرح ممکنہ اپوزیشن بی این پی اور جمعیت نے بھی سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے عہدوں کیلئے امیدواروں کا اعلان نہیں،تاہم بتایا جاتا ہے کہ آج صبح تمام فیصلے کر لئے جائیں گے ۔

دریں اثناء بلوچستان عوامی پارٹی کے ترجمان کے مطابق بلوچستان عوامی پارٹی اور اتحادیوں نے بلوچستان اسمبلی میں اسپیکر کے لئے عبدالقدوس بزنجو جبکہ ڈپٹی اسپیکر کے لئے تحریک انصاف کے سردار بابر موسیٰ خیل ہونگے ۔

بلوچستان عوامی پارٹی اور اتحادی جماعتوں نے اسپیکر کے لئے سابق وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو اور ڈپٹی اسپیکر کے لئے پی ٹی آئی کے سردار بابر موسیٰ خیل کو نامزد کردیاگیا ۔ بلوچستان صوبائی اسمبلی کے ایک اعلامیہ کے مطابق بلوچستان صوبائی اسمبلی کا اجلاس کل مورخہ 16اگست 2018 بوقت سہ پہر تین بجے منعقد ہوگا جس میں اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکرکا انتخاب عمل میں لایا جائے گا ۔

واضح رہے کہ اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کے لئے کاغذات نامزدگی قبل از دوپہر تک سیکریٹری اسمبلی کے پاس جمع کرائے جاسکتے ہیں ۔ اور ڈھائی بجے بعد از دوپہر تک کاغذات نامزدگی واپس لئے جاسکتے ہیں ڈھائی بجے کے فوراً بعد کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال ہوگی اور کاغذات نامزدگی درست قرار دینے والے امیدواروں کے نام اسمبلی سیکریٹریٹ کے نوٹس بورڈ پر آویزاں ہوں گے ۔ 

پولنگ اسمبلی کی نشست بوقت سہ پہر تین بجے منعقد ہوگی ۔ پہلے اسپیکر کے عہد ہ کے لئے انتخاب ہوگا بعد ازاں ڈپٹی اسپیکر کاانتخاب عمل میں لایا جائے گا۔ بلوچستان عوامی پارٹی کے اراکین اور اتحادی جماعتوں نے جمعیت علماء اسلام اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے حکومت میں شامل ہونے کی مخالفت کر دی۔

ذرائع کے مطابق بلوچستان عوامی پارٹی کے کچھ اراکین اور اتحادیوں جماعتوں کے اراکین نے حکومت سازی میں جمعیت علماء اسلام اور بلوچستان نیشنل پارٹی کی حکومت میں شامل ہونے پر اعتراضات اٹھانا شروع کردیئے اور رات گئے ۔

بلوچستان عوامی پارٹی کے پارلیمانی لیڈر جام کمال سے بی اے پی کے اراکین اسمبلی اور اتحادیوں جماعتوں نے ملاقات کی اور ملاقات میں واضح کردیا کہ اگر جمعیت علماء اسلام اور بی این پی مینگل حکومت میں شامل ہوگی تو ہم ان کے ساتھ نہیں چلیں گے ۔

حکومت سازی کے معاملے پر بی اے پی اور اتحادی جماعتوں کے درمیان اختلافات شدت اختیار کرگئے ذرائع کا کہنا ہے کہ جمعیت علماء اسلام اور بی این پی مینگل کو کسی بھی صورت حکومت میں شامل نہ ہونے پر زور دیا جارہا ہے ۔

بلوچستان کی نگران حکومت میں شامل دو وزراء سمیت تحریک انصاف اور بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) کے ایک ایک اہم عہدے دار بلوچستان کے گورنر شپ کی دوڑ میں شامل ہوگئے ہیں۔ 

قابل اعتماد ذرائع نے بد ھ کی رات کوٹیلی فون پر این این آئی کوبتایا کہ اس وقت بلوچستان کی نگران حکومت میں شامل دو وزراء جن کے عہدے کی مدت چند روز بعد ختم ہونی والی ہے ۔اور یہ نگراں وزراء گورنر کے عہدے کیلئے بھاگ دوڑ کررہے ہیں جن میں سے ایک بلوچ اور ایک پشتون ہے جبکہ گورنر بلوچستان کیلئے تحریک انصاف اور بلوچستان عوامی پارٹی (باپ )سے تعلق رکھنے والے دونوں عہدے دار پشتون ہیں۔

اس وقت گورنر بلوچستان کیلئے چاروں امیدوار وں نے سخت بھاگ دوڑ شروع کردی ہے اور رابطوں کے سلسلوں میں اچانک اضافہ کردیاہے۔ نئے گورنر بلوچستان کی نامزدگی تحریک انصاف کے مرکزی چیئرمین نامزد وزیراعظم عمران خان کرینگے ۔

انہوں نے اپنے قریبی کچن کابینہ سے صلح مشورہ شروع کردیاہے۔ بلوچستان صوبائی اسمبلی میں اتحادیوں نے بھی اس سلسلے میں آپس میں صلح مشورہ شروع کردیاہے ۔ کہ کس امیدوار کا نام گورنربلوچستان کیلئے سفارش کرکے وفاق کو بھیجوایا جائے۔