|

وقتِ اشاعت :   September 13 – 2018

کوئٹہ: بلوچستان سے سینیٹ کی خالی نشست پر انتخابات مکمل ہو گئے۔ بلوچستان عواامی پارٹی کے امیدوار اور سابق صوبائی وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی 37 ووٹ لیکر سینیٹر منتخب ہو گئے۔

بلوچستان سے سینیٹ کی جنرل نشست نعمت اللہ زہری کے مستعفی ہونے کے بعد خالی ہوئی تھی۔

اس نشست پر ضمنی انتخاب کیلئے بی اے پی کے سرفراز بگٹی، ایم ایم اے کے رحمت اللہ کاکڑ، بی این پی کے ساجد ترین، پی ٹی آئی کے میر عامر رند، آزاد امیدوار علاؤالدین مری اور غلام دستگیر بادینی نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے۔

بی این پی کے ساجد ترین ایم ایم اے کے امیدوار جبکہ غلام دستگیر بادینی اور پی ٹی آئی کے عامر رند سرفراز بگٹی کے حق میں دستبردار ہوگئے تھے۔ووٹنگ کا عمل آج صبح 9 بجے پریزائیڈنگ آفیسر صوبائی الیکشن کمشنر نیاز بلوچ کی نگرانی میں شروع ہوا اور شام 4 تک جاری رہا۔

ایوان میں 61 میں سے 57 ارکان نے ووٹ کا حق استعمال کیا۔ پہلا ووٹ بی اے پی کے دنیش کمار نے ڈالا۔چار ارکان نے ووٹ استعمال نہیں کئے جن میں مسلم لیگ ن کینواب ثنا للہ زہری، پی ٹی آئی بلوچستان کے صدر سرداریار محمد رند ،نعمت اللہ زہری اور جمہوری وطن پارٹی کے نوابزادہ گہرام بگٹی شامل ہیں۔

ووٹنگ کا عمل مکمل ہونے پر پریزائیڈنگ آفیسر نیاز بلوچ نے نتائج کا اعلان کیا اور بتایا کہ میر سرفراز بگٹی نے 37 ووٹ لیے اور سینیٹر منتخب ہوگئے۔ وہ مارچ 2021 تک سینیٹر رہیں گے۔

اپوزیشن کے حمایت یافتہ ایم ایم اے کے رحمت اللہ کاکڑ کو 20 ووٹ ملے۔ اپوزیشن جماعت پشتوا نخوامیپ نے بھی ایم ایم اے کے امیدوار کو ووٹ دیا۔آزاد امیدوار سابق نگراں وزیراعلیٰ علاؤ الدین مری کوئی ووٹ حاصل نہ کرسکے۔

اپنی کامیابی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سرفراز بگٹی نے کہا کہ سینیٹر منتخب کرانے پر اپنی جماعت اور ساتھیوں کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے مجھ پر اعتماد کیا۔ انہوں نے کہاکہ میں سینیٹ میں بلوچستان کی مؤثر آواز بنوں گا۔

بلوچستان کی جو تصویر گزشتہ چند ماہ میں وفاق میں پیش کی گئی اس کا مؤثر جواب دونگا۔

انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں سب سے بڑا مسئلہ ڈویلپمنٹ کا ہے۔یہ مسئلہ جب تک دور نہیں کیا جاتا تب تک پسماندگی کا خاتمہ ممکن نہیں۔

ملک کے 46 فیصد حصیکو 70 ارب سے ترقی نہیں دی جا سکتی۔ وفاق اور صوبے دونوں کواپنے رویوں پر نظر ثانی کرنا ہوگی۔