|

وقتِ اشاعت :   September 30 – 2018

گوادر: وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ گوادر ایک بین الاقوامی شہر کی حیثیت اختیار کرنے جارہا ہے جس میں ایک مکمل یونیورسٹی کاقیام ضروری ہے۔

کابینہ نے گوادر یونیورسٹی کے ایکٹ کی منظوری دے دی ہے جلد اس منصوبے پر کام کا آغاز ہوگا، ماضی میں بہت سے تعلیمی اداروں کے منصوبوں کو نامکمل چھوڑدیا گیا یا ایسے مقامات پربلا ضرورت تعلیمی اداروں کی عمارتیں بنادی گئیں جہاں ان کی ضرورت نہیں تھی جس سے وسائل کا ضیاع ہوا اور ان علاقوں کے نوجوان تعلیمی سہولت سے محروم رہ گئے، ہم جو بھی منصوبے بنائیں گے وہ عوام کی ضروریات کے مطابق ہوں گے اور انہیں اپنے وقت پر مکمل کیا جائے گا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے یونیورسٹی آف تربت کے گوادر کیمپس میں طلباء وطالبات سے خطاب کرتے ہوئے کیا، وفاقی وزیر محترمہ زبیدہ جلال، صوبائی وزراء میر ظہور احمد بلیدی، میر نصیب اللہ مری، سردار عبدالرحمن کھیتران، سردار نور محمد دمڑ، میر عبدالرؤف رند، اراکین اسمبلی میر حمل کلمتی، سید احسان شاہ اور اکبر آسکانی بھی اس موقع پر موجود تھے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ یونیورسٹی کا معیار بنانے کے لئے اچھی فیکلٹی کی ضرورت ہوتی ہے ہماری کوشش ہوگی کہ مناسب پیکج دے کر ملک بھر سے ایسے اساتذہ کو بلوچستان کی یونیورسٹیوں میں لایا جائے اور مقامی اہل اساتذہ کی بھرپور حوصلہ افزائی کی جائے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کی پسماندگی کے باوجود صوبے میں یونیورسٹیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے جو ایک مثبت پیش رفت ہے ، انہوں نے کہا کہ جلد صوبے میں نمل یونیورسٹی بھی قائم ہوگی اور نسٹ NUST جیسا معیاری تعلیمی ادارہ بھی قائم ہوگا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان کی 65فیصد آبادی 30سال سے کم جوانوں پر مشتمل ہے لہٰذا ہمارے پاس باصلاحیت نوجوانوں کی اتنی بڑی تعداد ہے جو پڑھ لکھ کر اور ہنرمند بن کر ملک اور صوبے کی تقدیر بدل سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عصر حاضر میں سیاسی ومعاشی زاویوں میں تبدیلی آرہی ہے، خاص طور پر بلوچستان کے نوجوانوں کی سوچ وفکر بدل رہی ہے یہی وجہ ہے کہ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں طلباء کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے، انہوں نے طلباء پر زور دیا کہ وہ تعلیم کا حصول صرف روزگار حاصل کرنے کے لئے نہیں بلکہ اپنی شخصیت اور کردار سازی کے لئے کریں، تعلیم کو اپنی اعتماد کی مضبوطی کی بنیاد بنائیں اور اگر ان کا تعلق کسی غریب گھرانے سے ہے تو اس میں ہرگز شرمندگی محسوس نہ کریں، وزیراعلیٰ نے کہا کہ طلباء ابھی سے اپنے پروفیشن کا انتخاب کریں اور اس کے لئے ریسرچ اور انٹرنیٹ کو ذریعہ بنائیں کہ انہوں نے عملی زندگی میں کس شعبہ میں جانا ہے ۔

اپنے رحجان اور صلاحیتوں کو سامنے رکھ کر جو بھی فیصلہ کریں اس پر مضبوطی سے قائم رہیں، انہوں نے کہا کہ صوبے میں سی پیک آرہا ہے گوادر پورٹ فعال ہورہی ہے، یہ وہ مواقع ہیں جو موجودہ نسل کو حاصل ہیں لہٰذا ان تمام مواقعوں کو سامنے رکھ کر اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں، وزیراعلیٰ نے کہا کہ طلباء اچھا فیصلہ کریں گے تو ان کا مستقبل روشن ہوگا اور اگر غلط فیصلہ کریں گے تو ان کے لئے مشکلات ہوں گی، انہوں نے طلباء کو تلقین کی کہ زندگی کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے مثبت سوچ وفکر اختیار کریں اور بلا جوازتنقید سے اجتناب کریں، ہر چیز میں خامی تلاش کرنے سے منفی رجحان جنم لیتے ہیں۔

وزیراعلیٰ نے طلباء سے کہا کہ وہ عملی زندگی میں داخل ہونے جارہے ہیں، جہاں ان کی معاشرتی اور سماجی ذمہ داریوں میں اضافہ ہوگا، انہوں نے کہا کہ طلباء سیاست میں ضرور حصہ لیں لیکن کسی اور کے راستے پر چلنے کی بجائے اپنی سوچ کے مطابق مثبت اور منفی سیاسی طرز عمل کو پرکھیں اور پھر فیصلہ کریں، وزیراعلیٰ نے کہا کہ عوامی نمائندے عوام کے سامنے جوابدہ ہیں لہٰذا عوام اور بالخصوص نوجوان اپنے نمائندوں جنہیں انہوں نے ووٹ دیا ہے سے ان کی کارکردگی پر سوال ضرور کریں، وزیراعلیٰ اس موقع پر طلباء وطالبات سے گھل مل گئے اور نہایت خوشگوار ماحول میں ان کی جانب سے پوچھے گئے تندوتیز سوالات کے نہایت تحمل سے مفصل جواب دیئے۔

دریں اثناء وزیر اعلیٰ بلوچستان جام میر کمال خان نے پی سی ہوٹل گوادر میں پسنی اور گوادر کے صحافیوں کو پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ گوادر اور لسبیلہ پر مشتمل ڈویڑن پر پیپر ورک سابقہ دور حکومت میں کیا گیا ہے ، جبکہ مکران ڈویڑن میں ایرانی تیل کی ترسیل پر پابندی سے بلوچستان حکومت کا کوئی تعلق نہیں ، جو کاروئیاں کی جارہی ہیں وہ کسٹم ایکٹ کے تحت کی جاری ہیں۔ کسٹم ایک وفاقی ادارہ ہے جو اپنی پالیسیاں خود مرتب کرتی ہے۔ لیکن ان دونوں ایشوز کو سیاسی بنا کرسیاست چمکانے کی کوشش کی جاری ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جن کے پاس اپنے دور حکومت میں مکمل اختیارات تھے ، وہ علاقے اور عوام کی قسمت نہ بدل سکے۔ بلکہ ان کے دور حکومت میں اربوں روپے واپس چلے گئے ، اور جو منصوبوں پر کام کِیے گئے یا تو وہ نامکمل ہیں یاوہ زمین پر موجود نہیں اس کی باقاعدہ ہماری حکومت تحقیقات کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان حکومت اور اس کے اتحادیوں نے فیصلہ کیا ہے کہ بلوچستان کی ترقی خوشحالی کو گراؤنڈ لیول میں لائیں گے ۔ ہماری حکومت نے ڈیڑھ مہینے کے دوران تینمرتبہ کابینہ اجلاس منعقد کروایا۔

انہوں نے کہا وزرا کے ساتھ ملکر صوبے کے ہر ڈویڑن کا دورہ کروں گا اور علاقائی مسائل کا بذات خود مشاہدہ اور جائزہ لوں گا۔ جبکہ ترقیاتی کاموں میں علاقے کے لوگوں کی مشاورت کو ترجیح دے جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں پہلی مرتبہ گڈ گورننس قائم کی جائے گی کیونکہ اس کے قیام کے بغیر ترقی اور امن و امان کا قیام ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان عوامی پارٹی سے عوام کی بڑی امیدیں وابستہ ہیں ، بلوچستان کی مخلوط حکومت یہاں کے عوام کے مسائل ان کے دہلیز پر حل کرنے کی ہر ممکن اقدامات کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ دورہ مکران کے دوران ترقیاتی منصوبوں کا قریب سے مشاہدہ کیا ہے ، سابقہ حکومت نے مکران میں جو ترقی کے دعوے کئے ہیں ان کی اس ترقی میں عوام اور عام آدمی کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا کیونکہ پسنی میں کروڑوں روپے کے اسپتال کا خوبصورت بلڈنگ بنایا گیا لیکن وہ ایسی جگہ پر تعمیر کی گئی جو عوام کی پہنچ سے دور ہے۔ 2007 کے آر او پلانٹ جس میں زنگ لگ چکی ہے غیر فعال اور ناکارہ ہیں ان سے عوام کو ایک گلاس پانی بھی مہیا نہیں ہوسکا ، جبکہ سالانہ ساڑھے تین ارب روپے کی پانی ضلع گوادر کو سپلائی کی جاری ہے اس خطیر رقم سے ضلع بھر میں آر او پلانٹ لگا کر پانی کا مستقل حل کیا جاسکتا ہے۔ عمانی گرانٹ واٹر سپلائی منصوبے اور کارواٹ پلانٹ بروقت مکمل ہوتے تو آج گوادر کے عوام کو یہ دن نہیں دیکھنے پڑتے۔ جبکہ اربوں روپے ایسے منصوبوں پر لگائے گئے جن کے نہ سر ہے نہ پیر ۔

انہوں نے کہا کہ مکران کے ساحلی علاقوں میں روزگار کے دوسرے ذرائع موجود نہیں ، اسی فیصد لوگوں کا ذریعہ معاش ماہی گیری سے منسلک ہیں ، ماہی گیری کے شعبے کو جدید خطوط پر استور کرنے کے لئے قانون سازی کی جائے گی جس سے مقامی ماہی گیروں کے روزگار کو تحفظ دیا جائے گا تاکہ کوئی ان کے حق پر ڈاکہ نہ ڈال سکے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے ہر ضلع میں بوائز اور گرلز انٹر کالج اور ہر یونین کونسل میں گرلز اور بوائز ہائی اسکول بنائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ نامکمل منصوبوں کو جلد مکمل اور ایسے نئے منصوبے بنائیں گے جس سے عوام کو تبدیلی کا احساس ہو ، انہوں نے کہا کہ ترقی کے دعوے دار آکر یہ دکھائیں کہ انہوں نے پانچ سال کے دوران کون سا کارنامہ سر انجام دیا ہے ، گوادر پورٹ ، کوسٹل ہائی وے ، میرانی ڈیم تو مشرف کے دور میں بنے ، ان کے اربوں روپے کہاں خرچ ہوئے ۔

اس موقع پر وفاقی وزیر زبیدہ جلال ، صوبائی وزرا سردار عبدالرحمن کھیتران ، میر عبدالرؤف رند ، میر ظہور بلیدی ، نور محمد دمڑ ، نصراللہ مری ، عبدالخالق ہزارہ ، اراکین اسمبلی حاجی اکبر آسکانی ، سید احسان شاہ ، میر حمل کلمتی ، اور دیگر موجود تھے۔

دریں اثنا وزیراعلی بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ بلوچستان کی ترقی یہاں کے لوگوں کی خوشحالی سے منسلک ہے،حکومت گوادر کی ترقی میں مقامی لوگوں کے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے انہیں تمام سہولیات فراہم کرے گی۔

ان خیالات اظہار انہوں نے گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی، گوادر انڈسٹریل اسٹیٹ اور پانی اور بجلی کے منصوبوں کی پیش رفت جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر دفاعی پیداوار محترمہ زبیدہ جلال، صوبائی وزراء عبدالرحمن کھیتران ،نصیب اللہ مری، نور محمددمڑ مشیر برائے ماہی گیری عبدالرؤف رند رکن صوبائی اسمبلی سید احسان شاہ اور اکبر آسکانی بھی موجود تھے۔

اس موقع پر ادارہ ترقیات گوادر کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر سجاد حسین نے اجلاس کو ادارہ ترقیات گوادر کے تحت جاری اور مکمل ہونے والے منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔اجلاس میں گوادر ماسٹر پلان اپ گریڈ یشن اور سمارٹ سٹی منصوبے اور پرانی آبادی کی منتقلی سے متعلق مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ اجلاس میں سمارٹ بندرگاہ سٹی منصوبوں کے حوالے سے مقامی لوگوں کی تجاویز اور مشاورت سے متعلق امور پر بھی بات چیت کی گئی ۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیاکہ گوادر کی ترقی میں مقامی لوگوں کو ہر حال میں شامل کیا جائے گا اور ترقیاتی منصوبوں میں مقامی لوگوں کو اولین ترجیح دی جائے گی۔اجلاس کو بتایا گیا ہے کہ گوادر بندرگاہ پر اس وقت انفراسٹرکچر کا کام صنعتی زون اور دیگر منصوبوں کی تکمیل تیزی سے جاری ہے جبکہ گوادر بندرگاہ کو کوسٹل ہائی وے سے منسلک کرنے کے لیے دیمی زر ایکسپریس وے پر بھی کام جاری ہے۔

اجلاس کو آگاہ کیاگیا کہ گوادر کے لوگوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لئے مختلف منصوبوں پر عملدرآمد کیا جارہا ہے۔اجلاس کو گوادر سیف سٹی پروجیکٹ کی پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا۔ اجلاس کو جوائنٹ سیکرٹری دفاعی پیداوار اور کیسکو حکام کی جانب سے گوادر کو بجلی سمیت دیگر سہولتوں کے لئے وفاقی منصوبوں کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔

اجلاس میں جیڈا اورکنسلٹنٹ گروپ کے دفاترکراچی سے گوادر منتقلی کا فیصلہ کیا گیا جس سے ان منصوبوں میں پلاٹوں کی الاٹمنٹ میں بے ضابطگیوں کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔ کیسکو چیف کی جانب سے اجلا س کو بتایا گیا کہ مکران کو قومی ٹرانسمیشن لائن سے منسلک کرنے کا منصوبہ وفاقی پی ایس ڈی پی میں شامل ہے جس پر لاگت کا تخمینہ 13ارب روپے ہے۔