کوئٹہ: ڈپٹی سپیکر سردار بابر موسیٰ خیل کی زیر صدارت ہونے والے بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں اراکین اسمبلی نے اہم نوعیت کے مسئلوں پر ایوان کی توجہ مبذوال کراتے ہوئے پی ایس ڈی پی پر موخر شدہ بحث کا سلسلہ آگے بڑھایا ۔
سوا گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہونے والے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے بلوچستان نیشنل پارٹی کے رکن بلوچستان اسمبلی ثناء بلوچ کا کہنا تھاکہ 80 ارب روپے کے بجٹ کے باوجود بلوچستان میں غربت تعلیم بے روزگاری پانی کی قلت صحت اور سڑکوں سمیت دیگر سہولیات کا فقدان ہے ،ہر پی ایس ڈی پی میں تمام حلقوں میں فنڈز جاتے رہے مگر جب سے پی ایس ڈی پی غور کیا تو اس میں انفراسٹکچرور ترقی کے عمل میں کچھ غامیاں ہیں طریقہ کار اور سمت کی درست نہیں بات کسی ایک حلقہ کی نہیں بلکہ پورے صوبے کا معاملہ ہے ۔
اربوں روپے کے بجٹ کے باوجود اگر عوام سہولیات سے محروم رہتے ہیں تو حکومت اور عوامی نمائندے اس کا ذمہ دار ہیں جب تک ترقی کے ہداف مقرر اور سمت کو درست نہیں کیا جاتا تب تک 80 ارب کو کجا 800 ارب روپے میں بھی ترقی ممکن نہیں ہے ۔پاکستان تحریک انصاف کے مبین خلجی کہنا تھا کہ سابق دورحکومت میں بنائی جانے والی پی ایس ڈی پی میں کوئٹہ شہر کو نظرانداز کیا گیا ہے شہر میں گیس ، بجلی ، پانی کی سہولیات کی فراہمی کے لئے منصوبہ بندی وقت کی ضرورت ہے موجودہ پی ایس ڈی پی پر نظر ثانی کی جائے ۔
جمعیت علماء اسلام کے سید فضل آغا کا ایوان میں خطاب کرتے ہوئے کہنا تھاکہ ماضی میں برسراقتدار آنے والی حکومتوں کے ادوار میں ہر سال اربوں روپے تو خرچ کئے گئے مگر زمین پر کچھ نظر نہیں آتا ایک ایک منصوبے پر تین تین محکموں کو ادائیگیاں کی گئیں مس مینجمنٹ کے باعث ترقیاتی منصوبے ، سروے اور ضرورت کے بغیر دفاتر میں بیٹھ کر بنائے جاتے رہے ۔
بلوچستان میں مسائل اور ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے صورتحال انتہائی گھمبیر ہے جس کی ہم بہتری چاہتے ہیں۔ صوبائی وزیر میر اسد بلوچ کا کہنا تھا کہ نواب اسلم رئیسانی کے دور میں پوری اسمبلی کو اعتماد میں لے کرہم این ایف سی کے لئے اسلام آباد گئے بہتر انداز میں بلوچستان کا مقدمہ لڑکر کامیابی حاصل کی جس کا ثبوت اب اربوں روپے کا بجٹ ہے ماضی میں یہاں پر مختلف حکومتیں آتی رہیں مگر صوبے کی پسماندگی ختم نہ ہوسکی سیندک کے عوام آج بھی پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں اسلام آباد نے ہمیشہ بلوچستان سے ناانصافی کی ہے ماضی کی ناقص پالیسیوں کے باعث ریکوڈک سمیت کسی منصوبے سے بلوچستان کے عوام کو فائدہ نہیں ملا ۔
چین کے سفیر نے ایک پریس کانفرنس میں یہ کہا کہ سی پیک کے حوالے سے 22منصوبوں کے لئے70ہزار افراد کو ملازمتیں دی گئیں مگر بلوچستان میں تو کسی کو ملازمت نہیں ملی سی پیک کی اہمیت صرف گوادر پورٹ کی وجہ ہے 46ارب ڈالر کے منصوبے پنجاب سے شروع ہو کر پنجاب پر ختم ہوگئے۔
پاکستان تحریک انصاف کے عمرخان جمالی کا ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہنا تھا کہ موجودہ پی ایس ڈی پی سابق دور حکومت میں بنائی گئی جس میں اجتماعی منصوبوں کی بجائے انفرادی منصوبوں کو اولیت دی گئی 2010ء اور2012ء میں آنے والے تباہ کن سیلابوں سے ہمارے علاقے کا پورا انفراسٹرکچر تباہ ہوگیا مگر سابق دور میں یہاں آنے والے دوستوں نے اس حوالے سے کوئی کام نہیں کیا ۔ نصیرآباد ڈویژن کی آبادی لاکھوں نفوس پر مشتمل ہے اور یہ بلوچستان کا واحد گرین بیلٹ ہے تباہ کن سیلاب کے باعث پٹ فیڈر کینال میں مٹی بھرجانے کی وجہ سے پانی کی گنجائش انتہائی کم ہوگئی ہے ۔
انہوں نے وزیراعلیٰ سے استدعا کی کہ پٹ فیڈر کینال کی ڈی سلٹنگ کے لئے بجٹ میں فنڈز مختص کئے جائیں ۔بلوچستان عوامی پارٹی کی رکن بشری ٰ رندکا کہنا تھا کہ بلوچستان میں تعلیم کا شعبہ انتہائی زیادہ مسائل سے دوچار ہے سابق حکومت تعلیم کے حوالے سے ہمارے گلے میں کانٹوں کا ہار چھوڑ کر چلی گئی ہے اب موجودہ حکومت ان مسائل کے حل کے لئے اقدامات اٹھارہی ہے مگر مسائل بہت زیادہ ہیں ان کا مالی سال2014-15سے لے کر رواں مالی سال 2018-19ء تک سابق دور حکومت میں تعلیم کے شعبے کے لئے رکھے گئے مجموعی اور ترقیاتی بجٹ کا ذکر تے ہوئے کہنا تھا کہ ہم عام طور پر بچے کی حاضری کو یقینی بنانے پر تو زیادہ توجہ مرکوز کرتے ہیں مگر معیار تعلیم پر توجہ نہیں دیتے جس کا نتیجہ سب کے سامنے ہے ۔
بلوچستان نیشنل پارٹی کے رکن ملک نصیرشاہوانی کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں اسی فیصد عوام غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کررہے ہیں موجودہ بجٹ جب بنا تو اس وقت کوئٹہ میں حلقوں کی تعداد6تھی جو اب بڑھ کر9ہوگئی ہے میرے حلقے میں پی ایس ڈی پی کے تحت کوئی منصوبے نہیں رکھے گئے کوئٹہ شہر کے ساتھ پسماندہ علاقوں سریاب ، ہنہ اور کچلاک جیسے پسماندہ علاقوں کو ترجیح دی جائے شہر کے وسطی علاقے میں ایسی سڑکیں بھی موجود ہیں جو ہر سال بنتی رہی ہیں یہ سلسلہ ترک کرکے شہر کے گردونواح اور پسماندہ علاقوں میں سڑکوں کی تعمیر پر توجہ دی جائے ۔
صوبائی وزیر سردار عبدالرحمان کھیتران کا ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اپوزیشن اورحکومتی ارکان پی ایس ڈی پی سے متعلق تحریری طور پر اپنی تجاویز دیں تاکہ ان پر غور کرتے ہوئے بہتر پی ایس ڈی پی بنائی جاسکے ۔حکومت کی یہ پالیسی ہے کہ اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلنا ہے ، صوبے میں اقتدار میں آنے والوں نے بھی کچھ نہیں کیا اگر گوادر کی یہ حالت ہے تو اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اندرون مکران حالت کیا ہوگی ۔
انہوں نے کہا کہ ہم کوششیں کریں گے کہ پارلیمانی جماعتوں کے لیڈروں کو وہاں کا دورہ کراکے صورتحال سے آگاہ کریں ۔بلوچستان نیشنل پارٹی کی رکن اسمبلی شکیلہ نوید دہوار کا ایوان میں گزشتہ دنوں یونیسیف کے زیراہتمام اساتذہ کی قابلیت کا جائزہ لینے کے حوالے سے منعقدہ ٹیسٹ میں اساتذہ کی اکثریت کے فیل ہونے پر تشویش کااظہار کہنا تھا کہ ٹیسٹ میں صرف دس سے پندرہ فیصد اساتذہ حساب ، بیس سے تیس فیصد اساتذہ سائنس اور 60فیصد اساتذہ اردو کے ٹیسٹ میں پاس ہوئے ہیں اس عمل کا قصوروار ہم کس کو ٹھہرائیں ماضی میں اگر اساتذہ کی کیپسٹی بلڈنگ اور انہیں بنیادی سہولیات کی فراہمی پر توجہ دی جاتی تو آج ہم تعلیمی پسماندگی کا رونا نہ روتے ۔
اجلاس میں بی این پی کے رکن اختر حسین لانگو کا کہنا تھا کہ پی ایس ڈی پی میں موجود منصوبوں پر نظر ثانی کی ضرورت ہے تاکہ صوبائی حکومت اپنے محدود وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے عوام کی ترقی اور خوشحالی کو یقینی بناسکے ۔انہوں نے کہا کہ تعلیم ہماری پہلی ترجیح ہے مگر صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں سینکڑوں سکول کرائے کی عمارتوں میں قائم ہیں جو کرائے کی عدم ادائیگی کے باعث ہر سال چھ چھ مہینے بند رہتے ہیں ۔
اجلاس میں ا سپیکر کی جانب سے مٹھا خان کاکڑ کو پشتو میں تقریر کرنے روکنے پر پشتونخوامیپ کے رکن نصراللہ زیرے کا کہنا تھا کہ اسمبلی کے قواعد وانضباط کار میں اراکین اسمبلی کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنی مادری زبان میں تقریر کرسکتے ہیں اس کے لئے اجازت کی ضرورت نہیں ہے ۔
صوبائی مشیر مٹھاخان کاکڑ ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہنا تھا کہ قیام پاکستان سے ژوب میں بننے والے دو سکولوں کو اب جا کرستر برس کے بعد مڈل سے ہائی کا درجہ دیاگیا ہے تعلیمی پسماندگی کا شکار ضلع میں حکومت نئے سکول تعمیر کرکے وہاں ہاسٹلز قائم کرے تاکہ بچے وہاں رہائش اختیار کرکے اپنی تعلیم پر توجہ دے پائیں ۔ انہوں نے کہا کہ اگر تعلیم پر توجہ نہیں دی گئی تو آئندہ ان بچوں کا دہشت گرد بننا فطری عمل ہوگا ۔
اجلاس میں جمعیت علماء اسلام کے رکن ملک سکندر خان ایڈووکیٹ پی ایس ڈی پی سے ہٹ کر اراکین اسمبلی کی تقریروں پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہنا تھا کہ عجیب روایت ہے جو کام ہمیں کرنا چاہئے اس کی بجائے ہم نے اسمبلی میں جلسہ کررکھا ہے دنیا جہان کی کہانیاں بیان ہورہی ہیں جبکہ زیر بحث ایشو پر اراکین توجہ نہیں دے رہے ۔انہوں نے اسمبلی اجلاسوں کے تاخیر سے شروع ہونے پر بھی تشویش کااظہار کیا۔
اجلاس سے بلوچستان نیشنل پارٹی کے رکن احمد نواز بلوچ کا خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ بلوچستان میں تعلیم کی صورتحال انتہائی ناگفتہ بہ ہے گزشتہ پندرہ سالوں کے دوران شیخ زید ہسپتال میں قائم جدید مشینری اور آلات سے استفادہ حاصل کرنے کی بجائے اسے لاوارث چھوڑا گیا وزیراعلیٰ بلوچستان اور کابینہ کے اراکین شیخ زید ہسپتال کا دورہ کرکے وہاں لوگوں کو درپیش مسائل کا جائزہ لے کر ہسپتال کو ٹیچنگ ہسپتال کا درجہ دیا جائے ۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ سابق حکومت میں پانی کے منصوبوں کے حؤالے سے ضائع کئے گئے فنڈز اور صفائی کی مد میں ایک غیر سرکاری ادارے کودیئے گئے 7ارب روپے کی تحقیقات کرائی جائیں انہوں نے کہا کہ دیہی علاقوں میں سولہ گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ کی جارہی ہے جو ناروا عمل ہے انہوں نے کہا کہ کلی جیو سادات کے پورے یونین کونسل میں ایک بھی ہائی سکول نہیں حکومت اس علاقے میں بوائز ہائی سکول کے قیام کی منظوری دے ۔
80ارب روپے کے بجٹ کے باوجودبلوچستان میں پسماندگی ہے ، اراکین اسمبلی
![]()
وقتِ اشاعت : October 2 – 2018