|

وقتِ اشاعت :   October 14 – 2018

ملک میں قومی اسمبلی کی 11 اور صوبائی اسمبلی کی 24 نشستوں پر ضمنی انتخابات کے لیے ووٹنگ کا وقت ختم ہوگیا اور ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے۔

الیکشن کمیشن کے ریزلٹ ٹرانسمیشن سسٹم (آر ٹی ایس) کے تحت قومی اسمبلی کے حلقوں کے 73.5 فیصد نتائج موصول ہوگئے ہیں۔

جن کے مطابق لاہور کے حلقے 124 میں مسلم لیگ (ن) کے شاہد خاقان عباسی 67 ہزار 3 سو 24 ووٹ لے کر آگے ہیں جبکہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے غلام محی الدین 27 ہزار 5 سو 65 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔

راولپنڈی این اے 60 تحریک انصاف کے شیخ راشد 35 ہزار 37 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر ہیں جبکہ ن لیگ کے ساجد خان 34 ہزار 8 سو 28 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔

این اے 69 گجرات میں مسلم لیگ (ق) کے مونس الہیٰ 59 ہزار 9 سو 22 ووٹ لے کر آگے ہیں جبکہ ن لیگ کے عمران ظفر 37 ہزار ایک سو 87 ووٹ لے کر دوسرے نمبر ہیں۔

این اے 65 چکوال میں مسلم لیگ (ق) کے چوہدری سالک حسین 91 ہزار 7 سو 41 ووٹ لے کر آگے ہیں جبکہ تحریک لبیک کے محمد یعقوب 28 ہزار 3 سو 75 ووٹ لے کر دوسرے نمبر ہیں۔

این اے 131 لاہور میں مسلم لیگ (ن) کے سعد رفیق 52 ہزار 15 ووٹ لے کر آگے ہیں جبکہ پی ٹی آئی کے ہمایوں اختر 44 ہزار 5 سو 45 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔

این اے 56 اٹک میں مسلم لیگ (ن) کے سہیل خان ایک لاکھ 3 ہزار 2 سو 57 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر ہیں جبکہ پی ٹی آئی کے ملک خرم خان 72 ہزار 2 سو 9 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے دی گئی ہدایات کے مطابق قومی و صوبائی اسمبلی کی 35 نشستوں کے لیے پولنگ کا عمل صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک بلاتعطل جاری رہا جس کے لیے سیکیورٹی کے سخت اقدامات کیے گئے۔

ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے بھی ووٹنگ کے عمل میں آئی ووٹنگ کے ذریعے حصہ لیا۔—فوٹو:ڈان نیوز

الیکشن کمیشن کی جانب سے شکایات کے اندراج کے لیے کنٹرول روم بھی قائم کیا گیا ہے اور چیف الیکشن کمشنر سردار محمد رضا نے کنٹرول روم کا دورہ کیا جہاں ترجمان الیکشن کمیشن ندیم قاسم نے انہیں انتخابی شکایات سے متعلق بریفنگ دی۔

خیال رہے کہ ملک بھر میں قومی اور پنجاب اسمبلی کے 11، 11 حلقوں کے ساتھ ساتھ خیبر پختونخوا اسمبلی کے 9، سندھ اور بلوچستان اسمبلیوں کے 2، 2 حلقوں میں ضمنی انتخابات کے لیے پولنگ کا عمل جاری ہے اور 600 سے زائد میدوار مدمقابل ہیں۔

ای سی پی نے سعد رفیق کا نتائج سے قبل جیت کے اعلان کا نوٹس لے لیا

الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے خواجہ سعد رفیق کے حتمی نتائج آنے سے قبل فتح کے اعلان کا نوٹس لے لیا۔

واضح رہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے اپنے حلقے این اے 131 کے حتمی نتائج آنے سے قبل ہی اپنی جیت کا اعلان کردیا تھا۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے میں ان کا کہنا تھا کہ ’خواجہ سعد رفیق کے ریمارکس کا نوٹس لے لیا گیا ہے‘۔

الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ ’کسی بھی امیدوار کو حق حاصل نہیں کہ الیکشن کمیشن کے کام میں مداخلت کرے، الیکشن کمیشن اپنے آئینی فرائض بخوبی سر انجام دے رہا ہے‘۔

قومی و صوبائی اسمبلیوں کے حلقے

قومی اسمبلی کے جن حلقوں پر ضمنی انتخابات ہورہے ہیں، ان میں این اے 35 بنوں، این اے 53 اسلام آباد، این اے 56 اٹک، این اے 60 راولپنڈی، این اے 63 راولپنڈی، این اے 65 چکوال، این اے 69 گجرات، این اے 103 فیصل آباد، این اے 124 لاہور، این اے 131 لاہور، این اے 243 کراچی شامل ہیں۔

—فوٹو:ڈان نیوز

صوبائی اسمبلی کے حلقوں کی بات کی جائے تو پنجاب میں پی پی 164 لاہور، پی پی 165 لاہور، پی پی 103 فیصل آباد، پی پی 118 ٹوبہ ٹیک سنگھ، پی پی 3 اٹک، پی پی 27 جہلم، پی پی 201 ساہیوال، پی پی 222 ملتان، پی پی 272 مظفرگڑھ، پی پی 264 رحیم یار خان، پی پی 292 ڈی جی خان شامل ہیں۔

سندھ میں پی ایس 30 خیر پور جبکہ پی ایس 87 کی نشستیں شامل ہیں، اس طرح بلوچستان کی بھی 2 صوبائی اسمبلی کی نشستوں پی بی 35 مستونگ اور پی بی40 خضدار پر بھی ضمنی انتخابات ہورہے ہیں۔

خیبرپختونخوا میں پی کے 3 سوات، پی کے 7 سوات، پی کے 44 صوابی، پی کے 53 مردان، پی کے 61 نوشہرہ، پی کے 64 نوشہرہ، پی کے 78 پشاور، پی کے 97 ڈی آئی خان اور پی کے 99 ڈی آئی خان شامل ہیں۔

قومی و صوبائی اسمبلی کے 35 حلقوں میں پولنگ اسٹیشنز کی مجموعی تعداد 7 ہزار 4 سو 89 ہے جبکہ رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 92 لاکھ 83 ہزار سے زائد ہے۔

قومی اسمبلی کی 11 میں سے 4 نشستیں وزیراعظم عمران خان نے چھوڑی تھیں، جنہوں نے مجموعی طور پر قومی اسمبلی کے 5 حلقوں سے انتخاب لڑا اور کامیاب ہونے کے بعد این اے-35 بنوں، این اے-53 اسلام آباد، این اے-131 لاہور اور این اے-243 کراچی کی نشست خالی کردی جبکہ میانوالی کی نشست محفوظ رکھی۔

—فوٹو:ڈان نیوز

قبل ازیں ضمنی انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن نے تمام تر تیاریوں کو حتمی شکل دی اور انتخابی سامان کی ترسیل متعلقہ حلقوں میں کردی گئی۔

پولنگ اسٹیشن پر پاک فوج کے جوان بھی سیکیورٹی کے فرائض انجام دے رہے ہیں جو پیر تک تعینات رہیں گے، انتخابی عمل دوران فوجی جوان پولنگ اسٹیشنز کے اندر اور باہر خدمات سرانجام دیں گے تاہم انہیں ووٹنگ کی گنتی کے عمل سے دور رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن نے 35 حلقوں کے ایک ہزار 727 پولنگ اسٹیشن حساس ترین قرار دیے ہیں، سب سے زیادہ 195 حساس پولنگ اسٹیشنز این اے 35 بنوں کے ہیں جبکہ این اے 56 اٹک کے 186 پولنگ اسٹیشنز کو بھی حساس قرار دیا گیا ہے۔

اسی طرح گجرات میں قومی اسمبلی کے این اے 69 میں 96 اور کراچی کے این اے 243 میں 92 پولنگ اسٹیشنز کو حساس قرار دیا گیا۔

—فوٹو:ڈان نیوز

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ترجمان ندیم قاسم کا کہنا تھا کہ ملک میں جمہوری عمل کے تسلسل کے لیے شفاف اور منصفانہ انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی ذمے داری ہے۔

ترجمان الیکشن کمیشن نے واضح کیا کہ پولنگ اسٹیشن کے اطراف میں ایک خاص حدود میں موبائل فون استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہو گی اور ووٹرز کو ہدایت کی کہ وہ اپنے ہمراہ اصلی شناختی کارڈ لے کر آئیں جبکہ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

ندیم قاسم نے کہا کہ آئی ووٹنگ سسٹم کے تحت اب تک بیرون ملک مقیم 7 ہزار 3 سو 16 ووٹرز کی رجسٹریشن ہوئی ہے اور اوورسیز ووٹرز کو 14 اکتوبر کو صبح 8 سے شام 5 بجے تک ووٹ ڈالنے کی اجازت ہو گی۔