اسلام آباد کی نشست پر اپوزیشن کی کامیابی کے بعد وزیراعظم عمران خان نے اعتماد کا ووٹ لینے کافیصلہ کیا ہے ، اس کی بنیادی وجہ وزیراعظم عمران خان نے الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ کو قرار دیا ہے کہ اسلام آباد کی نشست پر عبدالحفیظ شیخ کو شکست دینے کیلئے ممبران کو خریدا گیا اور باقاعدہ بولی لگائی گئی ۔ عمران خان نے یہ بھی کہہ دیا کہ ان کے ہی جماعت کے 15ارکان نے پیسے لیکر اپوزیشن کو ووٹ دیا اگر مجھ پر اعتماد نہیں تو وہ پارلیمنٹ میں آکر عدم اعتماد کااظہار کریں ،میں ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اپوزیشن بنچ پر بیٹھ جائونگا۔
بلوچستان میں سینیٹ کی خالی ہونے والی 12نشستوں میں سے حکومتی اتحادنے 8نشستوں پر میدان مارلی، اپوزیشن اتحاد حکومت کو سرپرائز دینے میں ناکام رہی۔ پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کو4نشستوں پر کامیابی ملی، مجموعی طورپر65اراکین اسمبلی نے ووٹ کاسٹ کیا ۔انتخابی نتائج کے مطابق جنرل کی 7نشستوں پر بلوچستان عوامی پارٹی کے منظور کاکڑ،سرفراز بگٹی،پرنس آغا احمد عمرزئی، آزاد امیدوارعبدالقادر،عوامی نیشنل پارٹی کے عمر فاروق کاسی،جے یو آئی کے مولانا عبدالغفور حیدری،بی این پی کے قاسم رونجھونے کامیابی حاصل کی ۔
ملک بھر میں سینیٹ انتخابات میں سب سے زیادہ نظریں اسلام آباد کی نشست پر لگی ہوئی تھیں اور یہی نتیجہ ملک میں آنے والی سیاسی منظر نامہ کو واضح کردے گا کہ کتنی بڑی تبدیلی آنے کا امکان ہے۔ اس نشست کیلئے حکومت اوراپوزیشن دونوں نے اپنی پوری طاقت لگائی، اسلام آباد میں مسلسل سیاسی بیٹھک لگائے گئے ،رات دیر تک اجلاسوں کے دور چلے۔ حکومت کی جانب سے اس نشست پر عبدالحفیظ شیخ جبکہ اپوزیشن کی جانب سے مشترکہ امیدوار سابق وزیراعظم پیپلزپارٹی کے رہنماء یوسف رضا گیلانی تھے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے کہا ہے کہ سینیٹ الیکشن ماضی کی روایت کے مطابق خفیہ بیلٹنگ سے ہوں گے تاہم شفافیت کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد چیف الیکشن کمشنر کی زیرصدارت ایک اجلاس ہوا۔ اجلاس میں سپریم کورٹ کی رائے پر اس کی روح کے مطابق عمل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔اجلاس میں یہ فیصلہ بھی ہوا کہ سینیٹ الیکشن میں ٹیکنالوجی کے استعمال کیلئے کمیٹی بنائی جائے گی۔ٹیکنالوجی کے استعمال سے متعلق کمیٹی 4ہفتوں میں سفارشات دے گی۔ مذکورہ کمیٹی نادرا،ایف آئی اے اور وزارت آئی ٹی سے تجاویز بھی لے گی۔
سینیٹ کی دو نشستوں پر قومی اسمبلی میں الیکشن ہو گا اورایک نشست خالی ہونے کے باعث ارکان کی مجموعی تعداد341 ہے۔سینیٹ کی جنرل اور خواتین کی مخصوص نشست کے لیے حکومت اور اپوزیشن میں ون ٹو ون مقابلہ ہے اور کسی بھی امیدوار کو جیتنے کے لیے171 ارکان کے ووٹ درکار ہوں گے۔حکومتی اتحاد کو اس وقت قومی اسمبلی میں181 ارکان کی حمایت حاصل ہے۔ حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کے157 ایم این ایز ہیں۔قومی اسمبلی میں حکومت کی اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے7، مسلم لیگ ق اور بلوچستان عوامی پارٹی کے پانچ پانچ ارکان ہیں۔
یکم مارچ سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافے کا امکان ہے۔ اوگرا نے سمری پیٹرولیم ڈویژن کو ارسال کر دی ہے۔ سمری میں پیٹرولیم مصنوعات کی مجوزہ قیمتوں کا تعین 30روپے فی لیٹرلیوی کی بنیاد پرکیا گیا ہے۔اطلاعات ہیں کہ پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 20روپے7پیسے اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔ ڈیزل کی فی لیٹرقیمت میں19روپے61 پیسے اضافے کی تجویز ہے۔پیٹرولیم لیوی کی بنیاد پرپیٹرول اور ڈیزل کی قیمت 6 روپے فی لیٹربڑھے گی۔
وزیراعظم عمران خان نے بھارتی جارحیت کے خلاف پاکستان کے کامیاب ردعمل پر قوم اور پاک فوج کو مبارکباد دی۔وزیر اعظم عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بالاکوٹ واقعے کے 2 سال مکمل ہونے پر پاک فوج کی بہادری کو سلام پیش کیا اور وزیراعظم نے بھارتی جارحیت کے خلاف پاکستان کے کامیاب ردعمل پر قوم کو مبارکباد دی۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ذمہ دار قوم ہونے کے ناطے ہم نے پورے عزم کے ساتھ بروقت جواب دیا اور پاکستان نے پوری دنیا کو اپنے ذمہ دارانہ رویے کا ثبوت دیا۔
وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ مشکل وقت سے نکلنے کے لیے ملک کو آؤٹ آف دی باکس سوچنا پڑتا ہے۔لاہور میں سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ 10 اندھیرے برسوں میں بہت زیادہ قرضے لیے گئے، اب ہر سال ہم پر قرضوں کی قسطیں بڑھتی جارہی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ مشکل وقت سے نکلنے کے لیے ملک کو آؤٹ آف دی باکس سوچنا پڑتا ہے، آؤٹ آف دی باکس کا مقصد پرانی سوچ سے باہر نکلنا ہے۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ایک سال سے قطر سے معاہدے کی کوشش کر رہے تھے۔
الیکشن کمیشن نے بلوچستان سے سینیٹ امیدواروں کی حتمی فہرست جاری کردی، فہرست الیکشن کمیشن کی جانچ پڑتال اور الیکشن ٹریبونل کے فیصلوں کے بعد جاری کی گئی، جنرل نشستوں کیلئے سب سے زیادہ امیدوار بلوچستان عوامی پارٹی سے ہیں جن میں آغا احمد عمر احمدزئی ، میر سرفرازبگٹی ، منظور کاکڑ ، ستارہ ایاز اور عبدالخالق اچکزئی جنرل سیٹوں کے امیدوار ہیں ، JUI کی طرف سے مولانا عبدالغفور حیدری ، پشتونخواہ میپ کے عثمان کاکڑ، میر اسرار زہری BNP عوامی ، ANP سے ارباب فاروق کاسی ، قاسم رونجھو BNP مینگل سے اور محمد جواد جمہوری وطن پارٹی کا نام حتمی طور پر فہرست میں شامل ہے ۔
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں گرین بس سروس کے جلد آغاز کے دعوے بار بار کئے جارہے ہیں مگر زمین پر کام ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔ کوئٹہ کے شہریوں کیلئے سستی سفری سہولیات ایک بڑا مسئلہ ہے کیونکہ شہر میں چلنے والی لوکل بسوں کی حالت انتہائی خستہ ہے جن میں سفر کرنا شہریوں کیلئے کسی عذاب سے کم نہیں ، ٹوٹی پھوٹی سیٹیں، فرش بوسیدہ ہونے کے ساتھ دیگر مسائل عوام کیلئے بہت بڑے حادثات کاسبب بن سکتے ہیں مگر بدقسمتی سے چند لوکل بس مالکان اپنے بسوں کو بہتر بنانے کی بجائے گرین بس سروس کی مخالفت کرتے دکھائی دیتے ہیں۔