امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ہم غزہ میں لوگوں کو کھانا کھلانے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس مقصد کے لیے اسرائیل تقسیم میں کردار ادا کرے گا، جبکہ عرب ریاستیں مالی معاونت فراہم کریں گی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر مزید کچھ کہنا ممکن نہیں کیونکہ اصل اختیار اسرائیل کے پاس ہے۔
کوئٹہ: وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر اپنے پیغام میں کشمیری عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ 5 اگست 2019 کا دن کشمیر کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے،
کوئٹہ : بی ایس او شال زون کا ورکنگ کمیٹی کا اجلاس منعقد، مختلف ایجنڈے زیر بحث سمیت قومی راہشون سردار عطاء اللہ مینگل کے برسی کے موقع پر مرکزی پروگرام کے توسط سے شال میں سیمینار کا انعقاد کیا جائے گا بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن شال زون کا ورکنگ کمیٹی کا اجلاس
کوئٹہ: امیرجماعت اسلامی بلوچستان ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ ہم نے 8قومی اجتماعی مطالبات لاپتہ افراد،چیک پوسٹیں بندکرنے ساحل روزگارمعدنیات کی حفاظت وسیکورٹی فورسزکے غلط رویہ کے حوالے سے لیکراسلام آبادکی طرف لانگ مارچ کیاحکومت سے مزاکرات کے بعد8نکات پر بات کرنے کیلئے کمیٹی بھی تشکیل دیا
اسلام آباد : وزارت بحری امور نے کہا ہے کہ گوادر پورٹ اتھارٹی (جی پی اے) اور ایک چینی کمپنی کے درمیان گوادر بندرگاہ پر سرمایہ کاری بڑھانے کے معاہدے پر اتفاق ہوا ہے۔پاکستان نے حال ہی میں گوادر بندرگاہ کو تجارتی سرگرمیوں کے لیے فعال بنانے کی کوششیں تیز کی ہیں، گوادر بندرگاہ ایک دہائی سے زیادہ عرصہ قبل تعمیر ہوئی تھی
کوئٹہ: ایمان پاکستان تحریک کے چیئرپرسن و صوبائی اسمبلی کے ممبر محترمہ فرح عظیم شاہ نے کہا ہے کہ ہر سال کی طرح سے بھی پانچ اگست کشمیری عوام کے لیے یوم سیاہ کے دن کے طور پر منایا جائے گا کیونکہ پانچ اگست 2019 کو انڈیا میں برسراقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے انڈین آئین کی شق 370 کے خاتمے کا اعلان کیا، جس کے تحت ریاست جموں و کشمیر کو نیم خودمختار حیثیت اور خصوصی اختیارات حاصل تھے، کشمیر کی سیاسی جماعتوں اور عوام نے اس فیصلے کی شدید مذمت کی ہے، ان کے مطابق یہ قدم کشمیری عوام کی آواز کو دبانے اور ان کے حقوق کو سلب کرنے کی کوشش ہے شق 370 کا خاتمہ انڈیا کی وفاقی حکومت کی طرف سے ایک یکطرفہ اور غیر جمہوری اقدام ہے، جس نے کشمیریوں کی امنگوں اور حقوق کو پامال کیا ہے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے اپنے جاری کردہ ایک بیان میں کیا ہے۔
کوئٹہ: پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما و رکن قومی اسمبلی نوابزادہ میر جمال خان رئیسانی نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ “ایکس” پر کہا کہ یومِ استحصال کے موقع پر، ہم مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اعادہ کرتے ہیں، جن کی شناخت، خودمختاری اور آواز کو مودی حکومت نے 5 اگست 2019 کو یکطرفہ طور پر چھین لیا۔ جسے بھارت نے “اندرونی معاملہ” قرار دیا تھا، وہ اب دنیا کے سامنے بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی کے طور پر بے نقاب ہو چکا ہے۔ عالمی برادری اس بات کو بڑھتی ہوئی شدت کے ساتھ تسلیم کر رہی ہے کہ کشمیر کوئی اندرونی معاملہ نہیں، بلکہ ایک حل طلب بین الاقوامی تنازع ہے، جو حقِ خودارادیت کے پورا نہ ہونے سے جڑا ہے۔