وفاقی حکومت بلوچستان کی ترقی کو قومی ترقی کا سنگ بنیاد سمجھتی ہے،صدر زرداری کا بلوچستان میں قیامِ امن کے اقدامات پر وزیراعلیٰ بگٹی کو خراجِ تحسین

| وقتِ اشاعت :  


کراچی /کوئٹہ:وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے جمعہ کو یہاں کراچی بلاول ہاس میں صدر مملکت آصف علی زرداری سے ملاقات کی ملاقات میں صوبے کی مجموعی صورتحال، امن و امان، ترقیاتی منصوبوں اور عوامی فلاحی اقدامات پر تفصیلی گفتگو ہوئی وزیر اعلی نے صدر مملکت کو بلوچستان میں امن و استحکام کی بحالی کے لیے اٹھائے گئے اقدامات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ صوبائی حکومت صحت، تعلیم، اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کو اولین ترجیح دے رہی ہے



گوادر: سوشل میڈیا پر ویڈیو شیئر کرنے پر 7 سالہ بچے کےخلاف دہشتگردی کا مقدمہ درج

| وقتِ اشاعت :  


صوبہ بلوچستان کے مکران ڈویژن میں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو شیئر کرنے پر 7 سالہ بچے کے خلاف دہشت گردی میں معاونت کے الزام میں مقدمہ درج کرلیا گیا۔

ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق مکران میں محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کی جانب سے درج کیے گئے اس مقدمے میں 7 سالہ بچے پر الزام ہے کہ اس نے انسانی حقوق کے کارکن گلزار دوست کی تقریر کی ویڈیو تربت میں شیئر کی۔

بچے کو جمعرات کے روز عدالت میں پیش کیا گیا، حکام کے مطابق گلزار دوست کی یہ متنازع تقریر اس کم عمر نے ٹک ٹاک پر شیئر کی تھی، جو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت جرم ہے کیونکہ صوبائی حکومت نے مذکورہ مقرر کو چوتھے شیڈول میں شامل کر رکھا ہے۔

گلزار دوست گزشتہ دو ہفتوں سے حراست میں ہیں۔

انسانی حقوق کمیشن کا اظہارِ مذمت
انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) نے اس اقدام کی مذمت کی ہے۔

ایک بیان میں کمیشن نے کہا کہ وہ اس خبر پر ’شدید حیران و افسوس زدہ‘ ہے کہ ایک کم عمر بچے کو ’دہشت گردی‘ کے الزامات کے تحت انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا گیا ہے، صرف اس بات پر کہ اس نے ایک انسانی حقوق کے کارکن کی تقریر سوشل میڈیا پر شیئر کی۔

کمیشن نے کہا کہ انسدادِ دہشت گردی کے قوانین کے اس ’غلط استعمال‘ سے بچوں کے حقوق اور قانونی عمل کی سنگین خلاف ورزی ہوئی ہے۔

ایچ آر سی پی نے مطالبہ کیا کہ الزامات کو فوری طور پر واپس لیا جائے، ایف آئی آر کا مکمل جائزہ لیا جائے اور متعلقہ حکام کو اس سنگین زیادتی پر جوابدہ ٹھہرایا جائے۔



ژوب میں ٹھیکیدار سے 15لاکھ بھتہ وصول کرنے والے گروہ کے تین افراد گرفتار

| وقتِ اشاعت :  


ژوب: ژوب میں حالیہ دنوں ایک مقامی ٹھیکیدار سے 15 لاکھ روپے مبینہ بھتہ طلب کرنے گروہ سے تعلق رکھنے والے تین اشخاص کو مقامی افراد نے محمد علی پمپ کوئٹہ قومی شاہراہ سے پکڑ کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ابھی تک اس سے تفتیش جاری ہیں



بلوچستان یونیورسٹی پیش آنے والے ناخوشگوار واقعات کا مکمل سدباب کیا جائیگا،طلباء تنظیمیں

| وقتِ اشاعت :  


کوئٹہ: بی ایس او (پجار)، بی ایس او، پشتون اسٹوڈنٹ فیڈریشن، ،پیپلز اسٹوڈنٹ فیڈریشن، کی جانب سے بی ایس او پجار کے مرکزی چیرمین بوہیر صالع بلوچ کی پشتنخوا اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی دفتر آمد۔



ملک میں ضمیر سے لے کر سرکاری نوکریوں، عوامی وسائل تک سب کچھ کو فروخت کیلئے پیش کیا گیا ہے، آل پارٹیز کانفرنس

| وقتِ اشاعت :  


اسلام آباد:  پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئرمین وتحریک تحفظِ آئینِ پاکستان کے سربراہ اور رکن قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی نے تحریک تحفظ آئین پاکستان کے زیر اہتمام اسلام آباد میں دو روزہ کل جماعتی کانفرنس سے افتتاحی خطاب کرتے ہوئے شرکاء کو خوش آمدید کہا



ایران پر عائد پابندیاں گیس پائپ لائن کی راہ میں رکاوٹ ہے،سلیم ما نڈی والا

| وقتِ اشاعت :  


کوئٹہ :  سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برا ئے خزانہ کے چیئر مین سلیم ما نڈی والااورسینیٹ کی قائمہ کمیٹی برا ئے تجا رت کی چیئر پرسن انوشہ رحمان نے کہا ہے کہ ایران پر عائد عالمی اقتصادی پا بندیاں پا ک ایران گیس پا ئپ لا ئن کی را ہ میں رکاوٹ ہیں اس سلسلے میں با ت چیت جا ری ہے



بلوچستان کی محرومی دور کرنا وفاق کی ذمہ داری ہے،صوبے میں امن و امان سمیت بہت سے مسائل ہیں،سلیم مانڈوی والا

| وقتِ اشاعت :  


پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سلیم مانڈوی والا نے کہا ہے کہ پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے میں رکاوٹ ایران پر عائد عالمی اقتصادی پابندیاں ہیں، پاک ایران گیس پائپ لائن سے متعلق ابھی بھی بات چیت جاری ہے، یہ سیکیورٹی مقاصد کے لیے نہیں عام پاکستانیوں کے مفاد کا منصوبہ ہے۔



بلوچستان اسمبلی اجلاس :زابد ریکی کی پوست کاشت کیخلاف قرارداد پیش ، منشیات دہشتگردی سے بڑا چیلنج،پوست کاشت کرنے والوں کو گرفتار کیا جائے، اراکین اسمبلی

| وقتِ اشاعت :  


بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں ارکان نے صوبے میں پوست کی کاشت، منشیات کی بڑھتی ہوئی فروخت اور نوجوان نسل کی بربادی پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ رکن اسمبلی زابدعلی ریکی نے اسمبلی میں پوست کی کاشت کے خلاف قرارداد پیش کی، جس میں کہا گیا کہ پوست کی کاشت اس وقت صوبے میں ایک خطرناک ناسور بن چکی ہے، جس نے نوجوانوں، بزرگوں اور بچوں تک کو نشے کی لعنت میں مبتلا کر دیا ہے۔ قرارداد کے متن میں کہا گیا کہ یہ زہر ہمارے معاشرے کی جڑیں کھوکھلا کر رہا ہے جبکہ حکومت کی جانب سے اس مسئلے پر خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے۔