ایچ ڈی پی نے پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی کے الزامات کو بوکھلا ہٹ قرار دے دیا

| وقتِ اشاعت :  


کوئٹہ: ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے مرکزی بیان میں حلقہ پی بی 40 اور ہزارہ ٹاون کے عوام پر مسلط فارم 47 کے جعلی پیرا شوٹر ایم پی اے کی اسمبلی فلور پر ہزارہ ٹاون کو پانی کے درپیش مسئلے پر ہرزہ سرائی اور پارٹی پر بے بنیاد الزامات کو انکی بوکھلا ہٹ قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے



شفاف الیکشن کروادیں ملک چل پڑے گا بلوچستان مسئلے کے محرکات جا نے بغیر اس کا حل ممکن نہیں، شاید خاقان عباسی

| وقتِ اشاعت :  


کوئٹہ: عوام پا کستان پا رٹی کے چیئر مین و سابق وزیر اعظم پا کستان شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ بلو چستان کا مسئلہ سیاسی ہے جب تک اس مسئلے کے محرکا ت کو جا نیں گے نہیں تب تک اس کا حل ممکن نہیں ہو گا ،



بلوچستان:محکمہ تعلیم ملازمین کا انٹرمیڈیٹ کے امتحانات کابائیکاٹ ختم کرنے کا اعلان

| وقتِ اشاعت :  


کوئٹہ:محکمہ تعلیم بلوچستان کی ملازمین تنظیموں نے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی درخواست پر انٹرمیڈیٹ کے امتحانات کابائیکاٹ ختم کرنے کا اعلان کردیا۔ یہ بات صوبائی وزیر خزانہ میرشعیب نوشیروانی ، محکمہ تعلیم بلوچستان کی ملازمین تنظیموں کے سربراہ پروفیسرعبدالقدوس کاکڑ نے جمعرات کو مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔



آر ڈی ایم سی کا انڈس اسپتال کے اشتراک سے ہمئے، چاغی میں ماں اور بچے کی صحت کیلئے جدید یونٹ کا قیام

| وقتِ اشاعت :  


ہمئے، ضلع چاغی:ریکودک مائننگ کمپنی(آر ڈی ایم سی)کی جانب سے انڈس اسپتال و ہیلتھ نیٹ ورک(آئی ایچ ایچ این) کے اشتراک سے ضلع چاغی کے گاؤں ہمئے میں قائم کمیونٹی ہیلتھ سینٹر میں ایک مکمل سہولیات سے آراستہ ماں، نوزائیدہ اور بچے کی صحت (ایم این سی ایچ) یونٹ کا افتتاح کردیا گیا۔ یہ اقدام ریکودک منصوبے کے آس پاس کے پسماندہ علاقوں کو معیاری طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیےآر ڈی ایم سی کے عزم کی عملی تعبیر ہے۔



واٹر مافیا کیخلاف ضلعی انتظامیہ کے ساتھ ملکر جلد ایکشن لیں گے ، عبدالرحمن کھیتران

| وقتِ اشاعت :  


کوئٹہ: صوبائی وزیر پبلک ہیلتھ عبدالرحمن کھیتران نے اسمبلی اجلاس کے دوران انکشاف کیا کہ وال مین اور متعلقہ ایس ڈی او مل کر پانی فروخت کر رہے ہیں اور یہ لوگ مافیا کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔



ایم پی ایز کی تنخواہیں بلوچستان ہاؤس کے کرائے میں میں چلی جاتی ہیں، زمرک اچکزئی

| وقتِ اشاعت :  


کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی اجلاس کے دوران صوبائی خودمختاری اور بلوچستان ہاؤس اسلام آباد کے مسائل پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ مولانا نوراللہ نے کہا کہ صوبائی خودمختاری صرف پنجاب کے لیے رہ گئی ہے، جبکہ دیگر صوبوں کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اور صوبائی خودمختاری کو ہاتھ سے جانے نہیں دیں گے۔ اگر ہماری بات نہ سنی گئی تو ایوان کے ساتھ ساتھ سڑکوں پر بھی احتجاج کریں گے۔