10 دن میں ایران کے بارے میں پتہ چل جائے گا، معاہدہ نہ کیا تو نتائج برے ہوں گے: ٹرمپ

| وقتِ اشاعت :  


واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر خبردار  کیا ہے کہ  10 دن میں ایران کے بارے میں پتہ چل جائے گا ، ایران کو کسی صورت ایٹمی ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، معاہدہ نہ کیا تو نتائج برے ہوں گے ۔



ہم غزہ کے لوگوں کیلئے روشن مستقبل چاہتے ہیں، اقوام متحدہ بہت اہم ہے اور اپنی صلاحیت کے مطابق کام کرےگی، ٹرمپ

| وقتِ اشاعت :  


واشنگٹن: واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیر صدارت پیس بورڈ کا پہلا اجلاس  جاری ہے جس میں وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف بھی شریک ہیں۔



اسرائیل کی نئی پابندیاں، مسجد اقصیٰ میں جمعہ کیلئے صرف 10 ہزار نمازیوں کی اجازت

| وقتِ اشاعت :  


یروشلم: اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے سے آنے والے فلسطینی نمازیوں کے لیے جمعہ کی نماز کے موقع پر مسجد الاقصیٰ میں حاضری محدود کرتے ہوئے تعداد 10 ہزار مقرر کر دی ہے۔ یہ پابندیاں رمضان المبارک کے آغاز پر نافذ کی گئی ہیں۔



ایران کا آبنائے ہُرمز میں بحری مشقوں کے بعد آج راکٹ لانچ کرنےکا منصوبہ، نوٹم جاری

| وقتِ اشاعت :  


خبر ایجنسی کے مطابق جاری کردہ نوٹم میں پائلٹس، فلائٹ عملے اور فضائی حدود استعمال کرنے والے دیگر افراد کو حفاظتی اقدامات اختیار کرنے اور  متعلقہ علاقوں میں محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔



ایران امریکا مذاکرات کا دوسرا دور مکمل؛ امریکا نے مزید لڑاکا طیارے مشرقِ وسطیٰ پہنچا دیے

| وقتِ اشاعت :  


ایران اور امریکا کے درمیان جوہری مذاکرات کا دوسرا دور سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں ختم ہوگیا ہے۔ یہ مذاکرات عمان کی ثالثی میں جاری ہیں اور دونوں ممالک کے نمائندوں نے کئی اہم امور پر بات چیت کی۔



ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہ ہونا امریکا کی پہلی ترجیح ہے: نائب امریکی صدر

| وقتِ اشاعت :  


انہوں نے کہا کہ امریکا کی پہلی ترجیح یہ ہےکہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہ ہوں، اس لحاظ سےبات چیت اچھی رہی تاہم ایران صدر ٹرمپ کی معین کردہ بعض ریڈ لائنز پر بات چیت کیلئے تاحال تیار نہیں ہے۔



جنیوا: امریکہ اور ایران جوہری مذاکرات، تہران نے آبنائے ہرمز جزوی طور پر بند کردیا

| وقتِ اشاعت :  


جنیوا: ایران کے سپریم لیڈر نے منگل کو خبردار کیا کہ امریکہ کی حکومت کو ختم کرنے کی کوششیں ناکام ہوں گی، جبکہ واشنگٹن اور تہران جنیوا میں اپنے طویل عرصے سے جاری جوہری تنازع پر بالواسطہ مذاکرات شروع کر رہے ہیں، اس دوران مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی تعیناتی جاری ہے۔



فرانس اور جرمنی کے درمیان مشترکہ یورپی جوہری دفاعی نظام پر بات چیت ابتدائی مرحلے میں ہے، اور اس کا مقصد امریکہ کے کردار کو کمزور کرنا نہیں،جرمنی

| وقتِ اشاعت :  


جرمن حکومت کے ترجمان نے پیر کے روز ایک معمول کی پریس بریفنگ میں بتایا کہ ان مذاکرات کا مقصد یہ جانچنا ہے کہ جوہری دفاع کے حوالے سے یورپی ممالک کے درمیان تعاون کو کس طرح مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔