تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ خواتین اساتذہ کی موجودگی، ثانوی سطح پر لڑکیوں کے اندراج کو بڑھانے کے لیے انتہائی اہم ہے۔ بین الاقوامی ریسکیو کمیٹی کی جانب سے حال ہی میں شائع ہونے والے ایک وائٹ پیپر کے مطابق مقامی لوگوں کا ماننا ہے کہ خواتین اساتذہ کا اپنے مرد ہم منصبوں کے مقابلے میں ڈیوٹی سے غیر حاضر رہنے کا امکان کم ہوتا ہے، اور ان میں احساسِ ذمہ داری زیادہ پائی جاتی ہے۔
جب ہم لفظ جمہوریت کو ڈکشنری میں تلاش کرتے ہیں تو وہاں لکھا آتا ہے کہ ’’جمہوریت عوام کی، عوام کے ذریعے اور عوام کے لیے حکومت ہے‘‘۔ لیکن پاکستان میں یہ بالکل مختلف ہے، یہاں جمہوریت جاگیرداروں کی، جاگیرداروں کے ذریعے اور جاگیرداروں کی حکومت ہے۔
محبوب خدا احمد مجتبیٰ کی بعثت سے قبل دنیا میں انسانی حقوق کی صورتحال انتہائی گھمبیر تھی۔ریاستوں میں بادشاہوں کے لا محدود اختیارات تھے جب کہ رعایا کی حیثیت غلاموں سے زیادہ نہ تھی۔ حقوق و فرائض کی کوئی تقسیم نہ تھی بلکہ عرب کی حالت حقوق انسانی کے معاملے میں باقی دنیا کی نسبت… Read more »
ملک پاکستان میں جمہوریت کے بجائے مجبوریت کا نظام نافذ ہے۔ جمہوریت تو در حقیقت کارو بارِ حکومت میں عوام کی شراکت کا نام ہے لیکن افسوس پاکستان میں جمہوریت عوام کو حکومت میں شراکت سے محروم اور دور رکھنے کی ساز باز کا نام ہے۔
2020 کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ میں دس لاکھ لوگ بطور فری لانسر کام کر رہے ہیں۔ معیشت کو مستحکم کرنا بے روزگاری کے خاتمے سے ہی ممکن ہے۔ اور بے روزگاری کے خاتمے کا واحد حل ٹیکنیکل اسکلز ہیں۔ موجودہ دور میں معیشت کا انحصار ٹیکنالوجی سے آراستہ افرادی قوت پر ہے۔ محرومیاں اتنی ہیں کہ ہم ضروریات کی چیزوں سے ہٹ کر سوچ نہیں سکتے۔ جب معیشت کی بات کی جائے تو سب سے پہلے تیل، خام مال اور دیگر چیزیں آتی ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ معیشت کو کھڑی کرنے کے ذرائع ہیں یعنی ہر وہ چیز جو بیرون ملک ایکسپورٹ کی جاتی ہے مستحکم معیشت کی ضامن ہیں۔
آج 23 اپریل کو دنیا کتابوں کا عالمی دن منا رہی ہے جس کا مقصد علم و ادب کا فروغ اور کتب بینی کا شوق پیدا کرنا ہے۔ اس دن مصنّفین کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ان کی تخلیقات کو خاص طور پر سراہا جاتا ہے۔
موت زندگی کے اختتام کا نہیں بلکہ لامحدود زندگی کے آغاز کا نام ہے، لیکن کچھ لوگ ایسے ہیں جن کے نام صرف تاریخ کے صفحات پر ہیں چوبیس سالہ شہید صحافی عبدالواحد رئیسانی بھی ان میں سے ایک ہیں ، نوجوان صحافی شہید عبدالواحد رئیسانی نے6 دسمبر 1997ء کو ڈاکٹر عبدالغفار رئیسانی کے یہاں آنکھ کھولی۔
صحافت کا شعبہ بطور پیشہ اپنانے والے سبھی صحافی اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ کس قدر مشکل اوردقت طلب ہے بالخصوص وہ علاقے اور خطے جو مختلف وجوہات کی بناء پر تنازعات میں گھرے رہتے ہیں یا جنہیں حرف عام میں’’ کنفلکٹ زون ‘‘ کہاجاتا ہے ان علاقوں میں صحافت جان ہتھیلی پر رکھ کر کی جاتی ہے لیکن اس کے باوجود نہ تو اس شعبے کاکام رکا نہ اس شعبے میںآنے والوں کی راہ روکی جاسکی۔
بلوچستان سے فریادیں روز اول کی طرح آج بھی جاری ہیں۔ایک ہفتہ پہلے اندھیری رات میں آئین کی جیت کا جشن منانے والے آج ذرا رخ اس طرف بھی کرلیں کہ ان کو معلوم پڑے کہ بلوچستان میں سوئے ہوئے آئین کو جگانے والا کوئی نہیں ہے۔نظریہ ضرورت دفن، امریکی سازش جیسے تماشوں سے گزرتے ہوئے ایک نئے حکمران کوپاکستان کے اقتدار کا کمان سو نپا گیا ہے۔
بلوچستان کے قبائلی روایات اور رسم و رواج کی وجہ سے آج بھی خواتین مشکلات اور پسماندگی کا شکار ہیں ۔قبائلی نظام اور سخت معاشرتی و قبائلی قوائد کی وجہ سے خواتین کی تعلیمی شرح نہ ہونے کے برابر ہے۔ 2017 کے ایک سروے کے مطابق بلوچستان میں گرلز ایجوکیشن 23فیصد ہے جبکہ کوئٹہ کے علاوہ یہ شرح مزید کم ہے بلوچستان میں قبائلی جھگڑے بھی خواتین کو مشکلات سے دوچار کرتے آ رہے ہیں جبکہ نصیرآباد ڈویژن جو کہ سندھ سے ملحقہ علاقہ ہے جہاں سیاہ کاری یعنی غیرت کے نام پر قتل کے فرسودہ واقعات زیادہ تعداد میں ہوتے ہیں ان واقعات میں اکثر خواتین ہی لقمہ اجل بنتی ہیں اور موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں