اگر موجودہ حکومت کے سیاسی ثمرات کا جائزہ لیا جائے تو موجودہ سرکار پاکستان کے تاریخ کی واحد سرکار ہے، جو کسی بھی صورت وفاقی تو دور کی بات، “حکومت” ہی نہیں لگ رہی۔ وفاقی سرکار اب ایسا چوہدری، یا وڈیرا بن گئی ہے جو کسی بھی کسان کی فصل اترنے پر آکر کھڑا ہو جاتا ہے اور سارا غلہ پانی اپنے گھر اٹھا کر لے جاتا ہے۔ یوں تو سندھ کی تمام ہسپتالیں بہت ہی اہمیت کی حامل ہیں، لیکن کراچی کا سول ہسپتال، جناح ہسپتال، نیشنل انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ، سندھ انسٹیٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹ (ایس آئی یو ٹی) اور سندھ انسٹیٹیوٹ آف کارڈیو وسکیولر ڈزیز (این آئی سی وی ڈی) انتہائی اہم ہسپتالوں میں شمار ہوتے ہیں، اور ان کے چرچے زبان زد عام ہیں، جب کسی بھی مریض کو کہیں بھی بچنے کی تسلی نہیں رہتی تب اس کو ان ہسپتالوں میں منتقل کیا جاتا ہے، اور یہ پیپلز پارٹی کی کاوشوں اور مخیر حضرات کی صدقِ دل سے دی جانے والی امداد کا نتیجہ ہے کہ ان ہسپتالوں سے شاید ہی کوئی مایوس لوٹتا ہے، وگرنہ تو لوگ تندرست و توانا ہو کر یہاں سے اپنے گھر جاتے ہیں۔
آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں جاری سندھ لٹریچر فیسٹیول میں بعنوان‘‘بلوچ تاریخ اور سیاست’’کے انعقاد پر پابندی عائد کردی گئی۔ سیشن کو عین موقع پر جبراً منسوخ کروادیاگیا۔ شایدوہ علم و ادب سے خوف کھاتے ہیں اور مکالمے و دلیل سے ڈر تے ہیں۔ حق اور سچ کی آواز کو جتنا دبانے کی کوشش کی جائے یہ اتنا ہی گونج اٹھتی ہے۔ اور وہ آواز آرٹس کونسل سے چند کلومیٹر فاصلے پر قائم باغ جناح میں گونجی۔ جہاں شرکاء نے مقررین کے ساتھ سیشن کا انعقاد کیا۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ بلوچ سیشن کہیں بھی ہوسکتا ہے بلوچ کے لئے سیشن رکھنے کے لئے پلیٹ فارم کی ضرورت نہیں ہے۔ 70 سالوں سے بلوچ سڑکوں پر دھرنا اور احتجاج کررہے ہیں اب بلوچ عادی ہوچکے ہیں۔ بغیر آڈیٹوریم کے بلوچ سیشن کا انعقاد کرواسکتے ہیں۔ اس کے لئے آڈیٹوریم کی ضرورت نہیں ہے۔
گزشتہ کچھ عرصے سے چائنا پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک ) کے حوالے سے اس قدر اعلانات، دعوے، بیانات، تجزیے اور اقدامات سامنے آ چکے ہیں کہ سی پیک کے حوالے سے چائنا نہ سہی پاکستان کے ہر صوبے کے لوگوں کے دل و دماغ امیدوں ، توقعات اور خدشات سے لبریز ہوچْکے ہیں۔ اور اگر یہ بات گوادر میں بیٹھ کر کی جائے تو یہاں امید اور خدشات کئی گنّازیادہ بڑھ چکے ہیںکیونکہ گوادر ہی وہ مقام ہے جو اقتصادی راہداری کا ایک طرف سے نقطہ آغاز اور دوسری طرف سے نقطہ اختتام ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ چراغ تلے اندھیرا ہے۔ گوادر جس کے تینوں اطراف نیلگوں سمندرہے لیکن گوادر والے آج بھی پانی کے ایک ایک بوند کو ترس رہے ہیں۔ گوادر کے شہریوں کو 20/25 دن کے بعد ایک گھنٹہ آدھی انچ کے پائپ سے مضرِ صحت پانی دیا جاتاہے۔ گوادر کی قدیم آبادی کھنڈرات کا منظر پیش کرتی ہے ۔
ضلع لسبیلہ میں جعلی رہائشی اسکیموں کی بھرمارہوگئی ہے۔ مقامی افراد کی جدی پشتی اراضی پر قبضہ کرنے کاسلسلہ جاری ہے۔ بلڈر مافیا کو متعلقہ افسران کی سرپرستی حاصل ہے، ان کے مسلح افراد دن دھاڑے لوگوں کی اراضی پر گن پوائنٹ پر قبضہ کررہے ہیں۔ پیرکس روڈ، بھوانی، حب بائے پاس،ساکران روڈ سمیت دیگر علاقوں میں رہائشی اسکیموں نے ایک سونامی کی صورت اختیار کرلی ہے۔ جگہ جگہ سائن بورڈز آویزہ کردیئے گئے ہیں۔ لسبیلہ کے مقامی قبائل کی اراضی محفوظ نہیں ہیںجن میں سیاہ پاد، موٹک، گجر، منگیانی سمیت دیگرقبائل شامل ہیں۔
تین ماہ قبل بلوچستان کے وزیر اعلی جام کمال خان نصیرآباد کے دورے پر آئے اور اس نے نصیرآباد کے صدر مقام ڈیرہ مراد جمالی اور غفور آباد میں عوامی اجتماعات اور مختلف ترقیاتی منصوبوں کا معائنہ اور افتتاح کیا ۔ اس دوران صاحب سنت اور باعمل وزیر اعلیٰ نے بہت سے لولی پاپ یعنی ترقی کے ثمرات سے عوام کو بہرہ مند ہونے کی نوید سنائی۔ ڈیرہ مراد جمالی بلوچستان کا واحد اور بدقسمت ڈویژنل ہیڈ کوارٹر ہے جو صوبے کا چھٹا بڑاشہر ہے لیکن یہ شہر سن ستر سے لے کر اب تک الاٹ منٹ اور مالکانہ حقوق سے محروم چلا آ رہا ہے ہر دور میں عوام کو بہلا پھسلا کر الاٹمنٹ کی نوید اور خوشخبری سنا کر ووٹ حاصل کیا جاتا ہے۔
صوبے بلو چستان کے نصیر آباد ڈویژن کی مٹی بڑی ذرخیز ہے یہاں کے جفا کش کسانوں کی اگر بات کی جائے تو اپنی انتھک محنت کی بدولت صوبے کی عوام کے لیے خوراک کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے کوئی کسر نہیں چھوڑرہے اوراگر کھیلوں کے مقابلوں کی بات کی جائے تویہاں کے نوجوانوں نے ہر میدان میں اپنی کامیابیوں کے جھنڈے گاڑے ہیں اوریہ کامیابیوں کا سلسلہ چاہے سیاسی ہو تعلیمی ہویا کوئی اور ہر محاذ ہواپنی کامیابیوں کا لواہا منوایا ہے سپورٹس سے وابستہ نوجوانوں نے مختلف کھیلوں کے مقابلوں میں حصہ لے کرصوبے میں ڈویژن بھر کا نام روشن کیا ہے۔
سورج ابھی ابھی غروب ہوچکا ہے،رات کی تاریکی دھیرے دھیرے سرمئی روشنی کو لپیٹ رہی ہے ،زرغون روڈ کی اسٹریٹ لائٹس کی مدہم روشنی کو خراٹے بھرتی ہوئی ایک جاپانی ویگو گاڑی چیرتی ہوئی ایک سرکاری بنگلے کے اندر داخل ہوتی ہے ،گاڑی سے درمیانہ قد اور درمیانی عمر کا گورا چٹا گھنگریالے بالوں والا ایک شخص تیزی سے نکل کر گھر کے اندورنی دروازے سے ہوتا ہوا ایک کمرے میں داخل ہوتا ہے ،یہ ایک سرکاری گھر ہے جس میں بلوچستان کا ایک سابق وزیر اعلیٰ عارضی رہائش پذیر ہے ،میزبان کو پہلے سے ہی مہمان کی آمد کا علم ہے ایسا لگ رہا ہے کہ میزبان اپنے مہمان کا منتظر ہے۔
لیاری حکمرانوں کی عوام دشمن پالیسیوں کی بدولت آج شدید بے چینی اور کرب میں مبتلاہے۔ لیاری میں موجود جرائم پیشہ عناصر کوہمیشہ کسی نا کسی طاقتور اشرافیہ نے اپنے مقاصد کیلئے استعمال کیا۔ انگریز دور سے ساٹھ کی دہائی تک تحریک آزادی کے نام نہاد سپوت اور معروف مسلم لیگی گھرانہ ہارون خاندان نے لیاری کے مقامی وڈیروں سے مل کر جرائم پیشہ عناصرکو شہرمیں اپنی سیاسی برتری ، زمینوں پر قبضوں اور مخالفین کوسبق سکھانے کے لیے استعمال کیا۔
بارہ مارچ دو ہزار چودہ کو لیاری جھٹ پٹ مارکیٹ میں پیش آنے والے واقعہ نے انسانیت کو ہلاکر رکھ دیا۔لیاری کے عوام اس سانحہ کو ایک بھیانک دن کے طور پر یاد کرتے ہیں۔دراصل یہ واقعہ حکومتی ناکامی کی عکاسی کرتا ہے۔ سانحہ جھٹ پٹ میں بیس سے زائد خواتین اور بچے شہید ہوئے جبکہ پچاس کے قریب افراد زخمی ہو گئے تھے۔ لاشیں اٹھانے کے لئے ریسکیو کی ٹیمیں اپنی جگہ، قانون نافذ کرنے والے اہلکار بھی کئی گھنٹوں کے بعدجائے وقوع پر پہنچے۔ یہ وہ دور تھاجب لیاری کے محنت کش عوام گینگ وار کے رحم کرم پر تھے۔ حکومت کی ناکامی کی وجہ سے مافیازنے سر اٹھانا شروع کیا تھا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے یوسف رضا گیلانی کی سینیٹ میں کامیابی کے خلاف تحریک انصاف کے رہنما ء علی نواز اعوان کی درخواست خارج کردی۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ الیکشن کمیشن میں زیر سماعت ہے،پہلے اس فورم کو استعمال کریں۔غیر ضروری طور پر عدالتوںمیں سیاسی معاملات کو لانا ٹھیک نہیں۔انہوں نے کہا کہ عدالت کو پارلیمنٹ پراعتماد ہے۔قانون کی پاسداری کرنا ہم سب پر فرض ہے۔چیف جسٹس نے تحریک انصاف کے رہنما علی نواز اعوان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے پاس شکایت کے ازالہ کے لیے متبادل فورمز موجود ہیں۔