ملک میں قانون اور آئین کی بالادستی سے ہی انصاف کا بول بالا ہوسکتا ہے ، سیاسی جماعتوں کی حکومت میںا ٓنے کا مقصد عوام کی خدمت اور آئین کے تحت اپنی ذمہ داریاں نبھانا ہے عوام اپنے نمائندگان کو ووٹ اس لیے دے کر انہیں ایوان میں بھیجتے ہیں کہ ان کے مفادات کا تحفظ کیاجاسکے ذاتی وگروہی مفادات کی تکمیل کے لیے عوام سیاسی جماعتوں کو ووٹ نہیں دیتے ۔
وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرادی گئی ہے جس پر 14 اراکین کے دستخط موجود ہیں جو سابق وزیراعلیٰ جام کمال، سردار یار محمد رند اور ظہور بلیدی نے جمع کرائی ہے۔ عدم اعتماد جمع کرانے سے قبل بی اے پی۔
نیب ملک کا ایک ایسا ادارہ ہے جسے کرپشن کی روک تھام اور حقیقی احتساب کے لیے تشکیل دیا گیا تھا مگر اس ادارے کو اس قدر متنازعہ بنادیا گیا ہے کہ نیب کی ہر کارروائی کو دوسری جماعت سیاسی انتقامی کارروائی سے جوڑتی ہے اور اس میں کوئی شک بھی نہیں ہے کیونکہ گزشتہ چند برسوں کے دوران جو کچھ سیاستدانوں اور بیوروکریسی کے ساتھ ہوا اس سے بہت ہی منفی تاثر گیا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے اپنے اتحادی اب عمران خان کو یہ مشورہ دینے لگے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کے متعلق کچھ نہ کہے بلکہ سیاسی مخالفین کو ہی ہدف میں رکھیں، اس تمام سیاسی صورتحال میں اسٹیبلشمنٹ کا کوئی کردار نہیں بلکہ عدم اعتماد کی تحریک پر بھی وہ نیوٹرل رہی ہے لہٰذا اب اس پر مزید بحث کرنے کی گنجائش نہیں مگر جس طرح سے پی ٹی آئی کی پالیسی اور عمران خان کا جارحانہ رویہ ہے اس سے نہیں لگتا کہ عمران خان اپنے اس بیانیہ سے پیچھے ہٹ جائیں گے۔
گزشتہ چار سال سے تاحال ملک میں مہنگائی پر قابو پانا انتہائی مشکل ہوگیا ہے نئی حکومت بھی مہنگائی کو کنٹرول کرنے میں ناکام دکھائی دے رہی ہے حالانکہ موجودہ حکومت نے عوام کو یہ باور کرایا تھا کہ ہر سطح پر عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے گاخاص کر مہنگائی کا خاتمہ کرکے عوام کی مشکلات میں کمی لائی جائے گی مگر ایسا ہوتا ہوا دکھائی نہیں دے رہا بلکہ اب تو ایک اور خطرے کی گھنٹی بج چکی ہے. پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے جس سے مہنگائی کا سونامی آئے گا۔ حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی تیاری مکمل کر لی۔
بلوچستان میں ضلعی آفیسران اگر اپنے فرائض احسن طریقے سے انجام دیں توعوام کے بعض مسائل ان کی دہلیز پر حل ہوسکتے ہیں کیونکہ ضلعی آفیسران کا براہ راست عوام کے ساتھ تعلق اور رابطہ روزانہ کی بنیاد پر ہوتا ہے نسبتاََ حلقے کے وزیر اور دیگر کے، ضلعی انتظامیہ کے آفیسران اپنے علاقوں میں موجود رہتے ہیں
موجودہ حکومت کو اس وقت دو اہم اور بڑے چیلنجز کا سامنا ہے ایک سیاسی استحکام اور دوسرا معیشت، جن سے کم وقت میں نمٹ کر نکلنا ہے جو کہ آسان نہیں مگر ناممکن بھی نہیں ہے ۔بروقت اقدامات وسیع تناظر میں کرنے ہونگے سیاسی اتحاد سے بالاتر ہوکر ماہرین سے رجوع کرنے کی ضرورت ہے کہ معاشی بحران پر کس طرح قابو پایا جاسکتا ہے، بجلی لوڈشیڈنگ سے صنعتیں متاثر ہورہی ہیں کاروبار سمیت عام لوگ متاثر ہیں اس سے کیسے نکلا جائے تاکہ صنعتی پہیہ چلتا رہے۔
وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے ہدف حاصل کرنے پر ایف بی آر ٹیم کی تعریف کی ہے۔ انہوں نے تعریف ایف بی آر ہیڈ کوارٹرز کے دورے کے دوران کی۔ وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے ایف بی آر ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کیا تو انہیں ادارے کی کارکردگی اور ریونیو اکھٹا کرنے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔
ملک میں گزشتہ چند برسوں کے دوران سیاستدانوں نے اپنے مفادات کی غرض سے اداروں میں یا تو براہ راست مداخلت کی ، اداروں کو اپنے تحفظ اور انتقامی کارروائیوں کیلئے استعمال کیا،اس طرح سے پورا نظام مفلوج ہوکر رہ گیا ہے نتیجہ یہ نکلا کہ ادارے اور حکومت کے درمیان تو خلیج پیدا ہوئی ساتھ ہی عوام کے اندر بھی اس زہر کو لایا گیا ۔