نئی حکومت کیلئے معاشی و سیاسی چیلنجز، عام انتخابات کیلئے کڑا امتحان

| وقتِ اشاعت :  


پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑے اضافے کی سفارش کر دی گئی۔پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی سمری پیٹرولیم ڈویژن کوبھیجوا دی گئی ہے۔اوگرا نے پیٹرول کی قیمت میں 83 روپے 50 پیسے فی لیٹرجب کہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 119 روپے فی لیٹراضافے کی تجویز دی گئی ہے۔



مبینہ خط، دورہ روس، عوام کوٹرک کی بتی کے پیچھے لگانے کی سازش

| وقتِ اشاعت :  


پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے اسلام آبادجلسے کے دوران اپنے خلاف بیرونی سازش کے متعلق ایک خط لہراتے ہوئے کہا کہ ایک ملک نہیں چاہتا کہ میں حکومت میں رہوں اس لیے مجھے ہٹانے کے لیے اپوزیشن جماعتوں سے ملکر سازش کی جارہی ہے اور ہمارے سفیر کو یہ بات بتائی گئی۔ خط کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ بہت خطرناک باتیں کہی گئی ہیں جسے میں یہاں نہیں دہراسکتا مگر عوام کو بتانا چاہتاہوں کہ مجھے ہٹانے کے لیے کس طرح کی سازشیں باہر سے رچائی جارہی ہیں اور اپوزیشن آلہ کار بن کر اور پیسے لیکر یہ کام کررہی ہے۔



بلوچستان میں آبادی کاتناسب اور مسائل، عوامی ضرورت کے منصوبوں کی تکمیل

| وقتِ اشاعت :  


شہبازشریف نے وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالتے ہی پہلا دورہ کراچی کا کیا ۔دورے کے موقع پر کراچی میں بڑے میگامنصوبے جو عوامی نوعیت کے ہیں ان پر تفصیلی بات چیت ہوئی ۔وزیراعلیٰ سندھ نے وزیراعظم شہباز شریف کو بی آر ٹی پروجیکٹس پر بریفنگ دی۔مراد علی شاہ نے بتایا کہ حکومت سندھ ریڈ لائن بی آر ٹی سسٹم شروع کر رہی ہے۔



مہنگائی ، پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ،نئے وزیراعظم سے عوام کی امید

| وقتِ اشاعت :  


رواں ہفتے رمضان المبارک کے دوران 22 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے جب کہ مہنگائی کی شرح میں 1.53 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ ہفتہ وار جائزہ رپورٹ کے تحت ملک میں مہنگائی کی مجموعی ہفتہ وارشرح 17.87 فیصد پرپہنچ گئی ہے۔ رپورٹ کے تحت حالیہ ہفتے 22 اشیائے ضروریہ مہنگی ہوئی ہیں۔



شہباز شریف وزیراعظم منتخب، پی ٹی آئی کے الزامات،ملکی ترقی مقصد

| وقتِ اشاعت :  


قومی اسمبلی نے مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کو نیا قائد ایوان منتخب کرلیا جس کے بعد شہباز شریف پاکستان کے وزیراعظم بن گئے ہیں۔ نئے قائد ایوان کے لیے متحدہ اپوزیشن کی جانب سے شہباز شریف اور تحریک انصاف کی جانب سے شاہ محمود قریشی وزیراعظم کے امیدوار تھے تاہم پی ٹی آئی کی جانب سے بائیکاٹ کیاگیا۔شہباز شریف کو ایوان میں 174 ووٹ ملے جس کے بعد وہ پاکستان کے 23 ویں وزیراعظم منتخب ہوگئے ۔



نئی حکومت کی تشکیل نو، معاشی چیلنج اورترجیحات!

| وقتِ اشاعت :  


وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو گئی۔ اپوزیشن کے 174 ارکان نے ان کے خلاف ووٹ دیا۔عمران خان ملکی تاریخ کے پہلے وزیراعظم ہیں جن کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی ہے۔ نئے وزیراعظم کا انتخاب آج ہوگا۔اسپیکر اسد قیصر کے مستعفی ہونے کے بعد ایوان ایاز صادق کے حوالے کرگئے جس کے بعد ان کی صدارت میں اجلاس کی کارروائی شروع ہوئی۔اس دوران حکومتی ارکان نے احتجاجاً اجلاس کا بائیکاٹ کیا اور ایوان سے چلے گئے۔



سیاسی استحکام، پارلیمان میں ٹکراؤ، انارکی کا ذمہ دار کون ہوگا؟

| وقتِ اشاعت :  


اس وقت ملک میں سیاسی صورتحال اپنے معمول پر نہیں آرہی ہے سیاسی جماعتوں کے درمیان کشیدگی جاری ہے ایک طرف پی ٹی آئی تو دوسری جانب پی ڈی ایم ہے ، الزامات لگانے کا سلسلہ بھی جاری ہے یہ سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد جلسے میں ایک مبینہ خط کو لہراتے ہوئے کہاکہ ملک کے اندربیرونی مداخلت کے ذریعے حکومت کو تبدیل کرنے کی سازش کی جارہی ہے جس میں اپوزیشن آلہ کار بنی ہوئی ہے بقول عمران خان کہ امریکہ چاہتا ہے کہ عمران خان کو ہٹایا جائے کیونکہ میں انہیں قابل قبول نہیں ہوں اگر ایسا نہ ہوا تو بہت ہی سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئی ہیں ۔



نئی حکومت کی تشکیل نو، نظریہ ضرورت دفن

| وقتِ اشاعت :  


سپریم کورٹ کی پانچ رکنی بنچ نے آئین کے تحت اپنا فیصلہ سنادیا ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ اور اسمبلیوں کی تحلیل جیسے اقدام کو غیر آئینی قرار دیدیا اور آج قومی اسمبلی میں عدم اعتماد پیش کرنے کے ساتھ ووٹنگ کا بھی فیصلہ دیدیا گیا اس سے قبل قیاس آرائیاں کی جارہی تھی کہ سپریم کورٹ کی از خود نوٹس کیس کی سماعت طول پکڑ رہی ہے شاید نظریہ ضرورت کے تحت درمیانہ راستہ اختیار کیا جائے گا



نئی حکومت کی تشکیل نو، نظریہ ضرورت دفن

| وقتِ اشاعت :  


سپریم کورٹ کی پانچ رکنی بنچ نے آئین کے تحت اپنا فیصلہ سنادیا ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ اور اسمبلیوں کی تحلیل جیسے اقدام کو غیر آئینی قرار دیدیا اور آج قومی اسمبلی میں عدم اعتماد پیش کرنے کے ساتھ ووٹنگ کا بھی فیصلہ دیدیا گیا۔



موجودہ سیاسی عدم استحکام، ملکی معیشت پر منفی اثرات

| وقتِ اشاعت :  


ملک میں سیاسی عدم استحکام کے برائے راست اثر معیشت پر پڑرہے ہیں پہلے سے ہی ملکی معیشت لاغر ہوکر رہ گئی ہے موجودہ حالات میں رو بروز ڈالر کی قیمت بڑھ رہی ہے جبکہ روپے کی قدر کم ہوتی جارہی ہے سرمایہ کاروں پر بڑا اثر پڑرہا ہے جس کا اظہار گزشتہ چند دنوں صنعت کار، تجارتی طبقہ کہہ رہے ہیں کہ ملک میں سیاسی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے سنجیدگی سے توجہ دی جائے وگرنہ حالات ایسے رہے تو معاشی حالات مزید خراب ہونگے موجودہ ملکی سیاسی عدم استحکام کے باعث ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں 1 ارب 7 کروڑ ڈالر کی کمی ہوئی ہے۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق ملکی زرمبادلہ کے ذخائر یکم اپریل کو ختم ہونے والے ہفتے میں 1 ارب 7 کروڑ ڈالرکم ہوئے ہیں۔