|

وقتِ اشاعت :   April 9 – 2022

سپریم کورٹ کی پانچ رکنی بنچ نے آئین کے تحت اپنا فیصلہ سنادیا ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ اور اسمبلیوں کی تحلیل جیسے اقدام کو غیر آئینی قرار دیدیا اور آج قومی اسمبلی میں عدم اعتماد پیش کرنے کے ساتھ ووٹنگ کا بھی فیصلہ دیدیا گیا اس سے قبل قیاس آرائیاں کی جارہی تھی کہ سپریم کورٹ کی از خود نوٹس کیس کی سماعت طول پکڑ رہی ہے شاید نظریہ ضرورت کے تحت درمیانہ راستہ اختیار کیا جائے گا

مگر یہ تمام تر خبریں اور تجزیہ غلط ثابت ہوئے جس سے آئین کی جیت ہوئی اور پارلیمان کی وقار بڑھ گئی ہے امید ہے کہ موجودہ اپوزیشن جو حکومتی تشکیل کی طرف جارہی ہے وہ آئین اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے کے لئے اپنا کردار ادا کیا گیا سیاسی مصلحت پسندی اور مفادات کے تحفظ کیلئے آئین سے کھیلواڑ نہیں کرے گی اور ہونا بھی یہی چاہئے کہ اسمبلی کی جنگ ایوان کے اندر دستور کے تحت لڑی جائے بجائے ایسا اقدام کرنے جس پر عدلیہ کو فیصلہ کرنا پڑے اگر ادارے اپنے متعین کردہ حدود میں کام کریں تو آئین کا مذاق نہیں بنے گا۔ بہر حال اب نئے قائد ایوان کا انتخاب ہوگا اور ایک نئی کابینہ ملک کی بھاگ ڈور سنبھالے گی جو وعدے موجودہ اپوزیشن نے کئے تھے کہ ہر ممکن حد تک معاشی بحران کو کم کرنے کیلئے اقدامات اٹھائے گی اسی پر اپنی توجہ مرکوز کرے گی بجائے سیاسی انتقامی کارروائیوں پر وقت کا ضیاع نہیں کرینگے جس کا اظہار اب بھی اپوزیشن کے قائدین کررہے ہیں کہ ان کی ترجیحات موجودہ مالی بحران اور عوام کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔ دوسری جانب قومی اسمبلی کا اجلاس آج صبح ساڑھے 10 بجے طلب کرلیا گیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پرووٹنگ ایجنڈے میں چوتھے نمبر پر ہے۔ 6 نکاتی ایجنڈا میں وقفہ سوالات اور توجہ دلاؤ نوٹس بھی شامل ہیں،نکتہ اعتراض کو بھی ایجنڈا میں شامل کیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ نے ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی رولنگ کو کالعدم قرار دے کر اسمبلی بحال کر دی تھی اور تحریک عدم اعتماد کے لیے اجلاس بلانے کا حکم دیا تھا۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد قومی اسمبلی کے نو اپریل کے اجلاس کا ایجنڈا جاری کر دیا گیا ہے۔ اب ملک میں ایک نئی حکومت بنے گی جس سے عوام کی بڑی توقعات اور امیدیں وابستہ ہیں کہ پچھلے ساڑھے تین سالوں سے ان کے جذبات اور احساسات کے ساتھ وعدوں اور خوش فہمیوں کے ذریعے کھیلا گیا اب نئی حکومت دعوے نہیں بلکہ عملی کام کرے گی جس سے کسی حد تک عوام موجودہ معاشی مسائل سے ریلیف میسر آئے گا۔