پاکستان اور ایران نے دو طرفہ تجارت کو فروغ دینے اور سالانہ تجارتی حجم کو 8 ارب ڈالر تک پہنچانے پر اتفاق کیا ہے، وزارتِ تجارت کے بیان کے مطابق اس اتفاق رائے کو ’اسٹریٹجک اقتصادی شراکت داری کے ایک نئے مرحلے‘ سے تعبیر کیا گیا ہے۔
اداریہ | وقتِ اشاعت :
پاکستان اور ایران نے دو طرفہ تجارت کو فروغ دینے اور سالانہ تجارتی حجم کو 8 ارب ڈالر تک پہنچانے پر اتفاق کیا ہے، وزارتِ تجارت کے بیان کے مطابق اس اتفاق رائے کو ’اسٹریٹجک اقتصادی شراکت داری کے ایک نئے مرحلے‘ سے تعبیر کیا گیا ہے۔
اداریہ | وقتِ اشاعت :
پاکستان کی یوتھ میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے ہر شعبہ میں وہ اپنا لوہا منواتے آرہے ہیں ،اسپورٹس میں خاص کر نوجوانوں کی دلچسپی بہت زیادہ ہے۔
اداریہ | وقتِ اشاعت :
ملک بھرمیں چینی بحران کاایک بار پھر شدت اختیار کرگیا ہے، چینی مارکیٹوں میں فی کلو 190 روپے میں فروخت کی جارہی ہے ،شوگر ملز مالکان کی جانب سے ہر بار مصنوعی بحران پیدا کیا جاتا ہے تاکہ وہ اربوں روپے بٹور سکیں ،
اداریہ | وقتِ اشاعت :
بلوچستان کے مسائل دیگر صوبوں کی نسبت زیادہ ہیں جس کی مختلف وجوہات ہیں ایک تو بلوچستان رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے جبکہ اس کی آبادی منتشر ہے۔
اداریہ | وقتِ اشاعت :
پاکستان اور آسٹریلیا نے معدنی وسائل کے شعبے میں باہمی تعاون کے نئے دروازے کھول دئیے ہیں جس میں ریکو ڈیک منصوبے کی ترقی اور پاکستان اسٹریٹجیک انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کے کلیدی کردار پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی ہے۔
اداریہ | وقتِ اشاعت :
غزہ میں اسرائیلی جارحیت سے 40 ہزار سے اموات ہوچکی ہیں جبکہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ معذور ہوئے ہیں غذائی خوراک سمیت دیگر چیزوں کی قلت کے باعث انسانی بحران جنم لے رہا ہے۔
اداریہ | وقتِ اشاعت :
پاک امریکہ تعلقات میں بہتری آنے سے ملکی معیشت پر مستقبل میں مثبت اثرات مرتب ہونگے۔
اداریہ | وقتِ اشاعت :
بلوچستان ملک کا نصف حصہ ہے اورمنتشر آبادی پر پھیلا ہوا خطہ ہے یہاں بہترین انفراسٹرکچر کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔
اداریہ | وقتِ اشاعت :
بلوچستان کے 80 فیصد سے زائد علاقوں میں لیویز فورس قیام امن کیلئے فرائض سر انجام دے رہی ہے جنہیں بی ایریا کہا جاتا ہے جس میں اندرون بلوچستان کے بیشتر اضلاع شامل ہیں ۔
اداریہ | وقتِ اشاعت :
بلوچستان میں موجود مسائل سے انکار نہیں کیا جاسکتا ،پسماندگی اور محرومیوں کے باعث صوبہ ترقی کی دوڑ میں دیگر صوبوں سے بہت پیچھے رہ گیا ہے جس کی بڑی وجہ بیڈ گورننس اور کرپشن کے ساتھ حکومتوں کی مدت کا پورا نہ ہونا بھی ہے حالانکہ بلوچستان وسائل سے مالا مال خطہ ہے اور اب بھی بلوچستان میں میگا منصوبے چل رہے ہیں جن سے بہت معمولی حد تک مقامی لوگوں کو بنیادی سہولیات سمیت روزگار فراہم کیا جارہا ہے، نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم اور اسکالر شپ بھی دیا جارہا ہے مگر اب بھی بہت کچھ کرنا ہے جس میں صوبے میں بہترین انفراسٹرکچر، تعلیم، صحت، پانی سمیت بنیادی سہولیات کی فراہمی شامل ہے جس کے لیے ایک خطیر رقم کی ضرورت ہے اس میں وفاق کی خصوصی دلچسپی ضروری ہے۔