ملک میں سیاسی ہلچل، وزیراعظم بھی میدان میں

| وقتِ اشاعت :  


ملک میں سیاسی ہلچل میں مزید شدت آگئی ہے ایک طرف پیپلزپارٹی کا لانگ مارچ جاری ہے تو دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں کے قائدین اہم بیٹھک اور حکومتی اتحادیوں کے ساتھ ملاقاتیں بھی کررہے ہیں یہ اہم بیٹھک عدم اعتماد کی تحریک کی حمایت کے لیے ہورہے ہیں جس کا کھل کر اظہار اپوزیشن لیڈر کررہے ہیں ۔اس وقت پی ڈی ایم اور پیپلزپارٹی دونوں ہی زیادہ متحرک ہیں اور ان کی کوشش ہے کہ پی ٹی آئی سمیت ان کے اتحادی ارکان کی حمایت حاصل کی جائے۔ بہرحال لمبی خاموشی کے بعد وزیراعظم عمران خان اب خود میدان میں اتر آئے ہیں نہ صرف اپنی جماعت بلکہ اتحادیوں کے ساتھ بھی ملاقات شروع کردی ہے جبکہ اپنے دیرینہ دوست جہانگیر ترین کے ساتھ بھی فون پر رابطہ کرچکے ہیں ۔



وزیراعظم کا عوامی پیکج، معاشی تبدیلی کے آثار، عوام کیلئے ریلیف

| وقتِ اشاعت :  


وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ روز قوم سے خطاب کرتے ہوئے مختلف معاملات پر بات کی مگر سب سے اہم مسئلہ مہنگائی کا تھا جس پر وزیراعظم نے ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے عوام کو ریلیف دینے کے لیے پیٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں کمی کردی اور اگلے بجٹ تک پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بھی نہ بڑھانے کا بھی اعلان کیا۔ یہ انتہائی خوش آئند فیصلہ ہے اس سے عام لوگوں کو براہ راست فائدہ پہنچے گا کیونکہ پیٹرول سستا ہوگا تو چیزوں کی قیمتوں میں کمی آئے گی اور غریب عوام اپنی ضروریات کی اشیاء سستے داموں میں خریدسکیں گے ۔



سی پیک منصوبہ کی تکمیل، وقت کی اہم ضرورت

| وقتِ اشاعت :  


سی پیک کا منصوبہ نہ صرف گوادر اور بلوچستان بلکہ پاکستان کے تمام صوبوں کے لیے ترقی و خوشحالی کے عظیم دور کی نوید ہے۔چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ ہمارے لیے مستقبل کی تعمیر میں کلیدی اہمیت کا حامل ہے، یہ منصوبہ چین کے عظیم الشان ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کا حصہ ہے جو چینی قیادت کے بین الاقوامی وژن کا آئینہ دار ہے۔ 15 ارب روپے کی خطیر لاگت کا یہ منصوبہ گوادر بندرگاہ کو کوسٹل ہائی وے سے منسلک کرے گا۔ 19کلومیٹر طویل اس ایکسپریس وے کی تکمیل سے ہر قسم کی ٹریفک کو گوادر بندرگاہ تک آسان رسائی ملے گی۔



روس یوکرین جنگ میں شدت، مذاکرات کے امکانات کم،تیسری بڑی جنگ کاامکان

| وقتِ اشاعت :  


اقوام متحدہ میں یوکرین کیخلاف جنگ روکنے کی قرارداد روس نے ویٹو کردیں۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کی گئی قرار داد میں یوکرین کے خلاف روسی جارحیت کی مذمت کی گئی تھی۔قرار داد میں یوکرین سے روسی فوجی انخلا کا مطالبہ کیا گیا تھا۔سلامتی کونسل کے 15 میں سے 11 اراکین نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔چین، بھارت اور متحدہ عرب امارات نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا تھا۔یواین سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کا کہنا ہے کہ روسی فوجیوں کو بیرکس میں واپس جاناچاہیے۔ امن کو ایک اور موقع دینا چاہیے، ہمیں ہمت نہیں ہارنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کا ادارہ جنگ کے خلاف قائم ہوا تھا، آج وہ مقصد حاصل نہیں ہو سکا جو ہونا چاہے تھا۔



تبدیلی، سیاسی جوڑ توڑ، قومی مسائل، حکومت اوراپوزیشن عوام کی طرف

| وقتِ اشاعت :  


ملک میں حکومت اوراپوزیشن دونوں میدان میں دکھائی دے رہے ہیں، بڑا دنگل سج چکا ہے ایک طرف اپوزیشن عدم اعتماد کی تحریک لانے کے لیے مکمل متحرک ہے اور تمام اپوزیشن جماعتوں سمیت حکومتی اتحادیوں کے ساتھ ملاقات اور بیک ڈور رابطے جاری ہیں ۔اپوزیشن کی جانب سے یہ دعویٰ کیاجارہا ہے کہ حکومتی اتحاد میں شامل جماعتوں کی جانب سے بھی انہیں عدم اعتماد کی تحریک میں ساتھ دینے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے جبکہ چوہدری برادران اور جہانگیر ترین گروپ کے ساتھ مسلسل رابطے اس وقت اپوزیشن کے جاری ہیں ۔دیگر اتحادی اب اندرون خانہ کون کس کے ساتھ ہے یہ عدم اعتماد لانے کے وقت ہی پتہ چل جائے گا۔ دوسری جانب حکومت بھی یہی دعویٰ کررہی ہے کہ ان کے ساتھ اپنے اتحادی تو ہیں ہی ساتھ اپوزیشن ارکان بھی ان کے ساتھ کھڑے ہیں اپوزیشن کے ہاتھ کچھ نہیں لگے ۔شیخ رشید کا کہنا ہے کہ تمام اتحادی اس کے وقت عمران خان کے ساتھ ہیں اورجو بھی وزیراعظم عمران خان کا ساتھ چھوڑے گا وہ پچھتائے گا۔ بہرحال سیاسی گہماگہمی جاری ہے رابطوں اورملاقاتوں کے ساتھ پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی کی مارچ بھی زور شور سے شروع ہوچکی ہے اب عوام سے رجوع کیاجارہا ہے ۔



روس یوکرین تنازعہ، پاکستان کا واضح موقف

| وقتِ اشاعت :  


وزیراعظم عمران خان کے دورہ کے وقت روس یوکرین تنازعے پر دنیا کے ممالک کے ردعمل پر بحث ہورہی تھی کہ یہ وقت مناسب تھا کہ وزیراعظم پاکستان روس کا دورہ کریں کیونکہ اس سے یہ تاثر جارہا ہے کہ پاکستان روس کے ساتھ ہے، دنیا میں ایک غلط پیغام جارہا ہے اس لیے یہ دورہ وقت کی مناسبت سے بہتر نہیں تھا۔ بہرحال اس تمام معاملے پر وزیر خارجہ نے کھل کر بات کی۔ وزیر داخلہ شاہ محمود قریشی نے روس یوکرین تنازع پر پاکستان کی پوزیشن واضح کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کسی کیمپ کا حصہ نہیں، وزیراعظم کا دورہ روس دو طرفہ تعلقات کے تناظر میں تھا۔



روس یوکرین جنگ، تیسری جنگ عظیم کا خطرہ

| وقتِ اشاعت :  


روس یوکرین کشیدگی اب جنگ میں تبدیل ہوگئی ہے۔روس کی جانب سے یوکرین پر حملے کے بعد 8 افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق روس نے یوکرین کا ایئر ڈیفنس نظام تباہ کرنے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔ یوکرینی فوج کے سپریم کمانڈر ان چیف نے روسی فوجوں کو زیادہ نقصان پہنچانے کا حکم دیا ہے



مہنگائی کے نئے طوفان کی آمد کاخطرہ، پیٹرول کی قیمت مزید بڑھے گی

| وقتِ اشاعت :  


ملک میں معاشی بحران مزید گھمبیر ہونے کا خدشہ ہے، اوگرا کی جانب سے ایک بار پھر پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا عندیہ دیا گیا ہے، اگر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مزیدبڑھیں گیں تو یقینا اس کا بوجھ براہ راست عوام پر ہی آئے گا جبکہ ملک کی سیاسی شخصیات ،تاجر برادری پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑے گا کیونکہ ایوانوں میں بیٹھے حضرات کی گاڑیوں کا پیٹرول سرکاری خزانے سے آتا ہے، ان کے دیگر مراعات بھی عوام کے ٹیکس سے پورے ہوتے ہیں۔ غریب عوام کے لیے سب اچھااور خوشحالی کے دعوے خواب بنتے جار ہے ہیں۔ دوسری جانب اہم عہدوں پر فائز معیشت کو چلانے والے بتارہے ہیں کہ ملک میں معاشی ترقی کی ہوا چل پڑی ہے سب کچھ بہتر ہے اور مزید تبدیلی آئے گی۔ گزشتہ روز ایک غیرملکی جریدے کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیرخزانہ شوکت ترین کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف پروگرام کی وجہ سے ملکی معیشت مستحکم ہوئی۔ رواں سال ملکی معیشت کی شرح نمو5 فیصد سے نیچے رہے گی۔



حکومت کیخلاف عدم اعتمادکی تحریک،ملکی سیاسی پارہ ہائی

| وقتِ اشاعت :  


ملک میں سیاسی ہلچل جاری ہے، اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے سیاسی سرگرمیوں میں بہت تیزی دیکھنے کو مل رہی ہے ،اہم بیٹھک لگ رہے ہیں بڑے قائدین خود میدان میں دکھائی دے رہے ہیں اور اس میں ایجنڈا حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کالانا ہے اور اسی سلسلے میں نہ صرف اپوزیشن جماعتیں ایک دوسرے سے ملاقاتیں کررہی ہیں بلکہ حکومتی اتحاد میںشامل جماعتوں کے ساتھ بھی رابطے اور بیٹھکیں لگارہی ہیں ۔



وزیراعلیٰ بلوچستان کا تعلیم کے حوالے سے بڑا فیصلہ، ترقی علم کے بغیرممکن نہیں

| وقتِ اشاعت :  


بلوچستان میں تعلیمی اداروں کی حالت زار اور معیار سے ہر ذی شعور واقف ہے کہ بلوچستان کے نوجوان ملک کے دیگر بڑے شہروں میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے جاتے ہیں جبکہ پرائمری سطح پر بھی خاص تبدیلی نہیں آئی باوجود اس کے کہ ماضی کی حکومتوں نے خطیر رقم تعلیم کے شعبے کی بہتری کے لیے مختص کررکھی تھی تاکہ تعلیمی اداروں کی حالت زار بہترہونے کے ساتھ معیاری تعلیم بچوں کو مل سکے۔مگر افسوس کہ آج بھی ہزاروں کی تعداد میں بچے اسکول سے باہر ہیں