کورونا وباء کی نئی اقسام آنے کاخطرہ، نئے مسائل سے نمٹنے کی ضرورت

| وقتِ اشاعت :  


عالمی وباء کورونا کی مزید نئی اقسام آنے کا خدشہ ظاہر کیاجارہا ہے کہ دوبارہ یہ وباء سراٹھاسکتا ہے اور اس کے اثرات خطرناک بھی ہوسکتے ہیں کیونکہ کورونا کی پہلی لہر کے دوران پاکستان بہت زیادہ متاثر نہیں ہوا مگر رفتہ رفتہ ملک کو اپنے شکنجے میں لینے لگا جس کے بعد پورے ملک میں سخت لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا اور اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کی گئی۔ بہرحال چوتھی لہر کے بعد یہ سلسلہ اپنے اختتام تک پہنچ چکا تھا مگر دوبارہ اس وباء نے شہریوں کو اپنی لپیٹ میں لینا شروع کردیا ہے اس لیے احتیاط اور ویکسی نیشن انتہائی ضروری ہے اس کے بغیر وباء کا مقابلہ نہیں کیاجاسکتا ،اگر لاپرواہی میں اس وباء کو نظرانداز کیاگیاتویقینا اس کے انتہائی بھیانک نتائج بھی برآمد ہوسکتے ہیں۔ موجودہ حالات جس طرح سے عوام کو متاثر کررہے ہیں۔



معاشی قید، بحرانات، حکمرانوں کی پالیسیوں میں تبدیلی نہیں آئی!

| وقتِ اشاعت :  


ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھاری اضافے کے بعد اب بجلی کی قیمت میں بڑے اضافے کی تیاری کرلی گئی ہے۔ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی نے بجلی کی قیمت میں اضافے کی درخواست نیپرا کو بھیج دی ہے۔نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی کو سی پی پی اے کی جانب سے دی گئی درخواست میں بجلی فی یونٹ 6 روپے 10 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔نیپرا کاکہنا ہے کہ درخواست جنوری کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کی گئی ہے جس پر سماعت 28فروری کو ہوگی۔سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کی درخواست کے الیکٹرک کے سوا تمام بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے لیے ہے۔واضح رہے کہ حال ہی میں پیٹرول کی قیمت میں 12 روپے 3 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔



سیاسی رویوں میں تبدیلی اورملکی مسائل

| وقتِ اشاعت :  


ملک میں حالیہ بحرانات انتہائی سنگین شکل اختیار کرتے جار ہے ہیں، عوام کو تسلی دینے کی بجائے اخلاق سے عاری معاملات موضوع بحث بن چکی ہیں۔ جب ملکوں کو بڑے چیلنجز کا سامنا رہتا ہے تو صاحب اقتدار، اپوزیشن سمیت تمام حلقے درپیش چیلنجز سے نمٹنے اور آنے والے بحرانوں کو روکنے کیلئے قومی پالیسی بنانے کیلئے سرجوڑ لیتے ہیں لیکن افسوس کہ ہمارے ملک میں ایسا کوئی ماحول دکھائی نہیں دے رہا ہے بلکہ سیاسی اہداف کے حصول کیلئے نجی معاملات پر سیاست اور بحث کی جارہی ہے۔



مہنگائی کا سونامی، عوام بے بس، حکومت کی گورننس پر منفی اثرات

| وقتِ اشاعت :  


معاشی آزادی کے بغیر کیسے عوام کو ریلیف دیا جاسکتا ہے ؟بدقسمتی سے آئی ایم ایف کے چنگل میں ملکی معیشت بری طرح پھنس چکی ہے ۔ روز معاشی حوالے سے کوئی نہ کوئی بری خبر سامنے آجاتی ہے پہلے یہ تسلی دی جارہی تھی کہ معیشت بہتر سمت کی طرف جارہی ہے قرض بھی لے رہے ہیں چند ماہ کے دوران عوام کو بڑا ریلیف پیکج دیا جائے گا۔ پھر یہ باتیں سامنے آنے لگتی ہیں کہ پاکستان سستا ترین ملک ہے دیگر ممالک میں مہنگائی کی شرح بہت زیادہ ہے ۔کس ٹریک پر معیشت جارہی ہے اور حکومتی پالیسی مبہم ہے کہ مستقبل میںمزید کیا بڑے فیصلے ہونگے جس سے غریب عوام بری طرح متاثر ہوگی۔ بہرحال آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل کرتے ہوئے پیٹرولیم لیوی میں اضافہ کر دیا گیا اور پیٹرول اوگرا کی تجویز سے بھی زیادہ مہنگا کیا گیا ہے۔پیٹرول پر فی لیٹر لیوی میں 4 روپے کا اضافہ کردیا گیا ہے، اگر پیٹرول پر لیوی برقرار رکھی جاتی تو قیمت میں 4 روپے فی لیٹر کم اضافہ ہوتا مگر پیٹرول پر لیوی بڑھاکر 17 روپے 92 پیسے فی لیٹر کردی گئی ہے جب کہ اس سے قبل پیٹرول پر فی لیٹر لیوی 13 روپے 92 پیسے عائد تھی۔



وزیراعلیٰ بلوچستان کا شہریوں کے روزگارکیلئے بڑااعلان

| وقتِ اشاعت :  


وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کی جانب سے بلوچستان کے بیروزگار نوجوانوں کے لیے روزگار کے ذرائع پیدا کرنے کے لیے تمام تر وسائل کو بروئے کار لانے کے لیے باقاعدہ طور پر اقدامات کا آغاز کردیا گیا ہے جوانتہائی خوش آئندامرہے۔ اس سے قبل بھی وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے بلوچستان کے نوجوانوں کے لیے تمام محکموں میں جہاں آسامیاں خالی ہیں انہیں میرٹ کی بنیاد پرپُر کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ مستقبل کے معمار محکموں کے اندر اپنے فرائض سرانجام دیتے ہوئے صوبے کی ترقی اور خوشحالی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ اس کے علاوہ بھی جتنے میگا منصوبوں پر کام چل رہا ہے ان پر بھی وزیراعلیٰ بلوچستان اپنی ٹیم کے ساتھ ملکر روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے بیٹھک لگارہے ہیں تاکہ بڑے پیمانے پر نوجوانوں کو پُرکشش روزگار دیا جاسکے جس سے ان کی زندگی میں بڑی تبدیلی رونما ہوسکے۔



افغانستان میں انسانی بحران، ذمہ دارکون؟

| وقتِ اشاعت :  


افغانستان میں مالی بحران کی وجہ سے انسانی بحران پیدا ہونے لگا ہے اس وقت افغان عوام شدید بحرانات کا سامنا کررہے ہیں اگر یہ صورتحال اسی طرح برقرار رہی توبڑے پیمانے پر جانی نقصان کا اندیشہ ہے۔ افغان عوام دہائیوں سے مصیبت اور دہرے عذاب سے گزر رہے ہیں جنگی ماحول کی وجہ سے افغانستان مکمل طور پر تباہ ہوکر رہ گیا ہے اور اس کی ذمہ دار بھی عالمی طاقتیں ہیں جنہوں نے اپنے مفادات کے حصول کے لیے افغانستان کو بیس بنائے رکھا مگر ان کو کامیابی نہیں ملی تو اب افغان عوام کو تنہاچھوڑا جارہا ہے کسی طور پر ان کی مدد نہیں کی جارہی ۔ امریکہ نے ایسے وقت انخلاء شروع کیا کہ بغیر کوئی انتظام اور اپنے ہی افغان حکومت میں موجود اتحادیوں کو بھی اعتماد میں نہیں لیا۔



ملکی معیشت، سفارتکاری پر توجہ دینے کی ضرورت

| وقتِ اشاعت :  


پاکستان میں اس سب سے بڑا چیلنج معاشی اورسفارتی حوالے سے دنیا کے ممالک سے قرابت کا ہے۔ انتہائی ضروری ہے کہ موجودہ حالات میں ملکی معیشت کو فروغ دینے کے لیے عالمی منڈی تک رسائی حاصل کی جائے جبکہ بیرونی سرمایہ کاروں کو اپنی طرف مائل کرنا ہوگا جس کے لیے ضروری ہے کہ انہی ممالک کے سربراہان اور سفیروں سے ملاقاتوں اور رابطوں کو تیز کیا جائے جس طرح سے چین اور روس کے ساتھ پاکستان کے بہترین تعلقات چل رہے ہیں اسی طرح دیگر ممالک کوبھی اپنے قریب لانے کے لیے کوششیں کرنی چاہئیں۔ جب تک پاکستان کے پروڈکٹس عالمی منڈی تک نہیں پہنچتے اور بیرونی سرمایہ کاری نہیں آتی تو ملکی معیشت اوپر نہیں جائے گی۔



عوامی مسائل، وزیراعظم کا بڑا فیصلہ

| وقتِ اشاعت :  


ملک میں جب سے پی ٹی آئی کی حکومت بنی ہے گورننس کے حوالے سے بہت زیادہ تنقیدکاسامنا حکومت کو رہا ہے کیونکہ ساڑھے تین سالوں کے دوران بحرانات نے سب سے زیادہ جنم لیا ہے جبکہ عوامی مسائل میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ اول روز سے یہی بات کی جارہی ہے کہ حکومت کی مکمل توجہ گورننس کی بہتری پر ہونی چاہئے ،عوام کو ریلیف فراہم کیاجائے ان کے شکوے ختم کئے جائیں۔ بنیادی مسائل جن کا سامنا عوام کررہی ہے وہ ابھی تک جوں کے توں ہیںاور انہیں حل کرنے کے لیے کوئی واضح پالیسی بھی دکھائی نہیں دے رہی ہے عوام سراپااحتجاج ہے صرف وفاقی نہیں



اپوزیشن کامرکز، صوبوں میں عدم اعتماد کی تحریک، اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟

| وقتِ اشاعت :  


اپوزیشن جماعتوں نے حتمی طور پر فیصلہ کرلیا ہے کہ وفاق سمیت صوبائی حکومتوں کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لائینگے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اپوزیشن جماعتوں کے پاس قومی اسمبلی میں اراکین کی تعداد زیادہ ہے جبکہ پنجاب میں ن لیگ کے پاس بھی اراکین کی ایک بڑی کھیپ موجود ہے جبکہ سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت ہے ،رہ جاتا ہے کے پی کے اور بلوچستان ,یہاں ن لیگ، پیپلزپارٹی کی اکثریت تو نہیں ہے مگر بلوچستان میں اب باپ اور پی ٹی آئی کے درمیان اختلافات کی باتیں سامنے آرہی ہیں جس کااظہار حکومتی حلقوں نے خود کیا ہے مگر یہ کہنا کہ فوری طور پر باپ اپوزیشن کے ساتھ ہاتھ ملائے گی اور مرکز میں ان کا ساتھ دے کر اپنی حکومت خود ختم کرے گی، یہ ممکن نہیں ہے۔



بلوچستان میں بیروزگاری، روزگارکے مواقع کس طرح پیدا کئے جاسکتے ہیں؟

| وقتِ اشاعت :  


بلوچستان میں سب سے بڑا مسئلہ بیروزگاری کا ہے ۔یہاں روزگار کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں سرکاری وغیرسرکاری اداروں میں ملازمتیں عرصہ دراز سے محدود حد تک موجود ہیںبلکہ نہ ہونے کے برابر ہیں ایک بہت بڑا صوبہ اور وسائل سے مالامال خطے کی سرحدی تجارت کے حوالے سے اہمیت ہونے کے باوجود سرمایہ کاری کا نہ ہونا المیہ ہے۔