پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں الیکشن ایکٹ ترمیمی بل کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا،انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق مل گیا۔ اپوزیشن نے ہنگامہ آرائی کی، بل کی کاپیاں پھاڑ دیں اور ایوان سے واک آوٹ کیا۔وزیراعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان کی جانب سے انتخابی اصلاحات بل پیش کی گئی جسے کثرت رائے سے منظورکر لیا گیا، تحریک کے حق میں 221 جبکہ مخالفت میں 203 ووٹ آئے۔پیپلزپارٹی کی جانب سے ووٹوں کی گنتی پر اعتراض اٹھایا گیا جس پر اسپیکر نے دوبارہ گنتی کرائی، اس دوران ایوان میں شدید بدنظمی پیدا ہو گئی، اپوزیشن ارکان ،اسپیکر ڈائس کے سامنے اکٹھے ہو گئے اور نعرے بازی کرتے ہوئے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں۔ایوان کا ماحول گرم ہوا تو سارجنٹ ایٹ آرمز نے وزیراعظم عمران خان کو اپنے حصار میں لے لیا،حکومتی ارکان وزیراعظم کے گرد جمع ہو گئے۔اپوزیشن ارکان نعرے بازی کرتے ہوئے ایوان سے چلے گئے اور حکومت نے مرحلہ وار بلز کی منظوری کا عمل جاری رکھا۔
ملک بھر میں حالیہ مہنگائی کے بعد ایک بڑا خدشہ یہ ہے کہ ملاوٹ مافیا خوردنی اشیاء کو عام مارکیٹ میں سستے داموں فروخت کرسکتے ہیں اور بڑے پیمانے پر اس کاروبار کو وسعت دینے کے لیے نیٹ ورک کا جال بچھاتے ہوئے پورے ملک میں اس کی سپلائی کرینگے یہ انسانی صحت کے لیے انتہائی مضر ثابت ہوگا ۔ایک طرف مہنگائی تو دوسری جانب عوام کی زندگیاں داؤ پر لگ جائیں گی کیونکہ عام لوگ اس مہنگائی کے دور میں سستی اشیاء خریدنے پر زیادہ زور دیتے ہیں تاکہ ان کے گھر کا چولہا دو وقت کم ازکم جل سکے ۔بدقسمتی سے مہنگائی پر قابو پانے کی بجائے آئے روز اشیاء خوردنی کی قیمتیں بڑھا دی جاتی ہیں اور کوئی ایسا میکنزم بھی دکھائی نہیں دے رہا کہ جلد مہنگائی پر قابو پالیاجائے گا۔
سی پیک جو ملکی معیشت کا جھومر ہے اور بلوچستان اس کا مرکز ومحور ہے، گوادر ایک ایسے مقام پر واقع ہے جس کے سمندری اورخشک راستوں کے ذریعے دیگر ممالک سے تجارت بڑے پیمانے پر ہوسکتی ہے ۔بیسیوئوں بار یہ مثال دی جاچکی ہے کہ ایران پڑوسی ملک چابہار پورٹ کے ذریعے سینٹرل ایشیاء سے اربوں روپے ڈالر ماہاناکمارہا ہے، ریلوے ٹریک بچھاکر سینٹرل ایشیاء کے ممالک کے ساتھ کاروبار کو وسعت دے رہا ہے اوردیگر ممالک کے ساتھ بھی تجارتی سرگرمیوں کے حوالے سے کام کررہا ہے مگر اب تک گوادر میں اس طرح بڑے پیمانے پر کام نہیں ہوا ہے حالانکہ چابہار پورٹ کا فاصلہ دیگر ممالک کے ساتھ طویل ہے جبکہ گوادر بالکل ہی نزدیک پڑتا ہے باوجود اس کے کہ اہم منصوبوں پر تیزی کے ساتھ کام نہیں کیاجارہا ۔
پاکستان کے سرکاری قرضوں میں تین سال کے دوران 14 ہزار 906 ارب کا اضافہ ہوا اور مجموعی قرض 41 ہزار ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔وزارت خزانہ کی جانب سے ملک کے اندرونی وبیرونی قرضوں اور سود کی ادائیگی کی تفصیلات ایوان میں پیش کی گئیں، وزارت خزانہ کی ایوان بالا میں جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق حکومت قرضوں پر سود کی مد میں سات ہزار460ارب روپے ادا کر چکی ہے۔تحریری جواب میں بتایا گیا کہ تین سال کے دوران سود کی مد میں 50 فیصد ادائیگی کی گئی۔ موجودہ حکومت کے تین برسوں میں پاکستان کے اندرونی قرض میں 10 ہزار ارب کا اضافہ ہوا۔ جون 2018 میں ملک کے اندرونی قرض 16 ہزار ارب تھے۔اگست 2021 تک اندرونی قرض 26 ہزار ارب سے بڑھ گئے۔
بلوچستان میں گزشتہ چند دہائیوں کے دوران سرکاری محکموں کی گورننس کے ریکارڈطلب کرکے دیکھا جائے کہ ان محکموںنے کتنے احسن طریقے سے اپنے فرائض انجام دیتے ہوئے صوبے اور عوام کی خدمت کی ہے۔ بمشکل چند ایک ہی محکمے شاید ایسے ہوں کہ ان کی کارکردگی قدرِ بہتر یا تسلی بخش ہو۔ یہ کہنا کہ بہت ہی عمدہ کام کرکے محکمے سے سرکار اور عوام کو فائدہ پہنچا یا گیا ہے اگر ایسا ہوتا توبلوچستان کے غریب عوام چھوٹے چھوٹے مسائل پر سڑکوں پر نکل کر سراپااحتجاج نہ ہوتے۔
xمتحدہ اپوزیشن نے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کے لیے صلاح مشورے شروع کر دیا ہے۔اپوزیشن کے بعض ارکان کے مطابق سینیٹ میں حکومت اور اس کے اتحادی اقلیت میں ہیں اور ان کی تعداد 42 ہے جبکہ سینیٹ میں اپوزیشن جماعتوں کو 50 سے زائد ارکان کی حمایت حاصل ہے۔اپوزیشن ارکان کا یہ دعویٰ بھی ہے کہ انہیں سینیٹ میں دلاور خان گروپ کے 6 ارکان کی بھی حمایت حاصل ہے۔
تما م تر حکومتی دعوئوں اور کوششوں کے باوجود ملک میں چینی کی قیمت نیچے نہ آسکی۔چینی کی قیمتیں کون کنٹرول کر رہا ہے؟ دام کیسے اور کب نیچے آئیں گے؟ عوام پریشانی میں مبتلا ہیں۔حکومتی دعوؤں کے باوجود مختلف شہروں میں چینی اب بھی 140 سے 160 روپے فی کلو پر فروخت ہو رہی ہے۔ملک کے بعض شہروں سے مقامی چینی غائب ہے لیکن کچھ دکانوں پر درآمدی چینی 90 روپے فی کلو کے حساب سے دستیاب ہے۔
بلوچستان ملک کا واحد صوبہ ہے جو نہ صرف رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا ہے بلکہ اپنی جغرافیہ اہمیت کے حوالے سے بھی انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ بلوچستان کی سرحدیں مغرب سے لیکر سینٹرل ایشیاء تک ملک کو تجارتی حوالے سے رسائی فراہم کرنے کا ذریعہ ہیں مگر بدقسمتی سے معاشی اسٹرٹیجک کے لحاظ سے اس خطے کو استعمال میں لانے کے لیے ترجیح ہی نہیں دی گئی۔ محض سی پیک ہی نہیں بلکہ گوادر کے ہی روٹس کو استعمال کرتے ہوئے مغرب سے لیکر سینٹرل ایشیاء تک رسائی حاصل کرنے کے لیے ریلوے ٹریک سمیت دیگر ذرائع استعمال کرکے معاشی اہداف حاصل کئے جاسکتے ہیں۔
ملک میں گیس کے ممکنہ بحران سے بچنے کے لیے پاکستان ایل این جی لمیٹڈ نے تاریخ کا مہنگا ترین ایل این جی کارگو خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔ذرائع کے مطابق نومبر کیلئے پی ایل این جی لمیٹڈ نے ایک ایل این جی کارگو 30.65 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو میں خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ نومبر میں 2 ایل این جی کارگوز سپلائی سے 2 عالمی کمپنیوں نے معذرت کی تھی، یہ ایل این جی کارگوز19 سے 20 نومبر اور 26 سے 27 نومبر کو ڈیلیور ہونے تھے۔
چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس عبدالحمید بلوچ پر مشتمل بینچ نے بلوچستان میں سی پیک کے حوالے سے دائر آئینی درخواست کی سماعت کی ۔درخواست میں درخواست گزار منیر احمد خان کاکڑ نے سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ حکو مت پاکستان و دیگر کو فریق بنایا ہے ۔معزز عدالت کے روبرو ایڈووکیٹ جنرل نے بلوچستان میں سی پیک کے منصوبوں کے حوالے سے مختلف مسائل ریکارڈ پر رکھے۔