8مارچ کو عالمی یوم خواتین منایاگیا، ملک بھر میں مختلف تقاریب کا انعقاد کیا گیا جن میں خواتین سمیت مردوں کی بھی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ گوکہ گزشتہ سال خواتین کے عالمی دن کے موقع پر ایسے نعرے، پلے کارڈز اور بینرز پر آویزاں کئے گئے تھے جوشدید تنقید کی زد میں رہے اور متواتر اس مسئلہ پر بحث ومباحثہ بھی ہوا اور پوری میڈیا کی توجہ متنازعہ سلوگن اور فریقین کے درمیان جھڑپ پر رہی مگر اصل مسئلہ اس تنازعہ کی وجہ سے بالکل ہی اوجھل رہ گیا۔ بہرحال پاکستان میں خواتین کیلئے مسائل بہت زیادہ ہیں اور متعدد کیسز رپورٹ بھی ہوئے ہیں۔
ملک میں مہنگائی کا سلسلہ تھمنے میں نہیں آرہا اور مسلسل ساتویں ہفتے بھی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ادارہ شماریات نے ہفتہ وار مہنگائی کی رپورٹ جاری کردی جس کے مطابق حالیہ ہفتے میں مہنگائی 0.61 فیصد مزید بڑھ گئی جس کے بعد ملک میں مہنگائی کی شرح 14.95 فیصد ہوگئی۔ادارہ شماریات کا کہنا ہے کہ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ مہنگائی کا سبب بنا اور ایک ہفتے میں 22 اشیائے ضروریہ مہنگی ہوئیں۔ چکن 13 روپے 30 پیسے فی کلو مہنگی ہوئی اور چکن کی اوسط فی کلو قیمت 263 روپے 58 پیسے ہوگئی۔
سینیٹ انتخاب میں اسلام آباد کی نشست پر حکومتی امیدوار عبدالحفیظ شیخ کی شکست اور اپوزیشن امیدوار یوسف رضاگیلانی کی جیت کے بعد وزیراعظم عمران خان نے ایوان سے اعتماد کا ووٹ لینے کافیصلہ کیا تھا جس کے بعد گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے ایوان سے 178 ووٹ حاصل کئے جبکہ وزیراعظم منتخب ہونے پر انہیں 176 ووٹ ملے تھے اس طرح انہوں نے پہلے کے مقابلے میں 2 اضافی ووٹ لیے۔قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ دنیا میں کوئی بھی ملک کرپٹ لیڈر شپ کے ساتھ خوشحال نہیں رہ سکتا۔
اسلام آباد کی نشست پر اپوزیشن کی کامیابی کے بعد وزیراعظم عمران خان نے اعتماد کا ووٹ لینے کافیصلہ کیا ہے ، اس کی بنیادی وجہ وزیراعظم عمران خان نے الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ کو قرار دیا ہے کہ اسلام آباد کی نشست پر عبدالحفیظ شیخ کو شکست دینے کیلئے ممبران کو خریدا گیا اور باقاعدہ بولی لگائی گئی ۔ عمران خان نے یہ بھی کہہ دیا کہ ان کے ہی جماعت کے 15ارکان نے پیسے لیکر اپوزیشن کو ووٹ دیا اگر مجھ پر اعتماد نہیں تو وہ پارلیمنٹ میں آکر عدم اعتماد کااظہار کریں ،میں ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اپوزیشن بنچ پر بیٹھ جائونگا۔
بلوچستان میں سینیٹ کی خالی ہونے والی 12نشستوں میں سے حکومتی اتحادنے 8نشستوں پر میدان مارلی، اپوزیشن اتحاد حکومت کو سرپرائز دینے میں ناکام رہی۔ پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کو4نشستوں پر کامیابی ملی، مجموعی طورپر65اراکین اسمبلی نے ووٹ کاسٹ کیا ۔انتخابی نتائج کے مطابق جنرل کی 7نشستوں پر بلوچستان عوامی پارٹی کے منظور کاکڑ،سرفراز بگٹی،پرنس آغا احمد عمرزئی، آزاد امیدوارعبدالقادر،عوامی نیشنل پارٹی کے عمر فاروق کاسی،جے یو آئی کے مولانا عبدالغفور حیدری،بی این پی کے قاسم رونجھونے کامیابی حاصل کی ۔
ملک بھر میں سینیٹ انتخابات میں سب سے زیادہ نظریں اسلام آباد کی نشست پر لگی ہوئی تھیں اور یہی نتیجہ ملک میں آنے والی سیاسی منظر نامہ کو واضح کردے گا کہ کتنی بڑی تبدیلی آنے کا امکان ہے۔ اس نشست کیلئے حکومت اوراپوزیشن دونوں نے اپنی پوری طاقت لگائی، اسلام آباد میں مسلسل سیاسی بیٹھک لگائے گئے ،رات دیر تک اجلاسوں کے دور چلے۔ حکومت کی جانب سے اس نشست پر عبدالحفیظ شیخ جبکہ اپوزیشن کی جانب سے مشترکہ امیدوار سابق وزیراعظم پیپلزپارٹی کے رہنماء یوسف رضا گیلانی تھے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے کہا ہے کہ سینیٹ الیکشن ماضی کی روایت کے مطابق خفیہ بیلٹنگ سے ہوں گے تاہم شفافیت کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد چیف الیکشن کمشنر کی زیرصدارت ایک اجلاس ہوا۔ اجلاس میں سپریم کورٹ کی رائے پر اس کی روح کے مطابق عمل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔اجلاس میں یہ فیصلہ بھی ہوا کہ سینیٹ الیکشن میں ٹیکنالوجی کے استعمال کیلئے کمیٹی بنائی جائے گی۔ٹیکنالوجی کے استعمال سے متعلق کمیٹی 4ہفتوں میں سفارشات دے گی۔ مذکورہ کمیٹی نادرا،ایف آئی اے اور وزارت آئی ٹی سے تجاویز بھی لے گی۔
سینیٹ کی دو نشستوں پر قومی اسمبلی میں الیکشن ہو گا اورایک نشست خالی ہونے کے باعث ارکان کی مجموعی تعداد341 ہے۔سینیٹ کی جنرل اور خواتین کی مخصوص نشست کے لیے حکومت اور اپوزیشن میں ون ٹو ون مقابلہ ہے اور کسی بھی امیدوار کو جیتنے کے لیے171 ارکان کے ووٹ درکار ہوں گے۔حکومتی اتحاد کو اس وقت قومی اسمبلی میں181 ارکان کی حمایت حاصل ہے۔ حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کے157 ایم این ایز ہیں۔قومی اسمبلی میں حکومت کی اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے7، مسلم لیگ ق اور بلوچستان عوامی پارٹی کے پانچ پانچ ارکان ہیں۔
یکم مارچ سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافے کا امکان ہے۔ اوگرا نے سمری پیٹرولیم ڈویژن کو ارسال کر دی ہے۔ سمری میں پیٹرولیم مصنوعات کی مجوزہ قیمتوں کا تعین 30روپے فی لیٹرلیوی کی بنیاد پرکیا گیا ہے۔اطلاعات ہیں کہ پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 20روپے7پیسے اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔ ڈیزل کی فی لیٹرقیمت میں19روپے61 پیسے اضافے کی تجویز ہے۔پیٹرولیم لیوی کی بنیاد پرپیٹرول اور ڈیزل کی قیمت 6 روپے فی لیٹربڑھے گی۔
وزیراعظم عمران خان نے بھارتی جارحیت کے خلاف پاکستان کے کامیاب ردعمل پر قوم اور پاک فوج کو مبارکباد دی۔وزیر اعظم عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بالاکوٹ واقعے کے 2 سال مکمل ہونے پر پاک فوج کی بہادری کو سلام پیش کیا اور وزیراعظم نے بھارتی جارحیت کے خلاف پاکستان کے کامیاب ردعمل پر قوم کو مبارکباد دی۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ذمہ دار قوم ہونے کے ناطے ہم نے پورے عزم کے ساتھ بروقت جواب دیا اور پاکستان نے پوری دنیا کو اپنے ذمہ دارانہ رویے کا ثبوت دیا۔