حکومت اوراپوزیشن کے درمیان مذاکرات کاآغاز

| وقتِ اشاعت :  


حکومت اوراپوزیشن کے درمیان موجود تناؤ کے دوران حکومتی حلقوں کی جانب سے یہ بات سامنے آتی رہی ہے کہ شہباز شریف مذاکرات کے حوالے سے تیار ہیں جبکہ اس سے قبل بھی شہبازشریف کا نام اس حوالے سے شیخ رشید لیتے رہے ہیں کہ شہبازشریف ٹکراؤ نہیںچاہتے بلکہ درمیان کا راستہ اختیار کرتے ہوئے بات چیت کے ذریعے معاملات کو افہام وتفہیم سے حل کرنے کے ہامی ہیں اور شہباز شریف سے رابطوں کے متعلق بھی متعددبار باتیں سامنے آچکی ہیں مگر اس حوالے سے مسلم لیگ ن نے ہمیشہ بات چیت یا بیک ڈور ملاقاتوںکی تردید کی ہے۔



جمعیت میں دھڑے بندی، مولانا فضل الرحمان اور مولانا شیرانی مدمقابل

| وقتِ اشاعت :  


جمعیت علماء اسلام نے مولانا محمد خان شیرانی اور حافظ حسین احمدکو پارٹی سے نکال دیا۔ اطلاعات کے مطابق جمعیت علمائے اسلام کی مجلس عاملہ کا اسلام آباد میں اجلاس ہوا جس میں مولانا محمد خان شیرانی،حافظ حسین احمد، مولاناگل نصیب خان اور مولاناشجاع الملک کوپارٹی سے نکالنے کا فیصلہ کیا گیا۔ مجلس عاملہ نے نظم وضبط کمیٹی کی سفارشات پر متفقہ فیصلہ کیا۔



حکومت اپوزیشن معاملہ بند گلی میں داخل ہوچکا ہے کیا؟

| وقتِ اشاعت :  


وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) اتحاد اپنی موت آپ مرگیا، استعفے دینے والے اب استعفوں سے بھاگ رہے ہیں۔ اسلام آباد میں حکومتی و پارٹی ترجمانوں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم خود اختلافات کا شکار ہے، اپوزیشن احتساب سے بھی بھاگ رہی ہے، مولانا فضل الرحمان پیسوں اور جائیدادوں کا حساب دیں۔ اجلاس کے شرکاء نے کہا کہ مریم نواز نے پی ڈی ایم میں شامل تمام جماعتوں کی ساکھ ختم کردی ہے، آج بھی 2 ایم این ایز نے استعفیٰ دیا پھر غائب ہوگئے۔



بلوچستان کے ساتھ کالونیل رویہ کب تک؟

| وقتِ اشاعت :  


بلوچستان کی محرومیوں اور پسماندگی پر 70 سال سے زائد عرصہ سے آہ و فغاں جاری ہے مگر حکمرانوں کے دلوں میں رحم نام کی کوئی شہ نظر نہیں آتی بلکہ مزید اس صوبہ کو غربت کی طرف دھکیلا جارہا ہے۔ بلوچستان کا مسئلہ آج پورے ملک پر واضح ہے کہ یہاںکے مسائل کیا ہیں اور قوم پرستوں کے شکوئوں کے بنیادی اسباب کیا ہیں ؟اب یہ کہنا کہ بلوچستان کا مسئلہ کس طرح حل ہوگا اور اس کیلئے کیا روڈ میپ اور میکنزم اپنائی جائے کہ بلوچستان کے عوام کی ناراضگی وفاق کے ساتھ ختم ہوجائے ۔وہ تمام تر بنیادی وجوہات ستر سال کے دوران حکمرانی کرنے والی ہر وفاقی جماعت کے سامنے تفصیلی طور پر رکھی گئیں۔



معاشی بحران، حکومت خامیوں پر توجہ دے

| وقتِ اشاعت :  


 وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ڈھائی سال گزر گئے اب ہم ناتجربہ کاری کا بہانہ نہیں بنا سکتے ، ہمارے پاس سوا دو سال ہیں ، وزرا ء کو کارکردگی مزید بہتر بنانا ہو گی،وفاقی وزارتوں کو اہداف سونپنے سے متعلق تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پانچ سال بعد عوام فیصلہ کریں گے حکومتی کارکردگی کیسی رہی۔ وزیراعظم نے پاور سیکٹر کو سب سے بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاور سیکٹر کا سوچ کر راتوں کو نیند نہیں آتی، مہنگائی بھی چیلنج ہے،عوام پر زیادہ بوجھ نہیں ڈالیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پنشن کا پہاڑ چڑھتا جا رہا ہے۔



افغانستان میں امن معاہدے کے باوجود بدامنی کی لہرمیںکمی نہ آسکی

| وقتِ اشاعت :  


افغان طالبان کا امریکہ اور افغان حکومت کے درمیان امن معاہدے اور مذاکرات کے باوجود بھی افغانستان میں دہشت گردی کے واقعات میںکوئی خاص کمی نہیں آرہی بلکہ آئے روز خود کش حملے ، بم دھماکے اور فائرنگ کے واقعات رونما ہورہے ہیں جس میں اہم حکومتی شخصیات اور عام شہریوں کونشانہ بنایاجارہا ہے۔ امریکہ اور طالبان کے درمیان معاہدے میں واضح طور پر اس بات پر اتفاق کیا گیا تھا کہ تشدد کی روک تھام کیلئے مشترکہ کوششیں کی جائینگی جبکہ ملابرادران امن عمل کو آگے بڑھانے کیلئے افغانستان میں موجود تمام گروپس سے بات چیت کرینگے۔



جارحانہ سیاست، ملکی بحرانات، ماضی سے سبق سیکھنے کی ضرورت

| وقتِ اشاعت :  


ملک میں سیاسی ماحول کی کشیدگی اپنی جگہ مگر اپوزیشن اور حکومت کے درمیان روزبروز مسئلہ نہ صرف شدت اختیار کرتا جارہا ہے بلکہ پیچیدگیاں بھی پیدا ہورہی ہیں۔ ایک طرف چند وزراء اپوزیشن کے ساتھ ڈائیلاگ کی بات کرتے دکھائی دیتے ہیں تو دوسرے وزراء اپوزیشن کے حوالے سے سخت گیر مؤقف اختیار کرتے ہوئے ڈائیلاگ کو این آر او اور ریلیف سے جوڑدیتے ہیں ۔پھر اپوزیشن بھی جارحانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے حکومت پر شدید تنقید کرتی ہے۔ بہرحال کسی بھی مسئلہ کا حل سیاسی ڈائیلاگ کے بغیر ممکن نہیں ہے۔



جارحانہ سیاست، ملکی بحرانات، ماضی سے سبق سیکھنے کی ضرورت

| وقتِ اشاعت :  


ملک میں سیاسی ماحول کی کشیدگی اپنی جگہ مگر اپوزیشن اور حکومت کے درمیان روزبروز مسئلہ نہ صرف شدت اختیار کرتا جارہا ہے بلکہ پیچیدگیاں بھی پیدا ہورہی ہیں۔ ایک طرف چند وزراء اپوزیشن کے ساتھ ڈائیلاگ کی بات کرتے دکھائی دیتے ہیں تو دوسرے وزراء اپوزیشن کے حوالے سے سخت گیر مؤقف اختیار کرتے ہوئے ڈائیلاگ کو این آر او اور ریلیف سے جوڑدیتے ہیں ۔پھر اپوزیشن بھی جارحانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے حکومت پر شدید تنقید کرتی ہے۔ بہرحال کسی بھی مسئلہ کا حل سیاسی ڈائیلاگ کے بغیر ممکن نہیں ہے چاہے ۔



بلوچستان میں زرعی شعبہ کی ترقی آبی وسائل سے ممکن ہے

| وقتِ اشاعت :  


زراعت کا شعبہ بلوچستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور پاکستان کا شمار دنیا کے بہترین زرعی ممالک میں ہوتا ہے جہاں پر بیشتر اشیاء کی پیداوار بڑے پیمانے پر کی جاتی ہے اور بڑے پیمانے پر دیگر ممالک کو برآمدکر کے زرمبادلہ کمایا جاتا ہے۔