گوادر کے بنیادی مسائل کے حل کیلئے حکومت بلوچستان کی سنجیدہ کوششیں!

| وقتِ اشاعت :  


بلوچستان اور ملک کے معاشی مستقبل گوادر میں بنیادی سہولیات کے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے حکومت بلوچستان کی جانب سے سنجیدہ اقدامات اٹھائے جارہے ہیں خاص کر گوادر میں پانی کا مسئلہ بہت دیرینہ ہے جہاں قلت آب کی وجہ سے لوگ شدید پریشان ہیں اورٹینکرز سے مہنگی قیمت پر پانی خرید کر اپنی ضروریات پوری کرنے پر مجبور ہیں۔



وزیراعلیٰ بلوچستان کا سوشل میڈیا پر منفی رجحان کے تدارک کیلئے سخت ایکشن کا فیصلہ!

| وقتِ اشاعت :  


دور حاضر میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم اظہار رائے، مکالمے، تشہیر کا ذریعہ بنا ہے جہاں ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد اپنی رائے کا کھل کر اظہار کرتے ہیں جس میں مثبت اور منفی دونوں پہلو موجود ہوتے ہیں۔ اگر اخلاق کے دائرے میں رہ کر کسی سے اختلاف رکھا جائے تو یہ ایک اچھی بات ہے مگر بدقسمتی سے سوشل میڈیا کا غلط استعمال اب بہت زیادہ ہوتا جارہا ہے جس میں نفرت انگیزی، انتشار، شخصیات کی پگڑی اچھالنا شامل ہے ۔



ملک میں سیلاب کی تباہی، عالمی امداد کی فوری اپیل ناگزیر!

| وقتِ اشاعت :  


ملک میں سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے، خیبرپختونخواہ، پنجاب، گلگت بلتستان سب سے زیادہ متاثر ہیں، جانی و مالی نقصانات بڑے پیمانے پر ہوئے ہیں جبکہ سندھ بھی متاثر ہے مگر پنجاب اور کے پی میں زیادہ نقصانات ہوئے ہیں ،ایک ہنگامی صورتحال ہے لوگوں کے مکانات منہدم ہوئے ہیں ،فصلیں تباہ ہوئیں، انفراسٹرکچر بری طرح متاثر ہوا ہے، ایسے حالات میں عالمی مدد انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ نقصانات نہ ہوں، متاثرین کی بحالی کیلئے جنگی اقدامات کی ضرورت ہے۔



ملک میں سیلاب کے اثرات، نقصانات کے ازالہ کیلئے عالمی سطح پر امداد کی ضرورت!

| وقتِ اشاعت :  


ملک کو سیلاب جیسی خطرناک صورتحال کا سامنا ہے جس سے کافی جانی و مالی نقصانات ہورہے ہیں۔ شدید بارشوں اور سیلاب سے شہری اور دیہی علاقوں میں تباہی ہوئی ہے ،مکانات منہدم ہوئے ہیں، لوگ بے گھر ہو ئے ہیں، انفراسٹرکچر تباہ ہوکر رہ گیا ہے، فصلیں متاثر ہوئی ہیں، ان تباہ کاریوں کے… Read more »



پاک چین 4 ارب ڈالر کی زرعی مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط، زراعت کے شعبے میں بہتری کے امکانات!

| وقتِ اشاعت :  


پاکستان ایک زرعی ملک ہے، اس کی سماجی واقتصادی ترقی کا دارومدار زراعت پر ہے۔ ملکی شرح نمو میں زراعت کا حصہ تقریباً اکیس فیصد ہے اور پنتالیس فیصد سے زائد لوگوں کا روزگار بھی اسی شعبہ سے وابستہ ہے۔