مہنگائی کی اونچی شرح ، غربت میں مزید اضافہ !

| وقتِ اشاعت :  


ملک میں اس وقت سب سے بڑا مسئلہ عوام کو درپیش مہنگائی ہے جس کے حوالے سے کوئی واضح پالیسی فی الحال دکھائی نہیں دے رہی جبکہ آئی ایم ایف کی جانب سے شرائط پہ شرائط لاگو کئے جارہے ہیں اور ان پر فوری عملدرآمد بھی ہورہا ہے جس کی وجہ سے مہنگائی میں روز افزوں اضافہ ہورہا ہے اور خط غربت سے نیچے جانے والوں کی تعداد بھی روز بروز بڑھتی جارہی ہے مگر آئی ایم ایف کی قسط جاری نہیں ہورہی ۔ چین سے رقم مل چکی ہے مزید رقم ملنے کی توقع اور امید چین ہی سے ہے جبکہ دیگر دوست ممالک نے فی الحال کسی طرح کی یقین دہانی نہیںکرائی ہے ۔



حکومت بلوچستان کا گوادرکی ترقی کیلئے عملی اقدامات، غیرقانونی ٹرالنگ کامسئلہ بھی حل کیاجائے!

| وقتِ اشاعت :  


بلوچستان کے سب سے اہم خطے گوادر کے مسائل کے حل کے لیے مقامی لوگ سراپااحتجاج ہیں جس میں خاص کر سرحد ی تجارت، پینے کی پانی کی قلت، شاہراہیں، صحت، تعلیم سمیت ماہی گیروں کے مسائل سرفہرست ہیں۔ گوادر میں غیرقانونی ٹرالنگ کی وجہ سے ماہی گیرگزشتہ کئی عرصے سے پریشان ہیں ان کامعاشی قتل ہورہا ہے کیونکہ گوادر کے بیشتر لوگوں کا ذریعہ معاش ماہی گیری سے جڑا ہوا ہے مگر ایک مافیا تواتر کے ساتھ سمندر میں غیر قانونی ٹرالنگ کرکے نایاب آبی حیات کی نہ صرف نسل کشی کررہا ہے ہیں۔



نوازشریف کی وطن واپسی، چیلنجز کا سامنا کس طرح کرینگے؟

| وقتِ اشاعت :  


مسلم لیگ ن کے سربراہ سابق وزیراعظم میاں محمدنواز شریف کی ایک بار پھر وطن واپسی کا عندیہ ن لیگ کی قیادت نے دیا ہے، میاں محمد نواز شریف رمضان المبارک سے چند روز قبل یا پھر پہلے عشرے کے درمیان ہی ملک واپس آئینگے۔



مہنگائی کی اونچی شرح ، غربت میں مزید اضافہ !

| وقتِ اشاعت :  


ملک میں اس وقت سب سے بڑا مسئلہ عوام کو درپیش مہنگائی ہے جس کے حوالے سے کوئی واضح پالیسی فی الحال دکھائی نہیں دے رہی جبکہ آئی ایم ایف کی جانب سے شرائط پہ شرائط لاگو کئے جارہے ہیں اور ان پر فوری عملدرآمد بھی ہورہا ہے جس کی وجہ سے مہنگائی میں روز افزوں اضافہ ہورہا ہے اور خط غربت سے نیچے جانے والوں کی تعداد بھی روز بروز بڑھتی جارہی ہے مگر آئی ایم ایف کی قسط جاری نہیں ہورہی ۔ چین سے رقم مل چکی ہے مزید رقم ملنے کی توقع اور امید چین ہی سے ہے جبکہ دیگر دوست ممالک نے فی الحال کسی طرح کی یقین دہانی نہیںکرائی ہے ۔



ملک میں انتخابات کامسئلہ، سیاسی عدم استحکام، اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا!

| وقتِ اشاعت :  


ملک میں عام انتخابات ایک ساتھ ہونگے یا پھر پنجاب اور کے پی میں پہلے اور پھر بعد میں دیگرانتخابات کئے جائینگے، اس وقت یہ ایک بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے ، خاص کر پنجاب میںہونے والے انتخابات کی اہمیت زیادہ ہے کیونکہ جو جماعت بھاری اکثریت سے پنجاب سے کامیاب ہوگی وہ مرکز میں بآسانی حکومت بناسکے گی۔ وفاقی حکومت کے نمائندگان کی جانب سے بارہا یہ کہاجارہا ہے کہ ملک بھر میں انتخابات ایک ساتھ ہونے چاہئیں جس میں یہ جواز پیش کیاجارہا ہے کہ وسائل کی کمی کی وجہ سے الگ الگ انتخابات کرانے سے حکومت پر معاشی بوجھ آئے گا کیونکہ اس وقت معاشی حالات بہتر نہیں ہیں۔ بہرحال عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے بعد الیکشن کمیشن نے تاریخ دیدی ہے مگر پھر بھی ماحول بنتادکھائی نہیں دے رہا۔



ثاقب نثارکی تاریخ، حالیہ بیانات، کتاب سے کیابرآمدہوگا؟

| وقتِ اشاعت :  


سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی اچانک میڈیا کی زینت بننا حیران کن ہے اور اس سے بڑھ کر تعجب یہ ہے کہ ثاقب نثار نے گزشتہ روز نجی ٹی وی کے سینئر صحافی سے گفتگوکرتے ہوئے عمران خان، سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل (ر) فیض، سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ اور نواز شریف کاتذکرہ کیا ۔اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ ثاقب نثار کی تاریخ ان سے جڑی ہوئی ہے انہوں نے جو فیصلے اپنے دور میں کیے اور ان کا جھکاؤ جس طرف رہا، جو رویہ وہ ججز، آفیسران، سیاستدانوں کے ساتھ رکھتے تھے انتہائی نامناسب تھا وہ ایک بھرم کے ذریعے اپنا رعب اوردبدبہ چاہتے تھے ۔ثاقب نثار کامعیار کچھ الگ ہی تھا من پسند حلقوں کے سیاستدانوں اور ججز کے ساتھ ان کا رویہ الگ جبکہ مخالفین کے خلاف آخری حد تک جاتے تھے، یہاں تک کہ ایک صوبائی وزیر جو اسپتال میں زیرعلاج تھے وہاں جہاں کر چھاپہ مارا اور مبینہ طور پر شراب کی بوتل برآمد کی۔



عمران خان قانون سے بالاترکیوں؟

| وقتِ اشاعت :  


اسلام آبادکی عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے توشہ خانہ کیس میں جاری ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کی منسوخی کی درخواست کو مسترد کردیا۔تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے وکلاء نے اسلام آباد کی سیشن عدالت سے جاری ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کی منسوخی کے لیے عدالت میں درخواست دائر کی تھی۔اسلام آباد کی عدالت نے عمران خان کی جانب سے دائر درخواست پر فیصلہ محفوظ کیا جو کچھ دیر بعد سناتے ہوئے درخواست کو خارج کردیاگیا۔



تخت پنجاب کی جنگ، وفاق پرحکومت کس کی بنے گی؟

| وقتِ اشاعت :  


ملک میں انتخابات کے حوالے سے تقریباََ تمام سیاسی جماعتیں آئین کے مطابق متفق دکھائی دیتی ہیں کہ آئین کی پاسداری ضروری ہے اس کے بغیر ملک نہیں چل سکتا ہے اور تمام سیاسی جماعتوں کی جانب سے یہی باتیں کی جارہی ہیں کہ وہ الیکشن لڑنے کے لیے تیار ہیں۔ اس وقت ملک میں بہت سارے چیلنجز نے سراٹھالیا ہے اور وفاقی حکومت شدید تنقید کی زد میں ہے کہ گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران ملکی معیشت میں کوئی بہتری نہیں آئی ہے اور نہ ہی کوئی واضح پالیسی دکھائی دے رہی ہے جس سے حالات کے مطابق تجزیہ کیاجائے کہ آئندہ چند ماہ کے دوران حالات بہتری کی طرف جائینگے بلکہ خود سیاسی جماعتیں یہ باتیں کہہ رہی ہیں کہ معاشی حالات الیکشن کے بعد بننے والی حکومت کے لیے بھی ایک چیلنج کے طور پر سامنے ہوگی ۔



آئی ایم ایف کے شرائط، حکومت کی مشکلات!

| وقتِ اشاعت :  


پاکستان کی جانب سے آئی ایم ایف سے قسط کے حصول کے لیے تمام تر شرائط ماننے کے باوجود قسط کا اجراء تاحال نہیں ہوسکا ہے، وزیرخزانہ کی جانب سے یہ بتایاجاتا ہے کہ اگلے ہفتے تک معاملات طے پائے جائینگے مگر ایک ماہ سے زیادہ کا وقت گزرگیا ہے، قسط پاکستان کو نہیں دی گئی ہے جبکہ دوست ممالک کی جانب سے بھی رقم پاکستان کو نہیں دی جارہی ہے ماسوائے چین کے کسی نے بھی رقم نہیں دی۔



پنجاب کے پی انتخابات،پی ٹی آئی کی خوشی سمجھ سے بالاتر،کس کامؤقف درست!

| وقتِ اشاعت :  


پنجاب اور کے پی میں عام انتخابات کی تاریخ پر بلآخر سپریم کورٹ کافیصلہ آگیا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کو دونوں فریقین اپنی جیت قرار دے رہے ہیں، پی ٹی آئی کی جانب سے یہ بتایاجارہا ہے کہ پانچ رکنی بنچ کامتفقہ فیصلہ یہی ہے کہ 90دنوں کے اندر انتخابات ہونے چاہئیں جو ہمارے مؤقف کی تائیدہے جبکہ حکومتی جماعت خاص کر ن لیگ کی جانب سے اسے اپنی جیت قرار دی جارہی ہے کہ سات رکنی بنچ میں سے چار نے ہمارے مؤقف کی تائید کی ہے اس لیے یہ فیصلہ چار تین سے ہمارے حق میں آیا ہے۔چیئرمین پی ٹی آئی نے اپنی جیل بھرو تحریک کی کال بھی واپس لے لی اور الیکشن مہم جلد چلانے کااعلان کردیا ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پورے فیصلے کے متن کو پڑھاجائے تو بات وہیں آکر رک جاتی ہے کہ انتخابات الیکشن کمیشن نے ہی کرانے ہیں اور وفاق کی معاونت بھی اس میں ہوگی۔ پنجاب میں انتخابات کے لیے صدرمملکت اور الیکشن کمیشن کی مشاورت سے تاریخ طے کی جائے گی۔