|

وقتِ اشاعت :   March 12 – 2023

بلوچستان کے سب سے اہم خطے گوادر کے مسائل کے حل کے لیے مقامی لوگ سراپااحتجاج ہیں جس میں خاص کر سرحد ی تجارت، پینے کی پانی کی قلت، شاہراہیں، صحت، تعلیم سمیت ماہی گیروں کے مسائل سرفہرست ہیں۔ گوادر میں غیرقانونی ٹرالنگ کی وجہ سے ماہی گیرگزشتہ کئی عرصے سے پریشان ہیں ان کامعاشی قتل ہورہا ہے کیونکہ گوادر کے بیشتر لوگوں کا ذریعہ معاش ماہی گیری سے جڑا ہوا ہے مگر ایک مافیا تواتر کے ساتھ سمندر میں غیر قانونی ٹرالنگ کرکے نایاب آبی حیات کی نہ صرف نسل کشی کررہا ہے ہیں۔

بلکہ بڑے پیمانے پر نایاب آب حیات کو ٹرالنگ کے ذریعے شکار کرکے لے جاتے ہیں جس سے ماہی گیروں کے روزگار پر اثر پڑرہا ہے حکومت کی جانب سے بارہا اس مسئلے کو حل کرانے کی یقین دہانی کرائی جاچکی ہے مگر اب تک یہ سلسلہ رکا نہیں ہے بلکہ جاری ہے اس کے تدارک کے لیے اقدامات انتہائی ضروری ہیں کیونکہ یہ گوادر کے لوگوں کا دیرینہ اور اہم مطالبہ ہے اسے حل کیا جانا ضروری ہے کیونکہ گوادر میں اس وقت جو احتجاجی مظاہرے ہورہے ہیں لوگ سڑکوں پر نکل رہے ہیں وہ پھر سڑکوں کا رخ یا پھر احتجاج کاراستہ اپنانے کی بجائے اپنے روزگار کی طرف توجہ دینگے کیونکہ جب کسی کے روزگار پر ڈاکہ ڈالاجاتا ہے جن کے چولہے ٹھنڈے پڑجاتے ہیں تو وہ بہ امر مجبوری احتجاج کے لیے نکلتے ہیں اس لیے اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے اسے حل کرناضروری ہے۔

بہرحال گوادر کے حوالے سے وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو نے بہت اچھی خوشخبری سنائی ہے بہت سے بنیادی مسائل حل کرنے کے لیے منصوبہ بنایا جاچکا ہے اور بعض ترقیاتی پروگرام جلد مکمل ہوجائینگے جس سے گوادر کے لوگوں کے بہت سے بنیادی مسائل حل ہوجائینگے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت ضلع گوادر میں تعلیمی نظام، صحت کے بنیادی ڈھانچے، شاہراہوں کے رابطوں، ماہی گیری، پانی اور بجلی کو بہتر بنانے کے لیے ”ترقیاتی پیکیج”کے تحت عمل درآمد کررہی ہے، گوادر میں مختلف علاقوں سے آئے ہوئے لوگوں سے ملاقات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ضلع گوادر میں حکومت لوگوں کو صحت کے شعبے میں بہتری لانے اور لوگوں کو صحت عامہ کی سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کرنے کے لیے مختلف منصوبوں پر عملدرآمد کررہی ہے جبکہ جی ڈی اے ہسپتال کو باقاعدہ انڈس ہسپتال کے سپرد کردیا گیا ہے ۔

جو صحت کے شعبے میں نئے باب کا اضافہ ہے۔ انڈس ہسپتال ملک میں سماجی خدمت اور صحت کے شعبے میں اعلیٰ و معیاری نام و مقام کا حامل ہے اب انڈس ہسپتال کراچی کی طرح تمام اعلیٰ و معیاری اور جدید علاج معالجہ کی سہولیات جی ڈی ہسپتال گوادر میں مفت دستیاب ہیں۔علاج معالجہ کا یہ ادارہ بلوچستان میں اپنی نوعیت کا پہلا اور واحد ہسپتال ہے جہاں کراچی کے بہترین ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف جدید طبی آلات کے ساتھ شب و روز خدمت کے لیے موجود ہیں جبکہ ضلعی ہیڈکوارٹر ہسپتال میر عبدالغفور کلمتی گورنمنٹ ٹیچنگ ہسپتال کی نئی عمارت پر بھی کام تیزی سے جاری ہے۔

اومانی گرنٹ اسپتال پسنی کی عمارت مکمل ہوتے ہی وہاں پر ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف بھی تعینات ہوگئے ہیں اور باقاعدہ لوگوں کو صحت عامہ کی فراہمی کے لیے او پی ڈی شروع ہوگئی ہے جو پسنی کے لوگوں کا ایک دیرینہ مطالبہ تھا۔ ترقیاتی پیکج کے تحت طلبا ء کے لیے کلاس رومز کی تعمیر اور مرمت کے لیے 700 ملین روپے،پشکان میں بوائز انٹرمیڈیٹ کالج کی تعمیر کے لیے 10 ملین،کثیر المقاصد ہالز اور لائبریریوں کی تعمیر کے لیے 140 ملین روپے،گوادر میں صحت کی سہولتوں کے نظام میں بنیادی صحت کے یونٹس اور علاقائی مراکز صحت کو بہتر بنانے کے لیے 365 ملین،پینے کے صاف پانی کی دستیابی اور پانی کی لائنوں، واٹر سپلائی سکیموں اور پانی کی ٹینکیوں کے لیے 380 ملین روپے، نئے کھیل کے میدانوں کی تعمیر اور ان کی دیکھ بھال کے لیے 75 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں ۔

علاوہ ازیں فشریز سیٹ اپ کو اپ گریڈ کرنے کے لیے صوبائی حکومت اورماڑہ اور جیونی میں دو فش ہاربرز بھی تیار کر رہی ہے،شاہراہوں کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کی مد میں مکران کوسٹل ہائی وے سے گوادر کے متعدد دیہات تک منسلک شاہراہوں کی تعمیر کے لیے 900 ملین روپے،ایم 8 سے دیہات تک شاہراہوں کو جوڑنے کے لیے 700 ملین،کوسٹل ہائی وے اور کنڈا سول کے درمیان شاہراہ کے لیے 155 ملین،ڈگرو ناگور اور آدم بازار کے درمیان سڑک کے لیے 75 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔رکن صوبائی اسمبلی میر حمل کلمتی نے کہا کہ حکومت صرف گوادر شہر کے لیے 250 ملین روپے خرچ کر رہی ہے۔

حکومت بلوچستان کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات انتہائی خوش آئندہیں اس سے گوادر میں بہت بڑی تبدیلی آئے گی خاص کر صحت، تعلیم،پانی، شاہراہ سمیت دیگر مسائل حل ہونے کے بعد گوادر کا نقشہ بدل جائے گا جس کا سہرا موجودہ حکومت کے سرجائے گا۔ بہرحال غیر قانونی ٹرالنگ کو روکنا ضروری ہے اس مسئلے کے حل کے لیے بھی حکومت اقدامات اٹھائے تو گوادر کے عوام سکون کا سانس لینگے اور جو احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے وہ ختم ہوجائے گا۔ گوادر بلوچستان کا اہم خطہ ہے اور مستقبل میں معاشی حوالے سے بہت بڑے گیم چینجر کے طورپر سامنے آئے گاجس سے بلوچستان اور ملک میں خوشحالی اور ترقی کے نئے دور کا آغاز ہوجائے گا۔