پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات کے حوالے سے سیکیورٹی اداروں نے پہلے سے ہی الرٹ جاری کررکھا ہے خاص کر خیبرپختونخواہ میں گزشتہ کئی ماہ سے دہشت گردی کے خطرات منڈلارہے ہیں،۔سیاسی قائدین کو کالعدم تنظیموں کی جانب سے دھمکیاں بھی ملی ہیں بہرحال دہشت گردی کامعاملہ بڑا سنگین ہے جس سے نمٹنا انتہائی ضروری ہے۔
گوادر میں دھرنے پر تشدد کے بعد دفعہ 144نافذ کردیا گیا ہے۔ بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پکڑدھکڑ ،گرفتاریاں، تشدد، پابندیاں مسئلے کا حل ہیں اور یہ دیرپا ثابت ہوسکتاہے؟ یقینا نہیں کیونکہ بلوچستان میںجب بھی کسی مسئلے کے حل کے لیے طاقت کا استعمال کیا گیا تو اس کا نتیجہ آج ہمارے سامنے ہے۔
ملک میں اس وقت غذائی اجناس سمیت دیگر ضروری اشیاء کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں مگر ساتھ ہی بحران اور قلت کا مسئلہ بھی درپیش ہے خاص کر گندم تو بالکل ہی ناپیدہوکر رہ گیا تھا مگر اب حالات معمول پر آنا شروع ہوگئے ہیں ۔چند دن قبل آٹے کی قیمت بڑھنے پر نان بائیوں نے روٹی کی وزن کم کردی اور قیمتیں بھی بڑھادیں جس کاکوئی نوٹس نہیں لیا گیا۔ ملک بھر میں ویسے بھی پرائس کنٹرول کمیٹیاں مکمل غیرفعال ہیں اسی طرح جیسے سابقہ دور میں مہنگائی کا طوفان آیا تھا تو پرائس کنٹرول کمیٹیوں کو متحرک کرنے کی بجائے ٹائیگرز فورس بنائی گئی۔
ملک کے دو صوبوں کی اسمبلیاں تحلیل ہونے کے بعد انکشافات سامنے آنے لگی ہیں، ق لیگ بالکل ہی تیار نہیں تھی کہ پنجاب اسمبلی کو تحلیل کیاجائے جبکہ پی ٹی آئی کے بعض ارکان بھی اس فیصلے سے خوش نہیں تھے مگر عمران خان کی ضد کی بھینٹ دونوں اسمبلیاں چڑھ گئیں، عمران خان اپنے آگے کسی بھی کو دیکھنا نہیں چاہتے تو ان کی رائے کو کیسے اہمیت دینگے۔ بہرحال گزشتہ روز سابق وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی نے فواد چوہدری کی گرفتاری پر افسوس کی بجائے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسے پہلے کیوں گرفتار نہیں کیا گیا اگر پہلے یہ کام ہوجاتا تو پنجاب اسمبلی تحلیل نہ ہوتی۔ ایک تو پرویز الہٰی نے عوامی اجتماع کے دوران اس بات کا برملا اظہار کیا ۔
حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بات چیت ڈیڈلاک کا شکار کیوں ہے، ملک مسائل سے دوچار ہے ، سیاسی عدم استحکام اورمعاشی بحران کے باوجود بھی بات چیت نہیں کی جارہی،پی ٹی آئی تو جب سے حکومت میں آئی ہے اس دن سے وہ خاص کر مسلم لیگ ن، پیپلزپارٹی، جمعیت علمائے اسلام کے ساتھ بیٹھنے کے لیے تیار نہیں۔عمران خان جب وزیراعظم تھے تب بھی وہ یہی بات دہراتے تھے کہ چور اور ڈاکوؤں کے ساتھ بیٹھ کر مذاکرات کرنے کا مقصد این آراوٹو دینا ہے۔
ملک میں سیاسی کشیدگی بدستور جاری ہے، حکومت اوراپوزیشن کے درمیان نگراں حکومت اور دیگر معاملات پر بات بنتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ پنجاب کے نگراں وزیراعلیٰ محسن نقوی پر عمران خان نے الزامات کی بھرمار شروع کردی ہے،سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک جب لائی جارہی تھی تو اس دوران سب نے دیکھا کہ عمران خان نے کس طرح اسے ایک بیرونی سازش قرار دیا۔
ملک کے حقیقی مسائل سے آنکھیں چراکر کوئی بھی جماعت اپنے پنجے عوام میں نہیں گاڑسکتی۔یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہئے کہ موجودہ حالات میں عوام، تاجر کوئی بھی مطمئن نہیں۔ اس وقت مختلف افواہیں بازگشت کررہی ہیں کہ ملک میں غذائی اجناس سمیت دیگر ضروریات کی چیزوں کا بحران سراٹھانے والا ہے۔
نیشنل گرڈ میں خرابی کی وجہ سے کراچی، لاہور،کوئٹہ اور اسلام آباد سمیت ملک کا بیشتر حصہ بجلی سے محروم ہوگیا، بجلی کی فراہمی صبح ساڑھے 7 بجے کے قریب معطل ہوئی، ملک کے بیشتر علاقوں میں 90 فیصد حصہ بجلی سے محروم ہے۔ بریک ڈائون کے باعث پانی کی فراہمی بھی متاثر ہوگئی ۔
ملک کی موجودہ معاشی وسیاسی صورتحال نے سب کو پریشان کرکے رکھ دیا ہے ، نہ سیاسی سمت درست طرف جارہی ہے اور نہ ہی معاشی سمت کو بہترکرنے کے حوالے سے واضح پالیسی نظر آرہی ہے البتہ حکومت کی جانب سے قرضوں کی جلد آمد کی توقع اور روس سے حالیہ معاہدے سے توانائی بحران کی نوید سناتے ہوئے آئندہ آنے والے دنوں میں بہتری کا دعویٰ کیاجارہا ہے۔
بلوچستان میں تعلیم کامسئلہ دیرینہ ہے اسکولز ، کالجزاوریونیورسٹیز بہت سارے مسائل کا شکار ہیں جن کی بہتری کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے کیونکہ تعلیم واحد ذریعہ ہے جس سے قوموں کی تقدیر بدلتی ہے اور وہ ترقی کے منازل طے کرتی ہیں بلوچستان کی پسماندگی کی ایک بڑی وجہ تعلیمی اداروں کی زبوں حالی ،مالی مشکلات جیسے اہم مسائل ہیں بلوچستان کے نوجوانوں کی بڑی تعداد صوبے سے باہر اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے جاتے ہیں غریب والدین تمام تر مالی مسائل کے باوجود کوشش کرتے ہیں کہ ان کے بچے اعلیٰ تعلیم حاصل کریں مگر گزشتہ چند برسوں کے دوران یہ دیکھنے کو ملا ہے کہ بلوچستان میں یونیورسٹیز اور کالجز پر خصوصی توجہ دی گئی ہے جس کے نتیجے میں اب بیشتر اسٹوڈنٹس اپنے صوبے کے اندر ہی تعلیم حاصل کررہے ہیں، اس سے ان کو مالی حوالے سے بہت سارے مسائل سے چھٹکارا مل چکا ہے مگر ابھی بھی ایک گھمبیر اور دیرینہ مسئلہ اپنی جگہ موجود ہے وہ اسکولز ہیں جو تعلیم حاصل کرنے کی پہلی سیڑھی اور بنیاد ہیں بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں اسکول خستہ حالی کا شکار ہیں، اساتذہ کی کمی ہے۔