کوئٹہ: جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کے امیر مولانا عبد الرحمن رفیق، سیکرٹری جنرل حاجی عین اللہ شمس، سینئر نائب امیر مولانا خورشید احمد ، مولانا محب اللہ ، مولانا محمد ایوب، مولانا محمد سلیمان ، ڈپٹی سیکرٹری جنرل حاجی بشیر احمد کاکڑ ، حاجی رحمت اللہ کاکڑ ، سید حاجی عبد الواحد آغا ، حافظ مسعود احمد،حاجی ولی محمد بڑیچ ،سیکرٹری مالیات حاجی صالح محمد ، مفتی رضا خان ،رحیم الدین ایڈووکیٹ ، مولانا محمد عارف شمشیر،سالار مولوی علی جان مولوی سعد اللہ آغا اور دیگر ذمہ داران نے کوئٹہ شہر اور گرد و نواح میں انٹرنیٹ سروس کی بارہا بندش پر شدید تشویش اور غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیکورٹی کے نام پر عوام کو بنیادی سہولت سے محروم کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔
اسلام آباد: کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز(سی پی این ای) کی اسلام آبادراولپنڈی کمیٹی نے اپنے اجلاس میں ملک میں آزادی صحافت اور حقِ اظہارِ رائے کی مجموعی صورتِ حال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کمیٹی نے خصوصا پیکا ایکٹ کے منفی اثرات، اظہارِ رائے پر قدغنوں اور پرنٹ میڈیا کو درپیش بڑھتی پابندیوں کی سخت مذمت کی۔
اسلام آباد: سینیٹ کی پٹرولیم کمیٹی نے ریکوڈک منصوبے کا انتظامی کنٹرول رکھنے والی بیرک گولڈ کمپنی کے حکام کو اگلے اجلاس میں طلب کر لیا،کمیٹی نے جامشورو جائیٹ وینچر معاہدے میں 5سالوں کی تاخیر پر تفصیلی بریفنگ دینے کی ہدایت کی ہے۔
رپورٹ میں اضلاع کو مالی وسائل کی براہ راست منتقلی کی فوری ضرورت پر زور دیا گیا ہے کہ صوبائی دارالحکومتوں کا وسائل پر مضبوط کنٹرول آبادی کے ایک بڑے حصے کی پسماندگی بڑھا رہا ہے۔
کوئٹہ:وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے منگل کے روز لیڈر آف اپوزیشن میر یونس عزیز زہری، اراکین صوبائی اسمبلی انجینیئر زمرک خان اچکزئی، سید ظفر آغا، حاجی طور خان اتمانخیل اور بلوچستان بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ کے وائس چیئرمین بلال خان کاکڑ نے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔ ملاقاتوں میں صوبے کی سیاسی صورتحال، جاری ترقیاتی منصوبوں، عوامی فلاح و بہبود اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اس موقع پر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت شفاف طرزِ حکمرانی، بہتر سروس ڈیلیوری اور عوامی مسائل کے حل کے لیے ہمہ وقت سرگرم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اراکین اسمبلی عوام کے حقیقی نمائندے ہیں
بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی ترجمان نے بلوچستان بھر، خصوصاً دارالحکومت شالکوٹ میں جاری مسلسل انٹرنیٹ بندش، ہاسٹلز میں بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی اور حکومتی نااہلی پر شدید تشویش اور غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اکیسویں صدی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے دور میں بلوچستان کے طلبہ کو انٹرنیٹ جیسی بنیادی ضرورت سے محروم رکھنا ایک افسوسناک اور قابلِ مذمت عمل ہے۔ تعلیم کے دروازے بند کرنا ترقی نہیں بلکہ پسماندگی کو مزید گہرا کرنے کے مترادف ہے۔
کوئٹہ : بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن شال زون کے ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ حکومتِ بلوچستان تعلیمی اداروں، خصوصاً گرلز کالجز اور یونیورسٹیوں میں ماحول کو پراگندہ کرنے کے لیے طاقت اور انتظامی اختیارات کا استعمال کر رہی ہے۔ ترجمان کے مطابق حکومت بلوچستان کی حقیقی سیاست کے خلاف ’’فتح‘‘ کے نعرے لگا کر نمائشی اقدامات کر رہی ہے، جبکہ بہتر یہ ہے کہ وہ عوامی سیاست کا رخ کرے اور سیاسی میدان میں مقابلہ کرے، شاید یوں ان کی مصنوعی سیاست کچھ دیر اور چھپ سکے۔