|

وقتِ اشاعت :   October 9 – 2019

اسلام آباد :  صدر مملکت عارف علوی نے سی پیک اتھارٹی آرڈیننس پر دستخط کردیئے، سی پیک اتھارٹی آرڈیننس کا اطلاق پورے پاکستان میں ہوگا اور وزیراعظم عمران خان اتھارٹی کے سربراہ ہوں گے۔

تفصیلات کے مطابق صدر مملکت عارف علوی نے سی پیک اتھارٹی آرڈیننس پر دستخط کردیئے، جس کے تحت وزیراعظم عمران خان سی پیک اتھارٹی کے سربراہ ہوں گے اور سی پیک اتھارٹی آرڈیننس کا اطلاق پورے پاکستان میں ہوگا۔گذشتہ روز حکومت نے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے سی پیک اتھارٹی قائم کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے سی پیک اتھارٹی کا مسودہ منظوری کیلئے صدر پاکستان کو بھجوا دیا تھا۔مسودے میں کہا گیا کہ قومی اسمبلی،سینیٹ اجلاس نہ ہونے پرآرڈیننس لانیکافیصلہ کیا گیا۔

سی پیک اتھارٹی کیلئے آرڈیننس کا اطلاق پورے پاکستان میں ہو گا، سی پیک اتھارٹی 10 ارکان پر مشتمل ہوگی۔مسودے کے مطابق وزیراعظم اتھارٹی چیئرپرسن،ایگزیکٹوڈائریکٹرز،ارکان کی تعیناتی کریں گے، چیئر پرسن، ایگزیکٹو ڈائریکٹرز اور ارکان کی تعیناتی چار سال کیلئے ہوگی، اتھارٹی کا چیف ایگزیکٹو 20 گریڈ کا سرکاری آفسر ہو گا۔مسودہ میں کہا گیا کہ سی پیک اتھارٹی کا دفتروفاقی دارالحکومت میں بنایا جائے گا اور اتھارٹی پاکستان، چین میں مختلف شعبوں میں مزید تعاون کا تعین کریگی اور جوائنٹ کوآپریشن، جوائنٹ ورکنگ گروپ میں رابطے کا کردار ادا کرے گا۔

مسودے کے مطابق اتھارٹی سی پیک منصوبوں سے صوبوں اور وزارتوں میں رابطے رکھے گا، سی پیک کوئی بھی فیصلہ اتھارٹی کے اکثریتی ارکان کی منظوری سے ہوگا اور سی پیک منصوبوں سے مستفید ہونیوالا کوئی بھی اتھارٹی کاحصہ نہیں ہوگا۔مسودے میں کہا تھا سی پیک اتھارٹی پاکستان، چین میں مفاہمتی یادداشتوں کے مطابق کام کرے گی اور ہر سال اپنی فنانشل رپورٹ وزیراعظم کو جمع کرائے گی جبکہ اتھارٹی سی پیک سے متعلق کوئی بھی تفصیلات طلب کرنے کی مجاز ہوگی۔

مسودہ کے مطابق سی پیک اتھارٹی کے لیے بجٹ مختص ہو گا، اتھارٹی کو اپنے ماتحت ملازمین کی تقرری کا بھی اختیار حاصل ہو گا، اتھارٹی رولز کے مطابق سی پیک بزنس کونسل قائم کرے گی۔مسودے میں کہا کہ سی پیک بزنس کونسل اتھارٹی کو مقاصد میں رہنمائی فراہم کرے گی، اتھارٹی وزیراعظم کی منظوری سے مزید قوانین بنانے کی مجاز ہوگی اور سی پیک اتھارٹی وزارت منصوبہ بندی کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔

دریں اثناء وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ چین کی اعلیٰ قیادت کو بتایا کہ اب سی پیک اتھارٹی قائم کر دی ہے،سرمایہ کاروں کو پاکستان آنے کی دعوت دی ہے، افغانستان کو بھی سی پیک کا فائدہ پہنچے گا، عام میں جہاں بھی رکاوٹ آئے گی فوری حل کیا جائے گا، سی پیک کے تحت کام کرنے والے چینی باشندوں کی سیکیورٹی ہم پر لازم ہے۔

منگل کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کا چین کا تیسرا دورہ ہے، چین اور پاکستان کے درمیان اعتماد کا مضبوط رشتہ قائم ہے، چین کے ساتھ معاشی تعلقات میں وسعت چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک اہم علاقائی اور عالمی امور پر ایک دوسرے کو اعتماد میں لیتے ہیں، چین میں وزیراعظم عمران خان کا شاندار استقبال کیا گیا، پاکستان میں سرمایہ کاروں کو پر کشش مواقع فراہم کررہے ہیں۔

سی پیک سے پاکستان اور چین سمیت پورا خطہ مستفید ہو گا، اس حوالے سے چینی قیادت کے ساتھ معاشی اور علاقائی صورتحال پر بات چیت ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ چین کی اعلیٰ قیادت کو بتایا کہ اب سی پیک اتھارٹی قائم کرنی ہے،ہم نے سرمایہ کاروں کو پاکستان آنے کی دعوت دی ہے، افغانستان کو بھی سی پیک کا فائدہ پہنچے گا، عام میں جہاں بھی رکاوٹ آئے گی اسے فوری حل کیا جائے گا، سی پیک کے تحت کام کرنے الے چینی باشندوں کی سیکیورٹی ہم پر لازم ہے،چین کو بھرپور سیکیورٹی کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔