|

وقتِ اشاعت :   November 25 – 2019

اکستان میں سابق ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے خلاف آئین توڑنے پر سنگین غداری کے مقدمے کا فیصلہ روکنے کے لیے وفاقی حکومت نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا ہے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ اس مقدمے میں استغاثہ بھی وفاقی حکومت ہے اور وزارت داخلہ کے سیکریٹری شکایت کنندہ ہیں۔

خصوصی عدالت نے وزارت داخلہ کی جانب سے استغاثہ کی ٹیم ہٹائے جانے اور مشرف کے وکیل کے پیش نہ ہونے پر گذشتہ ہفتے فیصلہ محفوظ کیا تھا جو جمعرات کو سنایا جانا ہے۔

پرویز مشرف نے فیصلہ روکنے کے لیے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا جبکہ حکومت نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی ہے۔

مشرف غداری کیس ن لیگ کی حکومت نہ دسمبر 2013 میں شروع کیا تھا۔

غداری کیس کا فیصلہ روکنے کے لئے حکومت نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشرف کو صفائی کا موقع دیا جائے۔

وزارت داخلہ نے دائر درخواست میں کہا ہے کہ پرویز مشرف کو صفائی کا موقع ملنے تک خصوصی عدالت کو کاروائی سے روکا جائے۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ نئی پراسیکیوشن ٹیم تعینات کرنے تک خصوصی عدالت کو کاروائی سے روکا جائے۔

وزارت داخلہ نے استدعا کی ہے کہ خصوصی عدالت کا غداری کیس کا فیصلہ محفوظ کرنے کا حکم نامہ معطل کیا جائے۔