|

وقتِ اشاعت :   December 6 – 2020

امریکی فوج کے ایک اڈے میں دو فوجیوں کی ہلاکتوں کی تفتیش کرنے والے اہکاروں کا کہنا ہے کہ انھیں شک ہے کہ یہ ہلاکتیں شاید کسی کھیل کے دوران ہوئی ہیں۔

ماسٹر سارجنٹ ولیم جے لاویگن دوم اور تیمتھیس ڈوما کی میتیں بدھ کے روز شمالی کیرولینا کے فورٹ بریگ آرمی بیس سے ملی ہیں۔

عہدیداروں نے بتایا کہ ان کی اموات کا تعلق سرکاری تربیت سے نہیں ہے۔

فورٹ بریگ دنیا کے سب سے بڑے فوجی کمپلیکسوں میں سے ایک ہے اور یہاں تقریباً 57،000 فعال ڈیوٹی اہلکار رہتے ہیں۔

امریکی فوج کی سپیشل آپریشنز کمانڈ نے بتایا کہ 37 سالہ لیوگین نے افغانستان اور عراق کے متعدد دورے کیے اور 19 سال فوج کے ساتھ گزارے ہیں۔

پینٹاگون میں فوج کے ایک ترجمان نے ملٹری اخبار سٹارز اور سٹرپس کو بتایا کہ 44 سالہ ڈوماس نے نومبر 1996 سے مارچ 2016 تک خدمات انجام دیں۔

ان فوجیوں کی لاشیں اڈے کے ایک تربیتی علاقے سے ملی ہیں۔

ان دونوں فوجیوں کی ہلاکت ایک ایسے وقت سامنے آئی ہے جب تفتیش کار فوج کے پیرا ٹروپر اینریک رومن مارٹنیز کی ہلاکت کی تفتیش کر رہے ہیں

فوج کے ایک اہلکار نے امریکی میڈیا کو بتایا کہ جائے وقوعہ پر کوئی ہتھیار نہیں ملا ہے۔

امریکی فوج کی فوجداری تفتیشی کمانڈ ان دونوں فوجیوں کی ہلاکت کی تحقیقات کر رہی ہے۔

ان دونوں فوجیوں کی ہلاکت ایک ایسے وقت سامنے آئی ہے جب تفتیش کار فوج کے پیرا ٹروپر اینریک رومن مارٹنیز کی ہلاکت کی تفتیش کر رہے ہیں۔

رومن مارٹنیز مئی میں فورٹ بریگ سے سات ساتھی فوجیوں کے ساتھ کیمپنگ ٹرپ کے دوران لاپتہ ہوگئے تھے۔ ان کے جسم کے اعضا کچھ دن بعد ساحل سے ملے تھے۔