|

وقتِ اشاعت :   February 19 – 2021

اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے سیفران کا اجلاس چیئرمین ساجد خان کی زیر صدارت ہوا جس میں جنوبی وزیرستان سے کے بد امنی کے دوران افغانستان ہجرت کرنے والوں کو واپس لانے کیلئے اقدامات امورزیر غور کیا گیا۔ پی ڈی ایم حکام نے کہاکہ مہاجرین کو واپس لانے کیلئے اسٹیک ہولڈرز کیساتھ 2018کے بعد سے کوئی اجلاس نہیں ہوا۔

حکام دفتر خارجہ نے کہاکہ ماجرین کی واپسی کیلئے ضروری دستاویزات کی تیاری کیلئے دفتر خارجہ کردار ادا کرتا ہے،یو این ایچ سی آر کے اعدادوشمار کے مطابق 2019میں 72ہزار مہاجرین واپس آئے،اسٹیک ہولڈرز کی کلیئر ہدایت کے بعد افغان حکومت سے بات کی جائے گی۔ سیکرٹری سیفران نے کہاکہ بکا خیل کے لوگوں کی افغانستان میں بھی زمینیں ہیں،افغانستان میں وہ اپنے آپ کو مہاجر ڈکلیئر کرینگے تو جائیداوں سے محروم ہونا پڑے گا۔

انہوں نے کہاکہ افغانستان میں بلا شبہ مہاجرین کو مشکلات کا سامنا ہے،این ڈی ایم اے کی تیاریاں مکمل ہیں،اصل مسئلہ مہاجرین کی سیکیورٹی کلئرنس کا ہے۔ رکن کمیٹی افضل کھوکھر نے کہاکہ ابھی تک دفتر خارجہ کو وزیراعظم آفس سے ایکشن کیلئے ڈائریکشن نہیں ملی۔ حکام دفتر خارجہ نے کہا کہ کوئی بھی سفارتخانے یا قونصلر سروس حاصل کرنے کا حق رکھتا ہے،جو اپنی شہریت ثابت کر کے واپس آنے میں کوئی مسئلہ نہیں۔

رکن کمیٹی مفتی عبد الشکور نے کہاکہ جنوبی وزیرستان کے کئی واپس آنے والوں کو دستاویزات جمع کرنے کیلئے بہت کم وقت دیا گیا،اب افغانستان سے واپس آنے والوں کو شک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ چیئر مین کمیٹی ساجد خان نے کہاکہ پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کی وجہ سے بہت سارے علاقے افغانستان کے حدود میں چلے گئے،اب ان کے پاس پاکستانی شناختی کارڈ ہونے کے باوجود بھی واپس آنے میں مشکلات ہیں۔

رکن کمیٹی گل ظفر خان نے کہاکہ وائٹ ہاؤس میں جانے سے افغانستان میں پاکستانی قونصلیٹ میں جانا زیادہ مشکل ہے،افغانستان تو دور کی بات باجوڑ کے نادار آفس میں اپنے آپ کو پاکستانی ثابت میں مشکلات ہیں۔ ڈی جی دفتر خارجہ نے کہاکہ افغانستان میں پاکستانی سفارتخانے اور قونصلیٹ کے پاس شورش کے دوران افغانستان جانیوالوں کا ڈیٹا نہیں،یو این ایچ سی آر کی مدد لی جاتی ہے۔

انہوں نے کہاکہ تقریبا 72ہزار مہاجرین افغانستان کی طرف ہجرت کر گئے۔ محسن داوڑ نے کہاکہ مہاجرین کی واپسی کیلئے کوئی اقدامات نظر نہیں آ رہے،وفاقی وزیر خود اس معاملے پر تذبذب کا شکار ہیں،مہاجرین واپس آنا چاہ رہے ہیں مگر دشواری کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہاکہ صورتحال نارمل نہیں،علاقے قریب ہونے کی وجہ سے وہاں گئے۔ سیکرٹری کمیٹی نے کہاکہ واپس لانے کیلئے میکنزم تیار ہے۔

جن لوگوں نے واپس لینے کا فیصلہ کرنا ہے اس کا انتظار ہے،قائمہ کمیٹی نے مہاجرین کی واپسی کیلئے جلد اقدامات کرنے کی سفارش کر دی۔ اجلاس کے دور ان ضرب عضب کے دوران سراگڑھ،جنڈولہ اور ایف آر ٹانک کے 2200متاثرین کو امداد کی عدم فراہمی کا معاملہ زیر بحث آیا۔ مفتی عبد الشکور خان نے کہاکہ ایف آر ٹانک کے متاثرین کے گھروں کو نقصانات کا ازالہ نہیں کیا گیا۔

جندولہ کے منہدم مسجد کی جگہ پارک بنایا گیا ہے۔ این ڈی ایم حکام نے بتایاکہ متاثرین کو امداد کیلئے سروے کیا گیا،کمیٹی نے ضرب عضب کے امداد سے محروم رہنے والے علاقوں کو بھی امداد فراہم کرنے کیلئے سروے کی سفارش کر دی۔ اجلاس کے دور ان فاٹا کے طلبہ کیلئے میڈیکل کالجز میں کوٹے کا معاملہ زیر بحث آیا۔ پی ایم سی حکام نے بتاکہ پی ایم سی نے 265 سے بڑھا کر 506کر دی ہے۔

اس میں سے کتنا کوٹا دیناہے اس کا فیصلہ صوبوں نے کرنا ہے،پی ایم سی کسی صوبے کو کوٹے بڑھانے کا نہیں کہ سکتا۔ چیئر مین کمیٹی نے کہاکہ ایچ ای سی اور پی ایم سی کیا بھلا ہے،قومی اسمبلی اور سینیٹ کی کمیٹیاں مل کر بھی ان دونوں اداروں کو ٹھیک نہ کر سکی۔ ساجد خان نے کہاکہ دو سالوں سے کوٹے کا معاملہ چل رہاہے مگر کوئی حل نہیں ہو ہا،اس کے بعد اب کمیٹی کوئی اجلاس نہیں بلائے گی،پی ایم سی کوٹے پر داخلہ یقینی بنائے۔

سیکرٹری سیفران نے کہا کہ 2029تک فاٹا کے طلبہ کیلئے کوٹہ جاری رہے گا۔ ایچ ای سی حکام نے کہاکہ پی ایم سی نے سیٹیں بڑھائیں ہیں مگر کوٹہ مختص کرنے کا اختیار خود صوبوں پر چھوڑ دیا،اب ایچ ای سی اور صوبے آمنے سامنے ہیں۔ چیئر مین کمیٹی نے کہاکہ اس وقت 265طلبہ فیصلے کے انتظار میں ہیں۔ ساجد خان نے کہاکہ ایچ ای سی اور پی ایم سی نے تماشہ لگایا ہوا ہے۔

رکن کمیٹی محمد اقبال خان نے فاٹا طلبہ کے میڈیکل کوٹے کا مسئلہ حل کرنیپر تاخیر پر اجلاس سے واک آؤٹ کر دیا،ارکان کی جانب سے تحفظات دور کرانے کی یقین دہانی پر واپس آگئے،کمیٹی نے فاٹا کے طلبہ کے کوٹے کا مسئلہ ایک ہفتے میں حل کرنے کی سفارش کر دی، کمیٹی نے پی ایم سی کو طلبہ کیلئے داخلوں کی تاریخ میں توسیع کی سفارش کر دی۔