کوئٹہ: سابق وزیراعلیٰ بلوچستان وچیف آف سراوان نواب محمد اسلم رئیسانی نے کہاہے کہ قبائلی نظام کی کمزوری سے ریاست کو نقصان ہوگا،بلوچستان کے مسائل پر جرگہ بلانے کیلئے اختیارات نہیں ہر سرداراور نواب اپنے اختیار اور ایجنڈے کے ساتھ آزاد ہے،خان آف قلات ہمارے بڑے ،اگر وہ جرگہ بلائیںگے تو ہم سب جائیںگے ،مسئلہ کشمیر کے ساتھ دنیا میں محکوم اقوام کو اقوام متحدہ کے چارٹرآف ڈیمانڈ کے مطابق حقوق دئیے جائیں۔
بلوچستان کے مسائل ریاست سے جڑے ہوئے ہیں ،قائداعظم کی تصویر کی طرح ان کے معاہدوں اور دستخط کو بھی اہمیت دینے کی ضرورت ہے ،تمام اداروں کوآئین میں متعین کردہ حدود میں رہ کرکام کرنے کی ضرورت ہے ۔ان خیالات کااظہار انہوں نے گزشتہ روز اپنے ایک انٹرویو میں کیا۔ سابق وزیراعلیٰ نے کہاکہ 2018ء کے انتخابات سے پہلے میں نے بلوچستان نیشنل پارٹی کے شہید منظور بلوچ جو میرے عزیز دوست تھے اتحاد ہوا۔
میں کسی کی حمایت یافتہ نہیں اسی انتخابات میں جمعیت علماء اسلام بھی اتحادی تھے اور جمعیت،بی این پی اور میں تینوں اتحادی تھے ،جمعیت کے ساتھ باقاعدہ تحریری معاہدہ ہوا تھا انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں قبائلی نظام ختم نہیں ہے اب بھی موجود ہے لیکن کمزور ہوگیاہے اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کی وجہ سے قبائل میں پسندہ شخصیات کو ابھارا جاتاہے ۔
ساراوان اور جھالاوان دونوں متاثر ہیں جو سردار تھے ہی نہیں انہیں سردار بنایاجارہاہے ،نام نہاد سردار جن کی تاریخی حوالے سے کوئی حیثیت نہیں جھالاوان اور ساراوان میں چھوٹے چھوٹے سردار بنے ہوئے ہیں جنہیں ہم سرکاری سردار کہتے ہیں ایک قبائلی ،ایک روایتی اور ایک سرکاری سردار ہیں ،انگریز کاایجنڈا تقسیم کرکے حکمرانی کرنا اسی ایجنڈے پر کاربند ہوکر وہی ایجنڈا اپنا یا گیاہے۔
جس سے ریاست کو نقصان پہنچ رہاہے ،قبائل کو تقسیم کرکے حکومت نہیں کی جاسکتی ،نام نہاد سردارآج جس کو زندہ باد کہہ رہے ہیں کل کو ان سے طاقت ور ملے تو وہ پھر ان کیلئے زندہ باد کانعرہ لگائیںگے ،اسٹیبلشمنٹ کو سمجھنے کی ضرورت ہے کسی بھی وقت جا سکتے ہیں گزشتہ 73سالوں میں یہ سلسلہ جاری ہے ،میں نے پہلے بھی گزارش کی کہ آئین کے تحت تعین کردہ حدودمیں تمام ادارے رہ کر کام کرے ۔
انہوں نے کہاکہ قبائلی جرگہ بلانا بہت مشکل کام ہے وہ اختیارات نہیں کہ سب کو کہوں کہ آئیں اور اس ایجنڈے پر کام کرے ،ہر سردار اپنے اختیار اور علاقے کے ساتھ آزاد ہے میں کسی پر زورنہیں دے سکتا خان آف قلات ہمارے بڑے ہیں انہوں نے جرگہ بلایا ہم سب گئے ،خان آف قلات اگر بھی جرگہ بلائیںگے تو ہم سب جائیںگے ،انہوں نے کہاکہ سیاسی جماعتیں طلباء کے مسائل اجاگر کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔
لیکن ان مسائل کو جن کے کانوں تک پہنچانے کی کوشش کررہے ہیں وہ کان سے بہرے اور اندھے ہیں بچے ہمارے ہیں اور کوئی بھی سیاسی جماعت اس پر خاموش نہیں رہ سکتا بحیثیت وزیراعلیٰ بلوچستان بہت کوشش کی کہ طلباء کو اسکالرشپس دلائوں سندھ ،پنجاب اور خیبرپشتونخوا کے حکام سے باقاعدہ بات چیت کی ،لیکن تعلیم سے زیادہ ڈیفنس پر اربوں روپے خرچ ہورہے ہیں 73سالوں میں کشمیر کامسئلہ حل نہیں ہوسکامسئلہ کشمیر حل ہوناچاہیے۔
دنیا میں جہاں بھی اقوام بستے ہیں اقوام متحدہ کے چارٹرآف ڈیمانڈ کے مطابق انہیں ان کا حق دیاجائے ،انہوں نے کہاکہ بلوچستان کے مسائل ریاست سے جڑے ہوئے ہیں اس وقت ریاست جن مسائل میں الجھاہواہے ان مسائل کے حل کی ضرورت ہے پھر چھوٹے مسائل خود حل ہوںگے ،بلوچستان کے مسائل کی حد تک دیکھاجائے تو خان آف قلات اور محمد علی جناح کے درمیان تحریرعمل میں آیا تھا۔
جس پر دونوں کے دستخط بھی موجود ہے نوٹ پر قائداعظم اور ہردفتر میں تصویر لگی ہوئی ہے اگر محمدعلی جناح سے پیار ہے تو ان کے دستخط کو بھی اتنی ہی اہمیت دینے کی ضرورت ہے اس پرعملدرآمد ہوناچاہیے بلکہ یہ میرا مطالبہ ہے۔