|

وقتِ اشاعت :   March 10 – 2021

مستونگ: نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل جان بلیدی مرکزی خواتین سیکرٹری میڈم یاسمین لہڑی مرکزی جوائنٹ سیکرٹری اسلم بلوچ بی ایس او پجار کے صوبائی صدر بابل ملک بلوچ ضلعی صدر نواز صوبائی وحدت کے جنرل سیکرٹری خیر بخش بلوچ اور دیگر رہنماوں نے کہاہیکہ آج بلوچستان کے خلاف ایک بار پھر سازش ہو رہے ہیں بلوچستان کو تقسیم کرنے اور بلوچستان کو ترقی کے نام پر نارتھ ساوتھ کے نام سے تقسیم کی سازش کا مقصد اقوام کو آپس میں دست و گریباں کرنا ہے۔

ہم ایسی ترقی ہرگز نہیں چاہتے جس ترقی سے اقوام کو آپس میں دست و گریباں ہوجائے نیشنل پارٹی عوام کے حقوق اور وسائل پر اختیار چا ہتے ہیں جس میں جمہوری آزادی ہو ووٹ کی عزت و تقدس بحال ہوعوام کی رائیکا احترام ہو،بلوچستان کے عوام کے سیاسی سماجی معاشرتی مفادات کے مطابق پالیسیاں مرتب ہوغیرسیاسی مداخلت سے ملک میں بدنام ہورہاہیں،سیاسی کارکنوں کو غیرسیاسی بنانے کی سازش کی جارہی ہیں۔

ایک طرف سے کہتے ہیں کہ لاپتہ افراد کامسئلہ حل کیاجائے گا تو دوسری طرف سے لاپتہ بلوچ سیاسی کارکنوں کو جعلی پولیس مقابلوں میں قتل کیاجارہاہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے پارٹی کے بانی رہنما مرحوم جہانگیر بلوچ کی برسی کی مناسبت سے مستونگ میں تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

تعزیتی ریفرنس سے مرکزی کمیٹی کی رکن میراں بخش بلوچ صوبائی ورکنگ کمیٹی کے رکن آغا فاروق شاہ میر سکندر ملازئی تحصیل صدر نثار مشوانی ظفر اقبال ظفر بلوچ اور دیگر نے بھی خطاب کیا ،مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل پارٹی نے ہمیشہ عوامی مفادات کی پالیسوں پر کھبی سمجھوتہ نہیں کیا اس لیئے ٹھپہ مار قوتوں کو ہمارے سامنے لاکر کھڑا کیا گیا اور جتوایا گیا۔

جب تک بلوچستان کے عوام کو سیاسی طور پر بااختیار نہیں بنایا جائیگا ہماری جدوجہد جاری رہیگا انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی اسمبلیوں میں وقار کے ساتھ رہا ہے اور اگر اسمبلیوں سے وقار سے کے ساتھ رخصت ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اس وقت جو متوازی حکومت قائم ہے اس سے کرپٹ عوام دشمن قوم دشمن جمہوریت دشمن مزدور دشمن حکومت تاریخ میں نہیں آئے اور اس حکومت کو سلیکٹرز نے اٹھارویں ترمیم کی خاتمے کے لیئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

دوسروں کی بیساکھیوں پر چلنے والے حکمرانوں کی وجہ سے پاکستان اس وقت دنیا میں بے وقعت ہوکر رہ گئی ہے ملک کے جہازوں کو قرضوں کے لیئے دوسرے ممالک میں گروی رکھ کر روکنا سلیکٹڈ حکمرانوں اور سلیکٹرز کے منہ پر طمانچہ کے مترادف ہے انہوں نے کہا کہ اس ملک میں جمہوریت کے ذریعے اگر بچانا ہیں تو ملک بسنے والے چاروں اقوام اور اکائیوں کے حقوق کو تسلیم کرنا ہوگا ۔

ایک قوم کو قبول کرنا دوسرے کو قبول نہ کرنے سے ملک کھبی ترقی نہیں کرسکتے جب تک اختیار نہیں ہوگا عوام کے رائے و فیصلے کے اختیار کو تسلیم نہیں کیاجاتا اس وقت تک نیشنل پارٹی جدوجہدکرتی رہیگی، انہوں نے کہا کہ موجودہ صوبائی نااہل حکومت تاریخ کا واحد کرپٹ نااہل عوام کے خلاف سازش ہے بدامنی عروج اقرباء پروری سیاسی مداخلت چیک پوسٹوں پر بھتہ خوری ان کا وطیرہ بن چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کا مسلہ سیاسی اس مسلے کو طاقت کے زریعے حل ممکن نہیں،بلوچستان کے مسلے کو لاٹھی و گولی کے زریعے حل کرنے کی کوشش سے مسائل میں مزید اضافہ ہورہاہیں،غیرسیاسی مداخلت سے ملک میں بدنام ہورہاہیں،سیاسی کارکنوں کو غیرسیاسی بنانے کی سازش کی جارہی ہیں،ایک طرف سے کہتے ہیکہ لاپتہ افراد کامسلہ حل کئاجائے گا تو دوسری طرف سے لاپتہ بلوچ سیاسی کارکنوں کو جعلی پولیس مقابلوں میں قتل کیاجارہاہیں۔

انہوں نے کہاکہ بلوچستان کا مسلہ سیاسی معاشی ہیں بوچستان کے مسلے کو طاقت کے زریعے حل ممکن نہیں،بلوچستان کے مسلے کو لاٹھی و گولی کے زریعے حل کرنے کی کوشش سے مسائل میں مزید اضافہ ہورہاہیں، انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام صحت تعلیم روزگار پینے کے پانی سمیت تمام بنیادی سہولیات سے محروم رکھاگیا،اور بلوچستان کے عوام پر مسلط کیاگیا۔

نیشنل پارٹی بلوچستان کے مظلوم و محکوم عوام کے حق و حقوق کی حصول اور ساحل وسائل پر بلوچستان کے لوگوں کا حق تسلیم کرنے کیلئے جدوجہد کررہی ہیں۔مقررین نے کہاکہ مستونگ میں ایک بار پھر امن و امان خراب کرنے کی سازش کی جارہی ہیں نااہل ڈی سی اور ضلعی انتظامیہ امن و امان بحال رکھنے میں بری طرح ناکام ہوچکھے ہیں چوری ڈکیتی دکانوں کو جلانے کے واقعات میں روز بروز اضافہ ہورہاہیں۔

جس کا سخت مزمت کرتے ہیں اور اہل آفیسران تعینات کئے جائے انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں اس وقت کینسر کے کیسز میں تشویشناک حد اضافہ ہو رہے ہیں جو کہ المیہ ہے اور موجودہ سلیکٹڈ صوبائی حکومت کے لیئے سوالیہ نشان ہے انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایف سی چیک پوسٹ لکپاس سمیت تمام چیک پوسٹوں کو ختم کیا جائے جو بھتہ خوری اور عوام کی تذلیل کے لیئے قائم کیئے گئے ہیں انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے تمام قومی شاہراہوں پر دورویہ کیا جائے ۔