کوئٹہ: نیشنل پارٹی کے صدر سابق وزیر اعلی بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے سینٹر میر کبیر محمد شہی کے اعزاز میں صوبائی جنرل سکریٹری خیربخش بلوچ کی جانب سے دیئے گئے عصرانے سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ میرحاصل خان بزنجو اور میر کبیر محمد شہی کی پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی تشکیل و جدوجہد میں نمایاں کردار رہا ہے بلوچستان کے اقابرین کی اصولوں پر مبنی سیاست کی وجہ سے ملک میں ایک عزت و احترام رہا ہے ۔
بلوچستان کی سیاست اب نادیدہ قوتوں کے ہاتھوں یرغمال ہے، سینٹ جیسے ادارے اب سیاستدانوں سے زیادہ کاروباری افراد کی گرفت میں ہیں، سینٹر میر کبیر محمد شہی نے میر حاصل خان بزنجو کے انتقال کے بعد جو سیاسی کردار ادا کیا وہ قابل تحسین ہیں انھوں نے کہاکہ میر کبیر محمد شہی، سینٹر طاہر خان بزنجو اور میر محمد اکرم دشتی ہمارے ہیرو اور قومی رہنما ہیں ان کی سیاست، کردار اور وابستگی پر ہمیں فخر ہے ۔
انھوں نے کہاکہ بلوچستان کے خلاف ایک سازش کے ذریعے ایک نئی غیر سیاسی نسل کو لایا جارہا ہے جس کو بلوچستان اور اس کے عوام کے مسائل سے کوئی سروکار نہیں۔ ان کا بلوچستان کے حقیقی سیاسی، قومی اور جمہوری تحریک سے کوئی سروکار نہیں، بلوچستان کے سیاسی چہرے کو مسخ کرنے کے لیے باقاعدہ پلانگ کے طور پر نئی سیاسی ہائی بریڈ متعارف کرائی جارہی ہے۔
سینٹر میر کبیر محمد شہی کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے مرکزی سیکریٹری جنرل جان محمد بلیدی، سینٹر میر طاہر بزنجو، سینٹر میر محمد اکرم دشتی، میر عبدالخالق بلوچ، میر خیربخش بلوچ، میر عطامحمد بنگلزئی، یاسمین لہڑی، رحمت صالح بلوچ، زبیراحمد بلوچ اور علی احمد لانگو نے بھی خطاب کیا اور آخر میں سینٹر میر کبیر محمد شہی نے تمام رہنماوں اور کارکنوں کا شکریہ ادا کیا جھنوں نے ان کی سینٹ میں کارکردگی کے حوالے سے سوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا میں ان کی کارکردگی کو سراہا جس سے انھیں مزید حوصلہ ملا۔
نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماؤں نے سینیٹ میں نمایاں کردار ادا کرنے پر سینٹر میر کبیر محمد شہی کو خراج تحسین پیش کیا اور کہاکہ انھوں نے بلوچستان کے عوام کے بنیادی مسائل کو بہت ہی خوبصورت اور جرات کے ساتھ اجاگر کیا انھوں نے بلوچستان کے عوام کے بنیادی سیاسی مسائل، امن و امان کی صورتحال، لاپتہ افراد کے مسائل، زمینداروں کے مسائل ، طلبا کے داخلوں اور اسکالرشپ، جعلی ڈومیسائل ، مستونگ کو گیس کی فراہمی، انٹرنیٹ کے مسائل۔
این ایف سی، اٹھارویں ترمیم کے خلاف سازشوں کو بے نقاب کیا، بلوچستان میں ہونے والے ناانصافی، جمہوریت کیاستحکام اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے حوالے سے ایک توانا آواز رہے۔ انھوں نے کہاکہ ہمیں فخر ہے کہ نیشنل پارٹی کے تمام سینٹرز کا انتہائی سنجیدہ رویہ رہاہے ہر قومی اور وطنی معاملے پر بلوچستان ان کے کردار کو ہمیشہ یاد رکھے گا انھوں نے کہاکہ کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ حالیہ سینٹ انتخاب میں جمعیت علماء اسلام کے علاوہ دیگر تمام نے غیر سیاسی اور کاروباری افراد کو منتخب کیا گیا جس سے بلوچستان کی سیاسی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا۔
انھوں نے کہاکہ میر جمہوریت سینٹر میر حاصل خان بزنجو بہت بڑے شخصیت کے مالک تھے ان کی بڑی پہچان تھی وہ بلوچستان اور صرف بلوچ کے لیڈر نہیں تھے بلکہ پاکستان کے قومی رہنماوں میں ان کا شمار ہوتا ہے۔
ان کی قیادت اور رہنمائی سے پارٹی کو ملک بھر عزت و احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے انھوں نے کہاکہ افسوسناک امر یہ ہے کہ اب سینٹ جیسے قومی ادارے کے تقدوس بلوچستان اور خیبر پشتونخواہ میں پامال کردیا گیا ہے اب کاروباری افراد نے منڈی لگادی ہے ایک ایک ارب روپے میں سینٹ کی ممبرشپ کی قیمت لگا دی گئی ہے۔