|

وقتِ اشاعت :   April 15 – 2021

کوئٹہ: ترجمان حکومت بلوچسان لیاقت شاہوانی کی پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ ملک بھر کورونا کی تیسری لہر کی لپیٹ میں ہےگزشتہ ایک ہفتے کے دوران کورونا کے کیسز میں زیادہ اضافہ ہوا ہےاب بچے بچوں میں بھی کورونا کے کیسز سامنے آرہے ہیںاوردیگر صوبوں کی نسبت بلوچستان میں کورونا کی پھیلاو کی شرح کم ہے

انہوں نے مزید کہا کہ ایکٹو کیسز کی شرح بھی 9% فیصد تک پہنچ گئی ہیں تعلیمی اداروں میں بھی کیسز سامنے آرہے ہیں سردار بہادر خان یونیورسٹی سمیت 4 اسکول بند کردیا گیا ہے پرائمری اسکولوں میں بھی کورونا ٹیسٹز میں اضافہ کردیا گیا ہے اگر تعلیمی اداروں میں کیسز میں اضافہ ہوا تو اسکول بند کیا جاسکتا ہے شاپنگ مال سمیت بازاروں میں ایس او پیز کا جائزہ لیا جارہا ہے

6 ماہ بعد کورونا کے کیسز 100 سے اوپر ہوئے ہیںعلماء کرام سے بھی گزارش کی ہے کہ ایس او پیز پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کیلئے تعاون کریںترجمان حکومت بلوچستان نے کہا کہ ایک مذہبی تنظیم کی جانب سے ملک بھر میں مظاہرے کیے گئے مذہبی تنظیم کی جانب سے انتشار پھیلنے کی کوشش کو ہم سب کو نظر انداز کرنا چاہئے وفاقی حکومت کی جانب سے ٹی ایل پی پر پابندی خوش آئند ہے۔ لوگوں کو مشتعل کرنے کا رحجان ہمارے ملک کے مفاد میں نہیں

جنوبی بلوچستان کیلئے 6 سو ارب روپے کا ہیکج دیا جارہا ہے پیکج سے جنوبی بلوچستان میں ترقی ہوگی جنوبی بلوچستان صوبہ بنانے کا قوم پرست جماعت کا تاثر غلط ہے نیا صوبہ بنانا آسان کام نہیں ہے سستا بازار ایک دو دن میں فعال ہوجائے گا سستابازار سے عوام کو ریلیف دینگے۔