پر امن رہنے کے تمام عالمی مطالبات کو نظر انداز کرتے ہوئے اسرائیل کی جانب سے غزہ کی محصور پٹی کے مختلف علا قوں پر فضائی حملوں اور گولہ بارود برسانے کا سلسلہ جاری ہے۔
برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فورسز اور حماس کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جمعہ کے روز پانچویں روز میں داخل ہوگیا ہے لیکن اس کے تھمنے کے کوئی آثار نہیں دکھ رہے۔
اسرائیلی فوج کی جانب سے رات گئے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ حماس کے راکٹس کے جواب میں اسرائیلی حملے جاری ہیں اور کوئی زمینی کارروائی نہیں ہورہی بلکہ فوجی اسرائیلی علاقے میں سے ہی گولہ بارود برسا رہے ہیں۔
دوسری جانب اسرائیل کے مختلف علاقوں میں بھی عربوں اور یہودیوں کے درمیان بھی تصادم کا سلسلہ دیکھنے میں آیا جبکہ لبنان کی جانب سے میزائل بھی فائر ہوئے۔
جمعہ کی رات غزہ میں آگ کا انتہائی بڑا گولا دیکھا گیا جس نے آسمان کو نارنجی رنگ میں بدل دیا جبکہ اسرائیل کی جانب اڑتے راکٹس بھی دیکھے گئے۔
قطری خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق کئی روز سے جاری اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں اب تک 115 فلسطینی جاں بحق ہوچکے ہیں جن میں 31 بچے بھی شامل ہیں جبکہ زخمی ہونے والوں کی تعداد 600 ہے۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ ان کا ملک مختلف صورتحال کے لیے تیار ہے جس میں زمینی حملہ بھی ایک صورت ہے۔
دوسری جانب غزہ میں اے ایف پی کے نمائندوں کا کہنا تھا کہ اسرائیلی حملوں کے باعث لوگ شمال مشرقی علاقے میں اپنے گھروں کو چھوڑ کر وہاں سے انخلا کررہے ہیں۔
فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ اس نے غزہ میں اب تک 600 سے زائد فضائی حملے کیے جبکہ محصور پٹی سے اب تک اسرائیل کی جانب ایک ہزار 750 راکٹس برسائے جاچکے ہیں جس میں سیکڑوں راکٹس کو آئرن ڈوم دفاعی نظام روک چکا ہے۔
علاوہ ازیں 3 راکٹس لبان کی سرزمین سے بھی فائر کیے گئے جو بحیرہ روم میں گرے، اسرائیل کی سخت حریف تنظیم حزب اللہ کے ذرائع کا کہنا تھا کہ اس واقعے کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں،