آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان ہفتے کو طے پانے والے امن معاہدے میں پاکستان نے اپنے مفاد کے لیے نیا موقع تلاش کرلیا ہے۔
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان امن معاہدے کا خیرمقدم کیا اور امید ظاہر کی کہ یہ پیش رفت تجارت اور علاقائی روابط کے نئے دروازے کھولے گی۔
پاکستان اس وقت 7 ارب ڈالر کے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت معاشی بحالی کی کوششوں میں مصروف ہے اور اپنی جغرافیائی اہمیت سے فائدہ اٹھا کر ٹرانزٹ ٹریڈ اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینا چاہتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کو اعلان کیا کہ آذربائیجان اور آرمینیا دہائیوں پرانے تنازُع کے بعد پائیدار امن کے لیے متفق ہو گئے ہیں۔ یہ اعلان وائٹ ہاؤس میں دونوں ممالک کی قیادت کے درمیان دستخطی تقریب کے موقع پر کیا گیا۔
اس اعلان کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے ایکس پر اپنے پیغام میں کہا، ’ہم صدر الہام علییف اور عوامِ آذربائیجان کو اس تاریخی معاہدے پر مبارک باد پیش کرتے ہیں، جو خطے کے پرامن مستقبل کی جانب دانش مندی اور بصیرت کا مظہر ہے۔‘
وزیراعظم پاکستان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کردار کو بھی سراہا جنہوں نے دونوں فریقین کو قریب لانے اور اس معاہدے کو ممکن بنانے میں مدد فراہم کی۔
عیسائی اکثریتی ملک آرمینیا اور مسلم اکثریتی ملک آذربائیجان کے درمیان سرحدی تنازعات اور نسلی بستیوں کے حوالے سے طویل کشیدگی رہی ہے۔ دونوں ممالک دو مرتبہ متنازع کاراباخ خطے پر جنگ لڑ چکے ہیں، جسے آذربائیجان نے 2023 میں ایک آپریشن کے بعد واپس حاصل کرلیا تھا۔
صدر ٹرمپ کے مطابق معاہدے کے تحت دونوں ممالک ہمیشہ کے لیے جنگ بند کرنے، تجارت، سفر اور سفارتی تعلقات بحال کرنے اور ایک دوسرے کی خودمختاری و علاقائی سالمیت کا احترام کرنے پر متفق ہو گئے ہیں۔