|

وقتِ اشاعت :   August 11 – 2025

لاہور ہائی کورٹ میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی رہنما زرتاج گل کی 9 مئی کے مقدمات میں سزائوں کے خلاف اپیلوں پر بطور اعتراض سماعت کے دوران چیف جسٹس مس عالیہ نیلم نے درخواست گزار کو پیش کرنے کی ہدایت کر دی۔

 چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے سماعت کی، دوران سماعت چیف جسٹس مس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیے کہ زرتاج گل کو پہلے پیش کریں، پھر اپیل سنیں گے۔

عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ لاہور ہائی کورٹ کے رجسٹرار آفس نے بھی زرتاج گل کی سزا کے خلاف اپیلوں پر اعتراض عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ زرتاج گل سزا یافتہ ہیں، پہلے سرنڈر کریں، سرنڈر کیے بغیر اپیل قابل سماعت نہیں۔

زرتاج گل نے سینئر قانون دان میاں محمد حسین چوٹیا اور بیرسٹر علی ظفر کی وساطت سے اپیلیں دائر کی ہیں۔

فیصل آباد میں واقع انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت (اے ٹی سی) کے 9 مئی کے مقدمات میں 3 فیصلوں کے خلاف 3 الگ الگ اپیلیں دائر کی گئی ہیں، تینوں اپیلوں پر رجسٹرار آفس کی طرف سے زرتاج گل کے سرنڈر نہ کرنے کا اعتراض لگایا گیا ہے۔

اے ٹی سی فیصل آباد کے جج نے پی ٹی آئی رہنما زرتاج گل کو 3 الگ الگ مقدمات میں 10، 10 سال قید کی سزا سنا رکھی ہے۔

اعجاز چوہدری کی سزا کیخلاف اپیل پر سماعت

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اعجاز چوہدری کی 9 مئی کے مقدمے میں سزا کے خلاف اپیل پر سماعت کے دوران لاہور ہائی کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے نوٹس جاری کر دیے۔

اعجاز چوہدری نے وکیل میاں علی اشفاق اور رانا معروف ایڈووکیٹ کی وساطت سے اپیل دائر کی، جس پر چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے سماعت کی۔

اپیل کنندہ کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ٹرائل کورٹ نے حقائق کے برعکس شیر پاؤ پل پر ہنگامہ آرائی کے مقدمے میں سزا سنائی، عدالت 10 سال کی سزا کالعدم قرار دیکر رہا کرنے کا حکم دے۔