کوئٹہ : چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی زیر صدارت کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کانفرنس منعقد ہوا جس میں آؤٹ آف سکول بچوں کا داخلہ مہم کو کامیاب، عوام کی معیار زندگی بہتر بنانے، ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی، غیر قانونی تارکین وطن کی واپسی، محکمہ تعلیم میں عارضی بنیادوں پر تعیناتیاں اور سمیت متعدد اہم امور کا جائزہ لیا گیا۔
ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات ذاہد سلیم، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ محمد حمزہ شفقات کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ چیف سیکرٹری نے آؤٹ آف سکول بچوں کے داخلہ مہم کو کامیاب بنانے کے لئے تمام کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اپنی اخلاقی اور قومی ذمہ داری سمجھیں اور ہر حال میں مہم کو کامیاب بنائیں۔
2 لاکھ 60 ہزار بچوں کا داخلہ مکمل کرنا ہے۔ آؤٹ آف سکول بچوں کی شرح کم کرنے کے لیے گھر گھر جا کر سروے اور اندراج کا عمل تیز کیا جائے۔ آفیسران کو ہدف پورا کرنے کی ہر ممکن کوشش کرنے کی تاکید کی گئی تاکہ تعلیم کا حق سب کو مل سکے اور صوبائی حکومت نے غیر خواندہ بڑوں کی تعلیم کے فروغ کے لیے جدید دور کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک وسیع پیمانے پر“اڈلٹ لٹریسی پروگرام”شروع کررہی ہے جس کا بنیادی مقصد 10 سال سے زائد عمر کے بچوں کو پڑھنے اور لکھنے کی بنیادی صلاحیتیں فراہم کرنا ہے جو اسکول سسٹم سے باہر رہ کر گزرے ہیں۔ اس کے ذریعے تعلیمی خلا کو کم کرنا، معاشی خود مختاری بڑھانا اور معاشرے میں مثبت تبدیلی کو فروغ دینا ہے۔ اجلاس کو ترقیاتی منصوبوں سے متعلق بتایا گیا کہ کل 3020 سکیموں میں سے 1683 منصوبے مکمل ہو چکے ہیں، جبکہ باقی منصوبوں پر بھی تیز رفتاری سے کام جاری ہے۔
چیف سیکرٹری نے 100 فیصد ترقیاتی منصوبوں کے دورے اور نگرانی پر 13 اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کے کارکردگی کو سراہا۔ انہوں نے محکمہ تعلیم اور صحت میں عارضی بنیادوں پر تعیناتیوں کو مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے پوست کی کاشت تلف کرنے کے عمل کو مزید سخت کرنے کے احکامات جاری کیے تاکہ صوبے کو اس لعنت سے نجات دلائی جائیں۔ اس موقع پر اجلاس کو بتایا گیا کہ ابھی تک 95 فیصد سے زیادہ اراضی کو تلف کیا گیا ہے جبکہ 140 افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کئے جا چکے ہیں۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ باقی ماندہ پوست کی کاشت کو تلف کیا جائیگا اور ملوث افراد کے خلاف کارروائی مزید سخت کی جائے گی۔
چیف سیکرٹری نے تاکید کی کہ عوام کو سرکاری نرخوں پر اشیاء خوردونوش ہر صورت دستیاب ہوں، اور مہنگائی روکنے کے لیے سخت نگرانی کی جائے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ کھلی کچہریوں میں درج ہونے والی تمام شکایات پر فوری عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
خاص طور پر پینے کی پانی کی فراہمی، تعلیمی اور صحت کی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ بی ایس ڈی آئی سکیموں میں مذکورہ مسائل کے حل پر توجہ دیں۔
Leave a Reply