امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل، 7 اپریل کو خبردار کیا ہے کہ اگر ایران آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے دی گئی آدھی رات کی ڈیڈ لائن پر عمل نہیں کرتا تو “ایک پوری تہذیب تباہ ہو جائے گی”۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب تہران نے دعویٰ کیا کہ امریکا اور اسرائیل پہلے ہی اس کے بنیادی ڈھانچے پر حملے شروع کر چکے ہیں۔
بوداپیسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکا کے پاس ایسے “اختیارات موجود ہیں جنہیں اب تک استعمال کرنے کا فیصلہ نہیں کیا گیا”، تاہم انہوں نے مزید تفصیل نہیں بتائی۔ بعد ازاں وائٹ ہاؤس نے وضاحت کی کہ وینس کا اشارہ جوہری ہتھیاروں کی طرف نہیں تھا، جبکہ پریس سیکریٹری کیرو لائن لیوٹ نے اے ایف پی کو جاری بیان میں کہا کہ “صرف صدر ہی جانتے ہیں کہ صورتحال کہاں کھڑی ہے اور وہ کیا اقدام کریں گے۔”
یہ بیانات اس وقت سامنے آئے جب ایران نے اطلاع دی کہ امریکا اور اسرائیل نے اس کے اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھی ریلوے لائنوں اور پلوں پر حملوں کی تصدیق کی، جن کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ انہیں ایرانی پاسدارانِ انقلاب استعمال کر رہے تھے۔
اس سے قبل ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ اگر کوئی معاہدہ نہ ہوا تو ایران کے اہم انفراسٹرکچر، خصوصاً پلوں اور بجلی گھروں، کو مکمل طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ تاہم ڈیڈ لائن ختم ہونے سے چند گھنٹے پہلے ہی اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ ایران بھر میں “انفراسٹرکچر مقامات” پر وسیع حملوں کی ایک لہر مکمل کر لی گئی ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں ٹرمپ نے اپنی وارننگ مزید سخت کرتے ہوئے لکھا کہ اگر ایران نے معاہدہ نہ کیا تو “آج رات ایک پوری تہذیب ختم ہو جائے گی، جو دوبارہ کبھی واپس نہیں آئے گی۔ میں ایسا نہیں چاہتا، لیکن شاید ایسا ہو جائے۔”
Leave a Reply