|

وقتِ اشاعت :   September 24 – 2019

اسلام آباد اور آزاد کشمیر سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں زلزلے سے کم از کم 4 افراد جاں بحق جب کہ 76 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

زلزلہ 4 بج کر 2 منٹ پر ہوا جس کی وجہ سے سب سے زیادہ تباہی کے اطلاعات آزاد کشمیر کے علاقے میرپور سے ملی ہیں جہاں 80 افراد زخمی ہوئے جنہیں اسپتال منتقل کردیا گیا۔

نمائندہ جیو نیوز کے مطابق زخمیوں میں سے 4 افراد دم توڑ گئے ہیں۔

میرپور کے علاقے جاتلاں میں سڑکیں مکمل طور پر ٹوٹ گئی ہیں اور متعدد گاڑیاں بھی الٹ گئی۔

میرپور کے علاقے جاتلاں سے جیو نیوز کو ملنے والی تصاویر میں تباہی کو دیکھا جا سکتا ہے۔

ڈپٹی کمشنر میر پور آزاد کشمیر راجہ قیصر نے زلزلے نتیجے میں ایک خاتون کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ بڑی تعداد میں لوگ زخمی بھی ہیں تاہم ان کی تعداد کے بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا،،

راجہ قیصر کا کہناتھا کہ این ڈی ایم اے اور پی ڈی ایم اے اور دیگر ریسکیواداروں نے اپنا کام شروع کردیا ہے اور نقصانات کے حوالے سے معلومات اکٹھی کی جارہی ہیں۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی پاک فوج کو فوری طورپر میر پور میں زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کمک پہنچانے کی ہدایت کی ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چيف کی ہدایت پر سول انتظامیہ کی مدد کے لیے آرمی کے دستے اور میڈيکل اسٹاف روانہ کردیا گيا ہے۔

چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹنٹ جنرل محمد افضل کا کہنا ہے کہ زلزے کا مرکز جہلم اور میرپور کا علاقہ تھا، زلزے میں ایک بچی شہید ہوئی ہے جب کہ 50 سے زائد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ 

انہوں نے بتایا کہ جن علاقوں میں زیادہ نقصان ہوا ہے وہ دور دراز کے علاقے نہیں ہیں،بہت جلد وہاں امدادی کارروائیاں شروع کردی جائیں گی جب کہ متعدد علاقوں میں سویلین انتظامیہ کی جانب سے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

میر پور میں تباہی کے مناظر
 

آزاد کشمیر میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی 

وزیراطلاعات آزاد کشمیر مشتاق منہاس کا کہنا ہے کہ زلزلے کے بعد آزاد کشمیر میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے اور وزیراعظم آزاد کشمیر فاروق حید رنے اپنا دورہ ملتوی کردیا ہے اور وہ خود امدادی کارروائیوں کی نگرانی کررہے ہیں۔

زلزلے کا مرکز جہلم کا شمالی علاقہ تھا

زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت 5.8 ریکارڈ کی گئی اور اس کا مرکز جہلم سے 5 کلو میٹر شمال کی طرف تھا جب کہ گہرائی زیر زمین 9 کلو میٹر تھی۔

پنجاب میں خوشاب، سرگودھا، فیصل آباد، گوجرانوالہ، میانوالی، منڈی بہاؤالدین، ملتان، اوکاڑہ، قصور، خانیوال، گجرات، کامونکی، مریدکے، شیخوپورہ،  ننکانہ صاحب، ساہیوال، پتوکی، چونیاں، پاکپتن، دیپالپور، حجرہ شاہ مقیم، نارنگ منڈی اور سیالکوٹ میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں جب کہ میرپور آزاد کشمیر، بھمبھر میں بھی جھٹکے محسوس کیے گئے۔

اس کے علاوہ خیبرپختونخوا میں پشاور، چارسدہ، سوات، خیبر، ایبٹ آباد، باجوڑ، نوشہرہ، مانسہرہ،بٹ گرام، تورغر، شانگلہ، بونیر، دیر،اپر دیر، لوئر،چترال، مالاکنڈ اور کوہستان میں بھی زلزلے کی جھٹکے محسوس کیے گئے۔

زلزلے کے جھٹکے 15 سے 20 سیکنڈ تک محسوس کیے گئے تاہم اس کے نتیجے میں فوری طور پر کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

زلزلے کے باعث لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ گھروں سے باہر نکل آئے۔

یاد رہے کہ آٹھ اکتوبر 2005 کی صبح آزاد کشمیر میں آنے والے زلزلہ نے آزاد کشمیر اور شمالی علاقوں کو اس بری طرح جھنجوڑا کہ 80000 انسان لقمہ اجل بن گئے جب کہ ڈیڑھ لاکھ کے لگ بھگ لوگ زخمی ہوئے۔

2005 میں سات اعشاریہ چھ شدت کےاس زلزلہ کا مرکز مظفرآباد سے بیس کلومیٹر شمال مشرق میں تھا ابتدائی نقصان کا تخمینہ تقریبا 124ارب روپے لگایا گیا۔